پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے لاہور میں بسنت 2027 کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سال بسنت کا تہوار 12، 13 اور 14 مارچ کو منایا جائے گا۔
مریم نواز نے منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بسنت 2026 کی کامیاب واپسی کے بعد وہ لاہور میں بسنت 2027 کا اعلان کرتے ہوئے خوشی اور فخر محسوس کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں
-
لاہور میں 20 سال بعد بسنت: ’اب یادوں کی پٹاری کھل چکی تھی‘Node ID: 900562
انہوں نے کہا کہ آئندہ سال لاہور ایک مرتبہ پھر رنگوں، ثقافت، تہوار، موسیقی، جوش و خروش اور اپنی روایتی مہمان نوازی سے بھر جائے گا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبے اور پاکستان کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جشن ان کے لیے ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس موقع پر اکٹھے ہوں، یادیں بنائیں اور اپنی توانائی اور جذبے سے لاہور کو مزید روشن کریں۔
BIG ANNOUNCEMENT FOR PAKISTAN & THE WORLD!
After successful Basant 2026, I am proud and happy to announce Basant Lahore 2027!
12, 13 & 14 March 2027
Lahore will once again come alive with color, culture, festivity, music, energy and legendary hospitality. pic.twitter.com/Tx7WGGeEKs
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) August 18, 2026
مریم نواز نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی مہمانوں کو بھی بسنت 2027 میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کیلنڈر میں 12 سے 14 مارچ کی تاریخیں درج کرلیں اور لاہور کے رنگوں، گرمجوشی اور تہوار میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ان مہمانوں کی منتظر ہوں گی، لاہور بھی ان کا منتظر ہوگا اور پاکستان بھی ان کے استقبال کے لیے تیار ہوگا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے امید ظاہر کی کہ سب مل کر بسنت 2027 کو بھی ایک بڑی کامیابی بنائیں گے اور اسے ایک ایسا یادگار جشن بنائیں گے جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

دو دہائیوں بعد 2026 میں بسنت کی واپسی
لاہور میں تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد رواں برس فروری میں بسنت کا تہوار دوبارہ منعقد کیا گیا تھا۔ 6 سے 8 فروری 2026 تک جاری رہنے والے تین روزہ تہوار کے دوران لاہور خصوصاً اندرون شہر کی چھتیں رنگ برنگی پتنگوں سے سج گئی تھیں، جبکہ شہر میں موسیقی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے جشن کا ماحول دیکھنے میں آیا۔
پنجاب حکومت نے بسنت کی بحالی کے ساتھ شہریوں کی حفاظت کے لیے سخت حفاظتی ضوابط بھی نافذ کیے تھے۔ دھاتی اور خطرناک ڈور کے استعمال پر پابندی برقرار رکھی گئی، جبکہ پتنگوں اور ڈور کی فروخت کے لیے رجسٹریشن اور قابلِ سراغ نظام متعارف کرایا گیا تھا۔












