Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپریم کورٹ کا سابق وزیرِاعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
منگل کو اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِاعظم عمران خان کے علاج سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ہسپتال انتظامیہ کو ان کے معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
سپریم کورت نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ ہسپتال منتقلی کے دوران سخت سکیورٹی کے تمام اقدامات کیے جائیں تاکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔
طبی صورتحال اور میڈیکل ریکارڈ طلب
اس موقع پر جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ کیا جیل میں انجیوگرافی ہو سکتی ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ یہ طریقہ کار باہر کے ہسپتال ہی میں ممکن ہے۔
اہلِ خانہ سے ملاقاتیں اور بنیادی حقوق
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور بچوں سے گزشتہ تین سال کے دوران کروائی گئی ملاقاتوں کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا۔
جسٹس شاہد وحید نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے اور ریاست کو قانون کی خلاف ورزی سے گریز کرنا چاہیے۔‘
پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے استدعا کی کہ سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ کو ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔
علاج پر سیاست نہ کرنے اور بیانِ حلفی کا حکم
عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج اور ان کی طبی حالت پر کسی صورت سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
وکلاء کی جانب سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہ کرنے کی ضمانت پر عدالت نے حکم دیا کہ اس سلسلے میں پی ٹی آئی اور فیملی کی طرف سے باضابطہ بیانِ حلفی جمع کرایا جائے۔
مقدمات کی تفصیلات اور سماعت کا التواء
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف تمام زیرِ التواء مقدمات، سزا یافتہ کیسز اور معطل ہونے والی سزاؤں کی مکمل تفصیل طلب کر لی ہے۔
اس کے علاوہ اڈیالہ جیل حکام کو بھی آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

شیئر: