Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی کو تہران سے ہو گا

مجتبیٰ خامنہ ای 8 مارچ کو ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہوئے تھے اور وہ تاحال عوامی سطح پر کہیں نظر نہیں آئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے سابق رہبرِ اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات 4 جولائی کو تہران میں شروع ہوں گی اور 9 جولائی کو شمال مشرقی شہر مشہد میں تدفین کے ساتھ اختتام پذیر ہوں گی۔
اس بات کا اعلان سنیچر کو ایران کے سرکاری میڈیا پر کیا گیا۔ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
رپورٹ کے مطابق جس فضائی حملے میں وہ مارے گئے، اس سے تہران میں واقع ان کا مرکزی کمپاؤنڈ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس حملے میں ان کے 56 سال کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے جبکہ ان کی اہلیہ کی جان چلی گئی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کے سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے جانشین کے طور پر منتخب کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق سپریم لیڈر کی تدفین کی تقریبات میں 7 جولائی کو تہران کے جنوب میں واقع مذہبی اہمیت کے حامل شہر قُم میں ہونے والی رسومات بھی شامل ہوں گی۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے سابق رہبرِ اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کرنے میں تاخیر ہوئی ہے۔
اپنے دور میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کو امریکہ مخالف قوت میں تبدیل کیا۔
انہوں نے لبنان میں حزب اللہ جیسی اتحادی تنظیموں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے فوجی اثرورسوخ میں اضافہ کیا، جبکہ ملک کے اندر احتجاج اور بے چینی کی مختلف تحریکوں کو سختی سے دبا دیا۔
اُن کے جانشین کے طور پر ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای 8 مارچ کو ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہوئے تھے اور وہ اس وقت سے تاحال عوامی سطح پر کہیں نظر نہیں آئے۔

شیئر: