Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگلی حیات کی افزائش: نیوم نیچر ریزرو میں دھاری دار ہائینا کی پہلی پیدائش

یہ دوبارہ آباد کاری  کے پروگراموں میں ایک اور اہم سنگ میل ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف نے کہا ہے کہ نیوم نیچر ریزرو میں ہائینا کے دو جوڑوں کی آبادکاری کے بعد دھاری دار ہائینا کے پہلی بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ پیدائش اس بات کا ثبوت ہے کہ ہائینا کے جوڑے ریزرو کے ماحول میں ڈھل گئے ہیں اور ریزرو میں افزائش نسل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
 یہ اقدام نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے جنگلی حیات کی افزائش اور دوبارہ آباد کاری  کے پروگراموں میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔ ان پروگراموں میں فطری انواع کی افزائش اور دوبارہ آباد کاری ہے جس میں شکاری جانور شامل ہیں جن کا مقصد قدرتی ماحولیاتی نظام میں ان کے فطری کردار کو بحال کرنا ہے۔
 دھاری دار ہائینا کے دو جوڑے منتخب کرکے انہیں نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے جنگلی حیات کی دیکھ بھال کے ایک مرکز میں بحالی کے پروگرام سے گزارا گیا۔
اس پروگرام میں ویٹرنری معائنہ، صحت کی نگرانی اور انہیں جنگلی ماحول میں منتقل کرنے کی تیاریاں شامل تھیں۔
نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کی ایک خصوصی ٹیم نے اس مقام کا فیلڈ سروے بھی کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ جگہ ان جانوروں کی واپسی اور ان کی ضرورت کے مطابق ماحولیاتی طور پر موزوں ہے۔

بعد ازاں انہیں نیوم کے ریزرو میں منتقل کیا گیا اور محفوظ مقامات پر چھوڑا گیا، ان کی مسلسل نگرانی کی گئی، مانیٹرنگ کے دوران اگست میں پہلی مرتبہ مادہ ہائینا کو بچے کے ہمراہ اپنے مسکن سے باہر آتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا۔
سینٹر کے سی ای او ڈاکٹر محمد قربان نے کہا ان جوڑوں کو دوبارہ آباد کاری کے بعد دھاری دار ہائینا کی پہلی پیدائش سینٹر کے جنگلی حیات کی افزائش اور دوبارہ آباد کاری پروگراموں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جانوروں کو ان کے قدرتی مسکن میں دوبارہ منتقل کرنا، ایسی آبادی قائم کرنے کے ایک جدید مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جو جنگلی ماحول میں زندہ رہنے، افزائش نسل کرنے اور اپنے ماحولیاتی کردار کو بحال کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہو۔
دھاری دار ہائینا مردار جانوروں کی باقیات کھا کر ماحولیاتی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے تاہم شکار اور زہرخورانی جیسے مختلف خطرات کی وجہ سے ان کی تعداد قدرتی علاقوں کے کچھ حصوں میں کم ہوئی ہے۔

 

شیئر: