Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریپر سے وزیراعظم بننے والے نیپال کے بالین شاہ کی حکومت کے 100 دن: اصلاحات یا جلد بازی؟

شاہ کی حکومت نے اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے آرڈیننس کے ذریعے کئی اقدامات کیے، حالانکہ اسے پارلیمان میں قانون سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انقلابی اصلاحات کے وعدے کے ساتھ اقتدار سنبھالنے کے سو دن بعد، نیپال کے 36 سالہ ریپر سے وزیرِ اعظم بننے والے بالیندرا شاہ نے جہاں ایک طرف حکومت کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے، وہیں دوسری طرف وہ عوام کی نظروں سے اوجھل رہنے والی شخصیت بنے ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کٹھمنڈو کے سابق میئر، جنہیں زیادہ تر ’بالین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اتوار کے روز اس سنگِ میل تک پہنچے اور انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے انتہائی تیزی سے اقدامات کیے ہیں۔
عہدے کا حلف اٹھانے کے اگلے ہی دن، ستمبر 2025 کے اس خونی احتجاج کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی سفارش پر پولیس نے سابق وزیرِ اعظم کے پی شرما اولی اور ان کے سابق وزیرِ داخلہ کو گرفتار کر لیا۔ اس احتجاج نے اولی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
تحقیقات کا عمل جاری رہنے کے باعث ان دونوں کو بعد میں بغیر کسی الزام کے رہا کر دیا گیا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پہلے قدم نے حکومت کے اگلے اقدامات کا رخ طے کر دیا تھا، جو کہ تیز رفتار اور علامتی اہمیت کے حامل تو تھے، لیکن اکثر قانونی طور پر متنازع بھی رہے اور انہیں ادارہ جاتی طریقہ کار کی پرواہ کیے بغیر انجام دیا گیا۔
شاہ نے خود کو عوامی منظرنامے سے غیر معمولی طور پر دور رکھا ہے، وہ سوشل میڈیا کے ذریعے بات چیت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کامیابی کی تقریر بھی ایک ریپ گانے کی صورت میں پیش کی تھی۔
انہوں نے غیر ملکی سفیروں سے ملاقاتوں سے بھی گریز کیا ہے اور پڑوسی ممالک انڈیا اور چین کے دوروں کو اپنے وزیرِ خارجہ کے سپرد کر دیا ہے، جو کہ روایتی طور پر کسی بھی نیپالی وزیرِ اعظم کے پہلے بیرونی دورے ہوتے ہیں۔
صحافی پرنایا رانا کا کہنا ہے کہ ’تین مہینوں میں، ہم اس شخص کے بارے میں بہت کم جان پائے ہیں جسے ہم نے وزیرِ اعظم منتخب کیا ہے۔ انہیں کھل کر سامنے آنے کی ضرورت ہے۔‘
’ایکسپریس وے پر‘
5 مارچ کو ہونے والے عام انتخابات میں شاہ کی بھاری اکثریت سے کامیابی کی پیش گوئی بہت کم لوگوں نے کی تھی۔ یہ وہ پہلا انتخاب تھا جو نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے انسدادِ بدعنوانی احتجاج کے بعد منعقد ہوا، جس نے اولی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

حکومت نے اصلاحات کے لیے 100 نکاتی ایجنڈا متعارف کرایا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

بالین شاہ کے عروج کے پیچھے وہی عوامی غصہ تھا جس نے نوجوان مظاہرین کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔ اس غصے کی بنیادی وجوہات معاشی مواقع کی کمی اور برسوں سے اقتدار پر قابض سیاسی اشرافیہ میں پائی جانے والی بدعنوانی تھیں۔
حکومت نے اصلاحات کے لیے 100 نکاتی ایجنڈا متعارف کرایا، جس میں طرزِ حکمرانی، انسدادِ بدعنوانی، عوامی خدمات کی فراہمی اور ڈیجیٹلائزیشن جیسے شعبے شامل تھے۔
حکومت کے مطابق ان میں سے تقریباً 70 اقدامات پر عمل درآمد ہو چکا ہے، جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔
جون میں حکمران راشٹریہ سواتنترا پارٹی کے اجلاس سے ایک عوامی خطاب میں شاہ نے کہا کہ ان کی حکومت تبدیلی کی جانب ’ایکسپریس وے پر گامزن‘ ہے۔
انہوں نے کہا، ’بریک صرف اس وقت لگائی جائے گی جب ہم اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔‘
حکومت نے 2.1 کھرب روپے (13.8 ارب امریکی ڈالر) کا بجٹ پیش کیا ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری پر توجہ دی گئی ہے، جبکہ معیشت کو مستحکم کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
وزیرِ خزانہ سورنِم واگلے نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا، ’ملک اس وقت جامع معاشی اصلاحات کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔‘
’چوکنا رہیں‘
بالین شاہ کے تیز رفتار اندازِ حکمرانی نے انہیں کئی مداح بھی دیے ہیں۔
صحافی سدھیر شرما نے کہا، ’سب سے پہلے تو اس نے کام کرنے کا انداز بدل دیا ہے۔ سابقہ حکومتوں کے برعکس اس نے پہلے ہی دن سے کام شروع کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ حکومت نتائج پر مبنی اقدامات کر رہی ہے۔‘
تاہم، اس کے ناقدین بھی کم نہیں ہیں۔
اولی کی کمیونسٹ پارٹی، سی پی این-یو ایم ایل، نے جمعہ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی کارکردگی ’انتہائی کمزور، ناتجربہ کار اور متنازع‘ رہی ہے۔

آئینی ترامیم اور نیپال کے وفاقی نظام کی ازسرِنو تشکیل سے متعلق بحث نے بھی سیاسی ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

شاہ کی حکومت نے اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے آرڈیننس کے ذریعے کئی اقدامات کیے، حالانکہ اسے پارلیمان میں قانون سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل ہے۔
بعض مبصرین کو خدشہ ہے کہ یہ طریقہ کار اختیارات کے توازن اور نگرانی کے نظام کو کمزور کر رہا ہے۔
سیاسی محققہ انوشا خانال، جو احتجاجی تحریک میں بھی شریک رہی تھیں، نے کہا، ’کام تو ہوا ہے، لیکن اسے انجام دینے کے طریقۂ کار کے بارے میں حکومت کی سوچ مختلف معلوم ہوتی ہے۔ ہمیں چوکنا رہنا ہوگا۔‘
ایک آرڈیننس کے تحت آئینی کونسل، جس کی سربراہی شاہ کرتے ہیں، کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ سادہ اکثریت سے فیصلے کر سکے، جن میں ججوں کی تقرریاں بھی شامل ہیں۔
آئینی ترامیم اور نیپال کے وفاقی نظام کی ازسرِنو تشکیل سے متعلق بحث نے بھی سیاسی ردِعمل کو جنم دیا ہے۔
2025 کے احتجاج میں شریک 23 سالہ یوجن راجبھنداری نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حکومت ’تحریک کی کوکھ سے جنم لینے والی حکومت‘ ہے، اس لیے اسے تحریک کی آواز سننی چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’ہمیں اس حکومت سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ وہ نتائج پر توجہ دے رہی ہے، لیکن اگر یہ نتائج قانونی اور آئینی طریقۂ کار کے مطابق حاصل نہ کیے جائیں تو وہ پائیدار ثابت نہیں ہوں گے۔‘
غیر قانونی آبادیوں (کچی آبادیوں) کو ہٹانے کی حکومتی مہم کو بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔
رانا نے کہا، ’پہلے سو دن وہ وقت ہوتے ہیں جب حکومت کو سب سے زیادہ عوامی خیرسگالی حاصل ہوتی ہے۔ اب ممکن ہے کہ تنقید میں اضافہ ہو، حتیٰ کہ عوام کی جانب سے بھی۔‘

شیئر: