بالی وڈ اداکارہ سیلینا جیٹلی 15 سال بعد بڑی سکرین پر واپسی کے لیے تیار
اتوار 5 جولائی 2026 14:42
سیلینا نے بتایا کہ ان کی والدہ نے سب سے پہلے انہیں سِسٹر نِویدِتا کی زندگی سے روشناس کرایا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اداکارہ سیلینا جیٹلی 15 سال بعد ایک مکمل کردار کے ساتھ بڑی سکرین پر واپسی کرنے جا رہی ہیں۔ وہ آنے والی بایوپک میں سِسٹر نِویدِتا کا کردار ادا کریں گی، جس کی ہدایت کاری رام کمَل مکھرجی کر رہے ہیں۔
اس فلم میں سیلینا، سوامی وویکانند کی معروف روحانی شاگرد کا کردار ادا کریں گی، جسے وہ اپنے کیریئر کے سب سے بامعنی تجربات میں سے ایک قرار دیتی ہیں۔
انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے سیلینا نے کہا کہ یہ پراجیکٹ ان کے لیے ایک گہرا ذاتی سفر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام کمَل مکھرجی کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے پہلے کے تمام تجربات سے مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’رام جیسے وژنری ہدایتکار کے ساتھ کام کرنا میرے لیے کسی بھی دوسرے اداکاری کے تجربے جیسا نہیں۔ ایسے ہدایتکاروں کے ساتھ آپ صرف کردار ادا نہیں کرتے بلکہ اس دور کی روح بن جاتے ہیں۔‘
سِسٹر نِویدِتا، جن کا اصل نام مارگریٹ نوبل تھا، 1867 میں آئرلینڈ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے پہلی بار 1895 میں لندن میں سوامی وویکانند سے ملاقات کی اور بعد میں انڈیا کا سفر کیا۔ 1898 میں وہ ان کی شاگرد بنیں اور انہیں ’نِویدِتا‘کا نام دیا گیا۔ انہوں نے اپنی زندگی تعلیم، خواتین کی فلاح و بہبود اور سماجی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
سیلینا کے لیے سِسٹر نِویدِتا کا کردار صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ ایک ذاتی احساس رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سِسٹر نِویدِتا کا کردار ادا کرنا میرے لیے ایک کردار سے زیادہ ایک پکار کا جواب دینے جیسا ہے۔‘
اداکارہ نے بتایا کہ ان کا سِسٹر نِویدِتا سے تعلق بچپن سے ہے۔ وہ اکثر اپنے والدین کے ساتھ مغربی بنگال اور دارجلنگ کے سفر پر جاتیں، جہاں وہ ’روئے ولا‘ پر رکتی تھیں، وہی جگہ جہاں سِسٹر نِویدِتا نے اپنی زندگی کے آخری دن گزارے۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے والد بنگور، مغربی بنگال میں تعینات تھے۔ ہم اکثر ملٹری قافلوں کے ساتھ دارجلنگ جاتے تھے اور راستے میں روئے ولا پر رکتے تھے۔ میرے والدین وہاں گھومتے تھے اور فوجی قافلے بھی اس جگہ کے پرسکون ماحول اور خوبصورت منظر کو محسوس کرنے کے لیے ٹھہرتے تھے۔ اب سوچتی ہوں تو لگتا ہے وہ جگہ مجھے ہمیشہ متاثر کرتی تھی۔‘
سیلینا نے بتایا کہ ان کی والدہ نے سب سے پہلے انہیں سِسٹر نِویدِتا کی زندگی سے روشناس کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن میں ہی ان کے کردار کے لیے منتخب ہوں گی۔ اب لگتا ہے شاید سِسٹر نِویدِتا نے خود اس بچی کو پکارا تھا جو کینڈرِیہ ودیالیہ میں پڑھتی تھی۔‘
اپنی زندگی پر غور کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپ میں 15 سال گزارنے کے بعد انڈیا واپس آنا ان کے لیے ایک اہم تبدیلی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’زندگی ایک حیرت انگیز طریقے سے سب چیزوں کو جوڑ دیتی ہے، جو بعد میں سمجھ آتا ہے۔ یورپ میں 15 سال گزارنے کے بعد انڈیا، اپنی جڑوں، سناتن دھرم اور خود کو ایک انسان کے طور پر دوبارہ دریافت کرنا… ایک خوبصورت بات مجھے بہت گہرائی سے متاثر کرتی ہے کہ ماں کالی آپ کو توڑتی نہیں بلکہ مکمل کرنے کے لیے توڑتی ہیں۔‘