Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی آزادی کے 250 سال، داخلی اقدار اور خارجی کردار کا ٹکراؤ

اس 4 جولائی کو اپنی 250 ویں سالگرہ کے موقعے پر روایتی آتش بازی، ریاستی میلوں، تاریخی جنگوں کی منظر کشی، پریڈز اور گھروں کے پچھلے حصوں میں ہونے والے باربی کیو (جو یومِ آزادی کی تقریبات کا خاصہ ہیں) کے درمیان، امریکہ ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے کھڑا ہے جو تقسیم اور نئی تشکیل کے اس دور میں اپنے اساسی نظریات پر غور و فکر کر رہا ہے۔
ایک لحاظ سے یہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ سنہ 1776ء میں امریکہ تقسیم اور نئی تشکیل کے ایک شدید جھٹکے کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا، جب برطانیہ کی 13 نوآبادیات کی حال ہی میں بلائی گئی کانٹینینٹل کانگریس کے 56 ارکان نے بادشاہ جارج سوم پر ظلم کا الزام لگایا، مادرِ وطن سے ناتا توڑا اور آزادی کا اعلان کیا۔
نوآبادیاتی باشندوں نے وہ جنگ جیت لی جو پچھلے برس شروع ہوئی تھی اور 2 ستمبر 1783ء کو پیرس میں دستخط کیے گئے امن معاہدے کے تحت برطانیہ نے باضابطہ طور پر ایک نئی قوم کی پیدائش کو تسلیم کر لیا: یعنی ریاستہائے متحدہ امریکہ۔
اگر امریکہ کی پیدائش کا درد شدید تھا تو اس کی ترقی بھی اتنی ہی تکلیف دہ تھی جہاں مغرب کی طرف اس کی توسیع بندوق کی نوک پر اور وہاں کے مقامی امریکیوں (ریڈ انڈینز) کی قیمت پر کی گئی جنہیں آزادی کے اعلامیے میں ’بے رحم وحشی انڈینز‘کہا گیا ہے۔
اس اعلامیے میں موجود تضادات میں سے ایک تضاد (جو آج تک امریکی معاشرے میں جاری کچھ تقسیموں کی جڑ ہے) اس کا یہ دعویٰ تھا کہ ’تمام انسان برابر پیدا کیے گئے ہیں... اور ان کے خالق نے انہیں کچھ ایسے حقوق عطا کیے ہیں جو ان سے چھینے نہیں جا سکتے۔‘
اس کے باوجود اس بیان کی توثیق کرنے والے بہت سے لوگ خود غلاموں کے مالک تھے، یہ ایک ایسی واضح منافقت تھی جو قریباً ایک صدی تک اس نئی قوم کے دل میں ناسور بنی رہی، یہاں تک کہ 1861ء میں یہ ایک ہولناک خانہ جنگی کی صورت میں پھٹ پڑی۔
چار سال تک جاری رہنے والی اس جنگ نے اڑھائی لاکھ امریکیوں کی جانیں لیں جو کہ آزادی کی جدوجہد میں ہونے والے نقصان سے 10 گنا زیادہ تھا۔ اور جیسا کہ 1950ء اور 60ء کی دہائیوں میں شہری حقوق کی تحریکوں کے ابھار اور حال ہی میں ’بلیک لائیوز میٹر‘ (سیاہ فاموں کی زندگیاں اہم ہیں) کے احتجاج سے ثابت ہوتا ہے، اس نے ایک ایسا گہرا زخم چھوڑا جو کبھی پوری طرح نہیں بھر سکا۔


امریکہ کی یہ سالگرہ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک بظاہر اپنے عالمی کردار پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔ فائل فوٹو: گیٹی امیجز

یہ تاریخی سالگرہ ایک ایسے گہرے تغیر کے وقت آئی ہے جب امریکہ ثقافتی جنگوں، شخصیات کی سیاست، اور انصاف، امیگریشن (تارکینِ وطن) اور آزادیِ اظہارِ رائے پر شدید بحثوں کی وجہ سے تقسیم کا شکار ہے جبکہ سیاسی، سماجی اور عدالتی اصولوں میں ہونے والی بے مثال اتھل پتھل اس کے علاوہ ہے۔
بلاشبہ، تبدیلی پریشان کن ہو سکتی ہے۔
اور پھر بھی جیسا کہ صدر جان ایف کینیڈی قومی تبدیلی کے ایک پچھلے عظیم دور میں امریکیوں کو یاد دلانا پسند کرتے تھے کہ ’وقت اور دنیا کبھی ٹھہرتے نہیں ہیں۔ تبدیلی زندگی کا قانون ہے۔ اور جو لوگ صرف ماضی یا حال پر نظر رکھتے ہیں، وہ یقیناً مستقبل کو کھو دیتے ہیں۔‘
آج، بڑے پیمانے پر ہونے والی امیگریشن کے حقائق کا سامنا کرنے میں امریکہ اکیلا ملک نہیں ہے، جو ہمارے وقت کے سب سے پیچیدہ مسائل میں سے ایک ہے۔ ’امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ‘  (ICE) کی سرگرمیوں کے ناقدین اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکہ تارکینِ وطن کا بنایا ہوا ملک ہے۔
وہ ’اسٹیچو آف لبرٹی‘ (مجسمہ آزادی) کی رواداری کی اس روایت کا بھی حوالہ دیتے ہیں جس نے بحری جہازوں کے ذریعے امریکہ آنے والی تارکینِ وطن کی نسلوں کا استقبال اپنے چبوترے پر کندہ ان الفاظ سے کیا تھا ’مجھے اپنے تھکے ہوئے، اپنے غریب، اپنے وہ کچلے ہوئے ہجوم دے دو جو آزادی کی سانس لینے کے لیے تڑپ رہے ہیں۔‘
لیکن یہ یقیناً اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ نہ تو اصل آباد کار اور نہ ہی لاکھوں ’کچلے ہوئے ہجوم‘ غیر قانونی طور پر امریکہ آئے تھے۔ یہ اس بات کو بھی خاطر میں نہیں لاتا کہ 2023ء سے اب تک امریکہ 20 لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کر چکا ہے، جو کہ وسائل پر ایک ایسا بوجھ ہے جس کا سامنا دنیا کے بہت کم ممالک کو ہے۔
عالمی منظر نامے پر امریکہ کی یہ سالگرہ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک بظاہر اپنے 250 برس مکمل ہونے پر اپنے عالمی کردار پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔

سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز نے مصر کی ’گریٹ بٹر لیک‘ پر فرینکلن ڈی روزویلٹ سے ملاقات کی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس میں کوئی شک نہیں کہ 250 برس پہلے آزادی کے خول سے نکلنے والے امریکہ نے اپنی تاریخ میں کئی مرتبہ 17ویں صدی کے ’میساچوسٹس بے کمپنی‘ کے بانی جان ونٹراپ کے اس وژن کو پورا کیا ہے کہ اسے ’پہاڑی پر واقع ایک شہر کی مانند‘ ہونا چاہیے، جس پر ’تمام لوگوں کی نظری۔۔۔ لگی ہوں۔‘
یقیناً دنیا کی نظریں امریکہ پر اس وقت تھیں جب اس نے صدر کینیڈی کے اس وژن کو پورا کیا کہ وہ خلائی دوڑ جیتے گا اور انسان کو چاند پر اتارے گا، بالکل اسی طرح جیسے تاریخ کے ان اہم مواقع پر تھا جب دنیا کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی اور وہ آگے بڑھا۔
یہ امریکہ ہی تھا جس نے دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی اور سامراجی جاپان کے توسیع پسندانہ عزائم کا خاتمہ کیا، کمیونزم کے ابھار کے خلاف سرد جنگ میں ایک عظیم ڈھال کا کام کیا اور مشرقِ وسطیٰ کی اس وقت مدد کی جب صدام حسین کی وجہ سے اس خطے کے امن و استحکام کو خطرہ لاحق تھا۔
ناقابلِ تردید طور پر، کچھ امریکی مداخلتوں کا انجام بہت برا بھی ہوا۔ افغانستان میں 20 سالہ تنازع 2021ء میں طالبان کی اقتدار میں واپسی پر ختم ہوا اور 2003ء کے حملے اور اس کے بعد آٹھ بس تک جاری رہنے والی عراق جنگ نے صدام حسین کو تو ہٹا دیا لیکن ایک ایسی خانہ جنگی کو جنم دیا جس نے 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد جانیں لیں اور ایرانی اثر و رسوخ کو بڑھایا۔
حالیہ امریکی تنازع یعنی ایران میں جنگ پر حتمی فیصلہ سنانا ابھی قبل از وقت ہے۔
بہرحال امریکہ کے اتحادی، خاص طور پر خلیج میں موجود، جانتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ ان کی دوستی کو کسی بھی ایک انتظامیہ کے عارضی پروگرام سے نہ تو واضع کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بنیادی طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

جان ایف کینڈی وہ ’اسٹیچو آف لبرٹی‘ کی رواداری کی اس روایت کا بھی حوالہ دیتے رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

آخر کار واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس سے کم از کم 15 صدور گزر چکے ہیں جب سے سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز نے 14 فروری 1945ء کو مصر کی ’گریٹ بٹر لیک‘ پر ایک امریکی جنگی جہاز پر فرینکلن ڈی روزویلٹ سے ملاقات کی تھی اور ایک ایسی دوستی کی بنیاد رکھی تھی جو پچھلی آٹھ دہائیوں سے قائم ہے۔
آج، آزادی کا اعلامیہ واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل آرکائیوز کی شاندار نیوکلاسیکل عمارت میں امریکی آئین اور ’بل آف رائٹس‘ (بنیادی حقوق کے دستاویز) کے ساتھ نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ گزشتہ اڑھائی صدیوں میں اس دستاویز پر لکھی سیاہی کافی مدہم ہو چکی ہے لیکن اگرچہ الفاظ اب قریباً نظر نہیں آتے مگر ان سے شروع ہونے والی گفتگو اب بھی زندہ ہے۔
 250 برسوں سے امریکہ آزادی، برابری اور انصاف کے معنی کے ساتھ نبردآزما ہے، شاذ و نادر ہی وہ اپنے نظریات پر پوری طرح پورا اترا ہے لیکن اس نے انہیں کبھی مکمل طور پر چھوڑا بھی نہیں ہے۔
اور جیسے ہی امریکہ اپنے اگلے 250 برسوں کا سفر شروع کر رہا ہے، تاریخ اس بات کا فیصلہ نہیں کرے گی کہ 1776ء میں فلاڈیلفیا میں کیا لکھا گیا تھا بلکہ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ امریکیوں کی ہر نسل نے اس سے کیا حاصل کرنے کا انتخاب کیا۔

شیئر: