جبلِ اُحد: مدینہ منورہ میں تاریخ اور ایمان کی لازوال گواہی
مدینہ پہنچنے پر زائرین جبلِ احد کی زیارت کے لیے جاتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
جبلِ احد، مدینے کی سب سے اہم اور نمایاں تاریخی اور قدرتی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اِس پہاڑ کی گہری مذہبی جڑوں اور تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ ثقافتی دلچسپی کی وجہ سے مملکت کے اندر اور بیرونِ ملک سے زائرین کی ایک بڑی تعداد اِسے دیکھنے کے لیے آتی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سات کلو میٹر طویل کوہِ احد، مسجدِ نبوی سے تقریباً پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ دو سے تین کلومیٹر چوڑا ہے۔ سطحِ سمندر سے کوہِ اُحد کی اونچائی 1,077 میٹر ہے جو اِسے ریجن کی سب سے نمایاں علامتوں میں سے ایک کا درجہ دیتی ہے۔
مسلمانوں کے لیے یہ پہاڑ خصوصی مذہبی اہمیت کا حامل ہے اور ہجرت کے تیسرے برس ہونے والی جنگِ اُحد کا گواہ ہے۔ اِس لڑائی میں جسے تاریخ جنگِ اُحد کے نام سے یاد رکھتی ہے، 70 صحابۂ کرام شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے تھے جہاں اُن کی قبریں بھی ہیں۔
تاریخی اور ثقافتی مقامات کی تعمیر و ترقی کے لیے مدینے کی بلدیہ نے ’سمارٹ ماؤنٹ اُحد ایریا‘ کے نام سے ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے۔
زائرین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے اِس منصوبے میں جدید ٹیکنالوجیوں کا استعمال ہوگا جن میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ماحول دوست بجلی کا نظام، ٹریفک کو منظم رکھنے کا بندوبست اور حفاظتی تدابیر کے علاوہ کوہِ احد کی تاریخ کے بارے میں انٹرایکٹیو تعلیمی مواد موجود ہے۔
اِس علاقے میں کئی سہولتوں کی تعمیر کی گئی ہے جن میں مدینے کے خوبصورت وسیع وعریض مناظر کا ایک سلسلہ بھی شامل ہے۔

اِس کے علاوہ یہاں پیدل چلنے اور کوہ پیمائی کے لیے خصوصی ٹریک بھی بنائے گئے ہیں جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق اِس مقام پر تاریخی ورثے اور جامع ثقافتی تجربے کو باہم ملا دیتے ہیں۔