برطانیہ کے اگلے وزیراعظم کو عالمی امور میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا: کیئر سٹارمر
سٹارمر نے کہا کہ ’جو بھی میرا جانشین ہوگا، اسے انہی عالمی تنازعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
برطانیہ کے سبکدوش ہونے والے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے اپنے ممکنہ جانشین اینڈی برنہم کو خبردار کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاملات کو نظرانداز کرکے صرف ملک کے اندرونی مسائل پر توجہ نہیں دے سکتے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 22 جون کو اپنے استعفے کا اعلان کرنے کے بعد ہفتے کے روز شائع ہونے والے پہلے انٹرویو میں سٹارمر نے کہا کہ حکمران لیبر پارٹی کے نئے رہنما کو عالمی سطح پر جاری ہنگامہ خیز حالات پر بھی بھرپور توجہ دینی ہوگی اور وہ بین الاقوامی امور کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
اب تک مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم ہی لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے واحد امیدوار ہیں، اور توقع ہے کہ وہ جولائی کے وسط تک عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔
سٹارمر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جو بھی میرا جانشین ہوگا، اسے انہی عالمی تنازعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم بار بار کہتے ہیں، اور یہ حقیقت ہے، کہ ہم شاید اپنی زندگی کے بیشتر حصے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک اور غیر یقینی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔‘
اینڈی برنہم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی لیونگ کاسٹ جیسے اندرونی مسائل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ خود براینڈی نہم نے بھی اس ہفتے کہا تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی (ڈی سینٹرلائزیشن) ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوگی۔
تاہم جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر سوال و جواب کے ایک سیشن میں انہوں نے بین الاقوامی امور پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ وہ یوکرین کی حمایت کے معاملے میں سٹارمر کی طرح ’سو فیصد‘ مؤقف اختیار کریں گے۔
جب بی بی سی نے سٹارمر سے پوچھا کہ کیا ان کا جانشین سفارتی معاملات پر کم وقت دے سکتا ہے، تو انہوں نے کہا کہ ’اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ بین الاقوامی اور اندرونی معاملات کے درمیان درست توازن کیا ہونا چاہیے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ وزیرِ اعظم ہیں اور آپ کو اس بات کی فکر ہے کہ ملک کے کسی بھی گھرانے کے بل کتنے ہوں گے، تو پھر آپ کو یوکرین کی صورتحال کا پائیدار حل تلاش کرنے کی بھی فکر ہونی چاہیے، اور آبنائے ہرمز میں ہونے والے واقعات پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔‘
سٹارمر نے کہا کہ ان کے دل میں برنہم کے لیے کبھی کوئی ذاتی مخاصمت نہیں رہی، اور وہ ’اپنی پوری کوشش کریں گے تاکہ آئندہ حکومت کامیاب ہو۔‘
2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو شاندار کامیابی دلانے والے سٹارمر نے کہا کہ وہ کم از کم اگلے عام انتخابات تک پارلیمان کے رکن رہیں گے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے جانشین کو مسلسل مشورے دینے کے بجائے ’زیادہ تر خاموش رہیں گے۔‘
سٹارمر نے پہلے عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ کسی بھی چیلنج کے باوجود ملک کی قیادت کرتے رہیں گے، لیکن بالآخر انہیں اپنی جماعت کے شدید دباؤ کے سامنے جھکنا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ ’آخرکار یہ ایک انتہائی ذاتی فیصلہ بن گیا۔‘
ان کے مطابق یہ فیصلہ انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ برطانوی وزیرِ اعظم کی دیہی رہائش گاہ چیکرز میں دو دن گزارنے کے بعد کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم چیکرز گئے اور دو دن خاندان کے ساتھ گزارے، اور وہیں میں نے اپنا حتمی فیصلہ کیا۔‘
