انڈیا: اوڈیشہ میں موٹرسائیکل پر خاتون کی نعش لے جانے کی ویڈیو وائرل، معاملہ ہے کیا؟
اتوار 5 جولائی 2026 18:19
نریش چھتریا اپنی بیوی جمنا چھتریا کو قریبی طبی مرکز لے کر گئے، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی (فوٹو: ای ٹی وی بھارت)
اوڈیشہ کے ضلع جھارسوگُڑا میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعہ نے اُس وقت شدید عوامی غم و غصہ کو جنم دیا جب ایک شخص کو اپنی اہلیہ کی لاش ایمبولینس یا مردہ گاڑی دستیاب نہ ہونے کے باعث موٹر سائیکل پر گھر لے جانا پڑی۔
انڈین ڈیجیٹل نیوز میڈیا پلیٹ فارم ای ٹی وی بھارت کے مطابق یہ واقعہ لائکیرا بلاک کی حدود میں آنے والے اوڈیاپالی گاؤں میں پیش آیا، جس کے بعد ریاست میں دیہی صحت کی سہولیات پر سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق، نریش چھتریا اپنی بیوی جمنا چھتریا کو طبیعت بگڑنے پر مندرجورا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
تاہم خاندان کی آزمائش یہیں ختم نہیں ہوئی۔ نریش کا کہنا ہے کہ بار بار درخواست کرنے کے باوجود نہ تو مردہ گاڑی فراہم کی گئی اور نہ ہی ایمبولینس کا انتظام کیا گیا۔ انہوں نے ناچار اپنے پڑوسی کی موٹر سائیکل لی اور اپنی بیوی کی لاش اسی پر گاؤں واپس لے آئے۔
واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں، جس کے بعد صحت کے نظام پر تنقید شروع ہو گئی اور اوڈیشہ میں طبی ٹرانسپورٹ کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا جانے لگا۔
اس حوالے سے نریش چھتریا نے کہا کہ ’ڈاکٹروں نے جب میری بیوی کو مردہ قرار دیا تو نہ مردہ گاڑی فراہم کی گئی اور نہ ہی کوئی ایمبولینس۔ مجھے مجبوراً اپنی بیوی کی لاش موٹر سائیکل پر گھر لے جانا پڑی۔‘
چیف ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر (سی ڈی ایم او) شکتی پرساد پادھی نے اس واقعہ پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق موت اچانک واقع ہوئی اور ممکن ہے کہ طے شدہ طریقۂ کار پر عمل نہ کیا گیا ہو۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ خود موقع پر جا کر تفتیش کریں گے اور اگر کسی بھی طبی مرکز کے ملازم کو قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ موت اچانک ہوئی تھی۔ ضابطے کے مطابق ڈاکٹر کا پولیس کو اطلاع دینا ضروری تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔‘
