Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں لانگ مارچ، ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز پر بغاوت کا مقدمہ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود حال ہی میں پابندی کا شکار ہونے والی ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ نے دیگر اضلاع سے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب اپنے طے شدہ لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں گزشتہ چند روز کے دوران سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے پرتشدد ٹکراؤ میں 11 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انٹرنیٹ سروسز معطل کر رکھی ہیں۔
منگل کی صبح سے کشمیر کے اضلاع بھمبر، کوٹلی، میرپور اور نیلم سے مظاہرین کے قافلوں نے مظفرآباد کی جانب مارچ شروع کیا اور بعض مقامات پر سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔
دارالحکومت مظفرآباد میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ مظفرآباد کے مقامی صحافی شاہ زیب افضل نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’شہر میں مکمل سناٹا ہے۔ دکانیں بند ہیں اور سڑکوں پر بھی بہت کم افراد ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیاں گشت کر رہی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ صبح مظفرآباد کے علاقے مانک پائیاں میں پولیس نے کچھ مظاہرین پر شیلنگ کی تھی تاہم شہر میں کسی بڑی جھڑپ کی اطلاع نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’نیلم سے مظاہرین شاردا تک پہنچے ہیں اور شاید مظفرآباد کے مظاہرین باہر نکلنے کے لیے نیلم اور جہلم کے قافلوں کے پہنچنے کے منتظر ہیں۔
کشمیر کے ضلع کوٹلی میں منگل کی صبح مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں اور مقامی صحافی مبشر چوہدری نے بتایا کہ خدشہ ہے کہ اس واقعے میں چند ہلاکتوں کے علاوہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، تاہم ان کے بقول سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
اردو نیوز نے ایس پی کوٹلی سے رابطے کی کوشش کی تاہم ان سے بات نہ ہو سکی۔
صحافی مبشر چوہدری نے مزید بتایا کہ ’میرپور اور کوٹلی کے مظاہرین کا مارچ اس وقت پونچھ ڈویژن کے قریب پہنچ چکا ہے، انٹرنیٹ سروسز نہ ہونے کی وجہ سے مارچ کی درست لوکیشن بتانا مشکل ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں احتجاجی تحریکوں کا مرکز سمجھا جانے والا شہر راولاکوٹ چھ اور سات جون کی شدید جھڑپوں اور ہلاکتوں کے بعد آج لانگ مارچ کے پہلے دن نسبتاً پرامن ہے۔
راولاکوٹ میں مقیم سینیئر صحافی حارث قدیر نے اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ’شہر میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ کوئی دکان کھلی نہیں ہے۔ سڑکوں پر پولیس گشت کر رہی ہے اور شہر میں کہیں بھی لوگ جمع نہیں ہیں البتہ نواحی دیہاتوں میں مظاہرین کے جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔
رہنماؤں کی گرفتاری پر خطیر رقم کا اعلان
منگل کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چار سرکردہ رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے پر خطیر رقم بطور انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان کی گرفتاری کے لیے معلومات دینے والے کو ایک ، ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔
شوکت نواز میر پر بغاوت کا مقدمہ درج
حکومتی اقدامات کے سلسلے میں ایک بڑی قانونی پیش رفت منگل کو اس وقت سامنے آئی جب دارالحکومت مظفرآباد کے تھانہ سٹی میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کے خلاف ’بغاوت‘ کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
منگل 9 جون کی دوپہر درج کی جانے والی اس ایف آئی آر میں ’آزاد کشمیر پینل کوڈ‘ کی دفعہ 124-A شامل کی گئی ہے جو کہ ریاست کے خلاف بغاوت اور اشتعال انگیزی کے جرائم سے متعلق ہے۔
کشمیر کے محکمہ داخلہ (ہوم ڈپارٹمنٹ) کی مدعیت میں درج ہونے والے اس مقدمے کے متن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شوکت نواز میر نے اپنی حالیہ تقریروں، تحریروں، مطبوعات اور الیکٹرانک مواصلات (سوشل میڈیا) کے ذریعے مبینہ طور پر ایسے اقدامات کیے ہیں جو بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں۔
متن کے مطابق حکومت نے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 196 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایس ایس پی مظفرآباد کو اس معاملے کی فوری تفتیش اور متعلقہ عدالت میں چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اس سے قبل سات جون کی شام قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دارالحکومت مظفرآباد سمیت مختلف شہروں سے ایکشن کمیٹی کے متعدد کارکنان کو حراست میں لیا اور مظفرآباد میں کمیٹی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مار کر اسے سیل کر دیا تھا۔
مذاکرات کی ناکامی سے پرتشدد جھڑپوں تک
خطے میں حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب 31 مئی کو ایکشن کمیٹی اور اسلام آباد کی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے درمیان مظفرآباد میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے۔
مذاکرات کے دوران فریقین کے درمیان بنیادی ڈیڈلاک پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مظفرآباد کی قانون ساز اسمبلی میں مخصوص 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ ہے۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد جہاں ایکشن کمیٹی نے 9 جون کے لانگ مارچ کی تیاریاں جاری رکھیں، وہیں کشمیر الیکشن کمیشن نے خطے میں عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا اور حکومت نے ایکشن کمیٹی کو باقاعدہ کالعدم قرار دے دیا۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب 5 جون کی رات کو راولاکوٹ کے قریب ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن سردار عمر نذیر اور ان کے ساتھی سردار شاہ زیب حبیب کے فائرنگ سے زخمی ہونے کا واقعہ پیش آیا۔
فائرنگ کے اس واقعے میں شاہ زیب حبیب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ شاہ زیب حبیب کی موت کے بعد مظاہرین نے سی ایم ایچ راولاکوٹ کے باہر لاش رکھ کر دھرنا دیا اور 6 جون کی رات سے پونچھ ڈویژن میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال شروع کر دی۔
سات اور 8 جون کی درمیانی شب راولاکوٹ میں سکیورٹی اداروں اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں ہوئیں جن میں 11 سے زائد ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں جن میں چار سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
راولاکوٹ کے واقعے کے بعد پولیس کے ترجمان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ’کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی فائرنگ کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار شہید جبکہ 20 سے زائد پولیس اور سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
مہاجرین کی نشستوں پر سپریم کورٹ کی رائے
مظاہرین کے بنیادی مطالبے یعنی مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کے معاملے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر نے سپریم کورٹ میں ایک آئینی ریفرنس دائر کیا تھا۔
عدالتِ عظمیٰ نے سات جون کو اپنی تفصیلی مشاورتی رائے میں واضح کیا کہ مہاجرین کی نشستوں سمیت آئین میں کوئی بھی ترمیم کسی دباؤ کے تحت نہیں کی جا سکتی۔ یہ عمل صرف عوامی مینڈیٹ کی حامل قانون ساز اسمبلی کے ذریعے، باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے ہی ممکن ہے۔
وزیراعظم کشمیر کے بیانات میں تبدیلی، ’مظاہرین ہمارے اپنے ہیں
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور گزشتہ چار روز سے اسلام آباد کے جموں کشمیر ہاؤس میں موجود ہیں جہاں انہوں نے پہلے تو ایکشن کمیٹی پر پابندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حالات جس نہج پر لے جائے گئے، پابندی تو لگنا تھی۔
تاہم پیر (آٹھ جون) کی شام صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ان کے موقف میں نرمی دیکھی گئی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں مذاکرات کی عمل کو دوبارہ بحال کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا احتجاج کرنے والے لوگ ہمارے اپنے ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ کیا وہ کسی کے ایجنٹ یا غدار ہیں؟ میں ایسا ہرگز نہیں مانتا۔ ہاں، وہ مایوس ضرور ہیں جو کہ ایک فطری بات ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ انہیں بہکایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر مظاہرین کے مطالبات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہیں اور وہ مذاکرات کے دوران اور بعد میں ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی حفاظت، سلامتی اور ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ کی ضمانت دینے کو تیار ہیں۔
وزیراعظم فیصل راٹھور نے مظاہرین کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ آزمائشی رویہ ترک کریں، الٹی میٹم دینا بند کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔
انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ مذاکرات کے دوران اور بعد میں مظاہرین کی حفاظت، آزادانہ نقل و حرکت اور یکساں مواقع کی ضمانت دی جائے گی۔
سابق ججز اور بار کونسلز کی امن کی اپیلیں
خطے کی سنگین صورتحال پر قانون دانوں اور سابق ججز نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب میں پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کشمیر بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون ریاض مغل، صدر سنٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد راجہ ضیغم افتخار ایڈووکیٹ اور سیکریٹری جنرل سنٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد مرتضیٰ احمد میر ایڈووکیٹ نے بارز کا موقف پیش کیا۔
بار نمائندگان نے اس امر پر زور دیا کہ ’موجودہ حالات میں تمام متعلقہ فریقوں کو صبر، تحمل، بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ تمام مسائل اور اختلافات کا پائیدار حل صرف مذاکرات، مشاورت اور آئینی و قانونی ذرائع کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس لیے تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلہ کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے۔
اسی طرح پیر کو ایک پریس کانفرنس سابق ججز نے سینٹرل پریس کلب مظفرآباد میں بھی کی جس میں سابق چیف جسٹس منظور حسین گیلانی اور ابراہیم ضیا نے شرکت کی۔ اس پریس کانفرنس میں بھی تمام فریقین کو مذاکرات کی دعوت دی گئی۔
بیرونِ ملک احتجاج پر اسلام آباد کا سخت ردِعمل
راولاکوٹ میں ہونے والے واقعات کے خلاف لندن میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا گیا جبکہ کینیڈا میں مقیم کشمیریوں نے بھی اس کے خلاف مظاہرہ کیا۔
اُدھر پاکستان نے پیر کو برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی نژاد شہریوں کی جانب سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے متعلق دیے گئے بیانات کو ’بے جا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور ان افراد کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز‘ کا مشورہ دیا۔
دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے برطانیہ میں مقیم بعض افراد کی جانب سے آزاد جموں کشمیر کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ اور حقائق سے لاعلم اشاروں اور تبصروں کا تشویش کے ساتھ نوٹس لیا ہے۔ ان افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔ بہتر ہوگا کہ وہ جس ملک میں مقیم ہیں، وہاں مثبت کردار ادا کریں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’انٹرنیٹ کی بندش، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور طاقت کے مہلک استعمال‘ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا تسلسل قرار دیا ہے۔

شیئر: