Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخوں کا اعلان، 12 سے 14 مارچ تک میلہ سجے گا

رواں برس 6 سے 8 فروری 2026 تک تین روزہ بسنت منائی گئی تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے لاہور میں بسنت 2027 کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سال بسنت کا تہوار 12، 13 اور 14 مارچ کو منایا جائے گا۔
مریم نواز نے منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بسنت 2026 کی کامیاب واپسی کے بعد وہ لاہور میں بسنت 2027 کا اعلان کرتے ہوئے خوشی اور فخر محسوس کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ سال لاہور ایک مرتبہ پھر رنگوں، ثقافت، تہوار، موسیقی، جوش و خروش اور اپنی روایتی مہمان نوازی سے بھر جائے گا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبے اور پاکستان کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جشن ان کے لیے ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس موقع پر اکٹھے ہوں، یادیں بنائیں اور اپنی توانائی اور جذبے سے لاہور کو مزید روشن کریں۔
مریم نواز نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی مہمانوں کو بھی بسنت 2027 میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کیلنڈر میں 12 سے 14 مارچ کی تاریخیں درج کرلیں اور لاہور کے رنگوں، گرمجوشی اور تہوار میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ان مہمانوں کی منتظر ہوں گی، لاہور بھی ان کا منتظر ہوگا اور پاکستان بھی ان کے استقبال کے لیے تیار ہوگا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے امید ظاہر کی کہ سب مل کر بسنت 2027 کو بھی ایک بڑی کامیابی بنائیں گے اور اسے ایک ایسا یادگار جشن بنائیں گے جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخ 12 سے 14 مارچ مقرر کی گئی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

دو دہائیوں بعد 2026 میں بسنت کی واپسی
لاہور میں تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد رواں برس فروری میں بسنت کا تہوار دوبارہ منعقد کیا گیا تھا۔ 6 سے 8 فروری 2026 تک جاری رہنے والے تین روزہ تہوار کے دوران لاہور خصوصاً اندرون شہر کی چھتیں رنگ برنگی پتنگوں سے سج گئی تھیں، جبکہ شہر میں موسیقی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے جشن کا ماحول دیکھنے میں آیا۔
پنجاب حکومت نے بسنت کی بحالی کے ساتھ شہریوں کی حفاظت کے لیے سخت حفاظتی ضوابط بھی نافذ کیے تھے۔ دھاتی اور خطرناک ڈور کے استعمال پر پابندی برقرار رکھی گئی، جبکہ پتنگوں اور ڈور کی فروخت کے لیے رجسٹریشن اور قابلِ سراغ نظام متعارف کرایا گیا تھا۔

پاکستان میں بسنت پر دو دہائی بعد پابندی ہٹائی گئی تھی اور تہوار کے انعقاد سے قبل سخت قوائد و ضوابط متعارف کروائے گئے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

موٹر سائیکل سواروں کو پتنگ کی ڈور سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے حفاظتی راڈز لگانا بھی ضروری قرار دیا گیا تھا۔
بسنت پر تقریباً دو دہائیوں سے عائد پابندی خطرناک ڈور کے باعث پیش آنے والے حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد عائد کی گئی تھی۔ تاہم 2026 میں پنجاب حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات اور قواعد و ضوابط کے تحت اس ثقافتی تہوار کی دوبارہ اجازت دی۔
بسنت 2027 کے لیے مزید حفاظتی اقدامات
بسنت 2027 سے قبل پنجاب حکومت نے پتنگ بازی کے حوالے سے مزید قواعد و ضوابط بھی وضع کیے ہیں، جن پر عمل درآمد کے لیے 30 دسمبر 2026 کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
نئے قواعد کا مقصد پتنگ بازی کے دوران شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور تہوار کے انعقاد کو محفوظ، منظم اور قانون کے مطابق بنانا ہے۔ ان ضوابط کی پابندی شہریوں، عمارتوں کے مالکان اور تقریبات کے منتظمین کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے۔
رواں برس بسنت کی کامیاب بحالی کے بعد لاہور انتظامیہ نے بھی آئندہ سال کے تہوار کے لیے خصوصی انتظامات اور شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے۔
بسنت پنجاب خصوصاً لاہور کی قدیم ثقافتی روایت ہے، جس میں پتنگ بازی، موسیقی اور مختلف روایتی تقریبات کے ذریعے موسم بہار کی آمد کا جشن منایا جاتا ہے۔

شیئر: