سرخ لومڑی جو مملکت میں اہم ماحولیاتی کردار ادا کرتی ہے
عرب لوک داستانوں میں اسے حاضر دماغی کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
کنگ سلمان رائل ریزرو میں سب سے زیادہ عام گوشت خور جانوروں میں سے ایک سرخ لومڑی مملکت میں ایک اہم ماحولیاتی کردار ادا کرتی ہے۔
عرب لوک داستانوں میں اسے ذہانت اور حاضر دماغی کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ چوہوں اور دیگر چھوٹی نسل کی نوع کی آبادی کو منظم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ جس سے ماحولیاتی توازن کے ساتھ حیاتیاتی تنوع بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔
مقامی طور پر اسے ’ابو حسین‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ سعودی عرب میں سب سے بڑی جنگلی لومڑی ہے۔ اس کا تعلق کینڈیڈی نسل ہے۔
صحراؤں، وادیوں اور وسیع میدانوں میں متنوع رہائش اختیار کرنے کی صلاحیت اسے کنگ سلمان رائل ریزرو میں سب سے نمایاں اور گوشت خور جانوروں میں سے ایک بناتی ہے۔
سرخ لومڑی چوہوں، رینگنے والے جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے علاوہ جنگلی پھل بھی کھاتی ہے۔

اس کے دبلے پتلے جسم، سرخ مائل بھوری کھال، جھاڑی والی سفید نوک دار دم اور کانوں کے پیچھے سیاہ نشانات سے پہچانا جاتا ہے۔
لومڑی کے حواس کی تیزی اسے شکار کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اپنی تیز نظر اور سماعت کے باعث چھوٹے شکار کی موومنٹ کا اندازہ لگاتی ہے۔

افزائش کا موسم سردیوں میں شروع ہوتا ہے۔ مادہ لومڑی عموما موسم بہار میں دو سے چھ بچوں کو جنم دیتی ہے۔
جبکہ نر، پہلے ہفتوں کے دوران بچوں کو خوراک فراہم کرنے اور ان کی حفاظت میں مدد کرتا ہے۔
