امن معاہدے اور بحری تجارت کی بحالی کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان فنی مذاکرات کا آغاز
امریکہ اور ایران کے درمیان بدھ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں انتہائی اہم فنی (ٹیکنیکل) مذاکرات کا آغاز ہوا ہے جس کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی بحالی اور ایک مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانا ہے۔
روئٹرز کے مطابق مذاکرات سے براہ راست وابستہ ایک ذریعے اور ایرانی حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
گزشتہ ماہ دستخط کیے گئے 14 نکات پر مشتمل عبوری معاہدے کے بعد ہونے والے یہ مذاکرات اس جنگ کے خاتمے کی کڑی ہیں جس کا آغاز رواں سال فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا۔ اس عبوری معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو کھولنا اور 60 دنوں کے اندر مستقل امن معاہدے کے لیے بات چیت کا فریم ورک طے کرنا تھا۔
سفارتی سرگرمیاں اور ثالثی
مذاکرات کی بنیاد رکھنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور ایلچی سٹیو وٹکوف نے قطر کے وزیراعظم سے ملاقات کی جو پاکستان کے ساتھ مل کر اس پورے عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف خود ان تکینکی مذاکرات میں براہ راست شرکت نہیں کر رہے ہیں۔
اس دوران دوحہ میں ایران، قطر اور پاکستان کا ایک سہ فریقی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں عبوری معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔
ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کر رہے ہیں، جس میں وزارتِ خارجہ، سنٹرل بینک اور وزارتِ زراعت کے نمائندے شامل ہیں۔
کشیدگی اور سخت بیانات
اگرچہ مذاکرات جاری ہیں لیکن پس منظر میں شدید سفارتی اور عسکری تناؤ اب بھی موجود ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو ایک سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک اپنے عوام یا قیادت کے خلاف کسی بھی خطرے کا فوری اور بھرپور جواب دے گا۔‘
عباس عراقچی کا یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے اس تبصرے کے جواب میں آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ’نشانے پر‘ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکی صدر نے تل ابیب میں اپنے پالتو جانوروں کو نکیل ڈالنے کا وعدہ کیا ہے۔ اگر انہوں نے اپنے آقا کی بات نہ مانی، تو ایران انہیں سبق سکھائے گا۔‘
آبنائے ہرمز اور منجمد اثاثے
مذاکرات کا بنیادی محور بحری تجارت کی بحالی اور معاشی معاملات ہیں۔ ایران پبلک طور پر یہ واضح کر چکا ہے کہ اس کی ترجیحات میں آبنائے ہرمز کے انتظام کا کنٹرول اور دنیا بھر میں منجمد 6 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔ دوسری طرف امریکہ کا بنیادی ہدف اس تزویراتی آبی گزرگاہ سے بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کی بلاتعطل اور محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے۔
واضح رہے کہ جنگ سے قبل دنیا کی 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی تجارت اسی آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھی۔ اگرچہ یہاں سے ٹریفک جزوی طور پر بحال ہوئی ہے لیکن مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بحالی اب بھی غیر متوقع اور غیر واضح ہے۔
لبنان کا محاذ
امریکہ اور ایران کے درمیان اس عبوری معاہدے میں اسرائیل اور لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے درمیان تنازع کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
تاہم لبنان کی حکومت اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے ایک الگ سیکورٹی فریم ورک کو حزب اللہ نے مسترد کر دیا ہے، جس کے باعث ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ لبنان میں سیاسی اور عسکری تعطل برقرار رہ سکتا ہے۔
