Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اگر میں لاہور آ گیا تو مجھے کہیں اور نہیں جانے دیں گے، سب سیاست ہے: دلجیت دوسانجھ

دلجیت دوسانجھ کو گزشتہ برس بھی اپنی فلم میں ہانیہ عامر کے ساتھ کام کرنے پر انڈیا میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ (فوٹو: دلجیت دوسانجھ، انسٹاگرام)
انڈین پنجابی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے کہا ہے کہ وہ اس وقت پاکستان، خصوصاً لاہور، آکر پرفارم نہیں کر سکتے کیونکہ موجودہ حالات میں یہ ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
دلجیت دوسانجھ نے یورپ ٹور کے حوالے سے انسٹاگرام پر مداحوں سے براہِ راست گفتگو کے دوران مختلف سوالوں کے جواب دیے۔ اسی دوران لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک مداح نے ان سے پاکستان آنے کی درخواست کی۔
اس پر دلجیت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، 'نہیں بھائی، اگر میں لاہور آ گیا تو پھر مجھے کہیں اور نہیں جانے دیں گے۔ آپ جانتے ہیں دنیا میں کیا کچھ چل رہا ہے، یہ سب سیاست ہے۔'
گلوکار نے کہا کہ وہ ہمیشہ سیاست سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کے بقول سیاست ایسا میدان ہے جہاں بہت مضبوط اعصاب اور سخت مزاج ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، 'میں ہمیشہ سیاست سے دور رہتا ہوں، اپنے آپ کو اس سے الگ رکھتا ہوں۔ جو لوگ سیاست میں آتے ہیں، ان کے لیے یہ آسان کام نہیں۔ میرے بس کی بات نہیں، اسی لیے میں اس سے دور ہی رہتا ہوں۔'
دلجیت دوسانجھ کو گزشتہ برس فلم 'سردار جی 3' میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ کام کرنے پر بھی انڈیا میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث فلم کو انڈیا میں سینما گھروں میں ریلیز نہیں کیا گیا، جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں اسے نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔
اس تنازع کے باوجود دلجیت نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلم کی شوٹنگ ایسے وقت میں مکمل ہوئی تھی جب حالات مختلف تھے اور بعد میں پیش آنے والے واقعات ان کے اختیار میں نہیں تھے۔
حال ہی میں دلجیت فلم 'میں واپس آؤں گا' میں بھی نظر آئے، جس کی کہانی تقسیمِ ہند کے پس منظر میں لکھی گئی ہے اور اس کا بڑا حصہ موجودہ پاکستانی شہر سرگودھا میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔

شیئر: