کریتی سینن نے فلمی صنعت میں اپنے ایک دہائی سے زیادہ تجربے کی بنیاد پر یہ اعتراف کیا ہے کہ یہ شعبہ مردوں کے حق میں زیادہ ہے، چاہے بات سکرین پر لکھے جانے والے کرداروں کی ہو یا سیٹ پر مرد و خواتین اداکاروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویوں کی۔ تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اب حالات میں بہتری آ رہی ہے، لیکن جب انہوں نے سنہ 2014 میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا تو صورتِ حال خاصی مایوس کن تھی۔
اداکارائیں زیادہ تر ایک ہی طرح کے رومانی کرداروں کے لیے مخصوص
اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق کریتی سینن نے کہا کہ ’میں نے جب کام شروع کیا تو خواتین کردار زیادہ واضح نہیں ہوتے تھے: وہ کیا کرتی ہے؟ کہاں سے آئی ہے؟ اس کے والدین کون ہیں؟ اس کا خاندان کیسا ہے؟ ان چیزوں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ بعض اوقات وہ صرف رومانی کرداروں میں ہوتیں۔ اب یہ بدل رہا ہے۔‘
’خواتین خود کے لیے مضبوط کردار منتخب کر رہی ہیں۔ فلمیں پہلے زیادہ مرد کرداروں کے گرد گھومتی تھیں، اور اب بھی زیادہ تر ویسی ہی ہیں، مگر بہتری آ رہی ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
فلم انڈسٹری میں پدرشاہی سوچ اب بھی موجود ہے: کریتی سیننNode ID: 904087
انہوں نے مزید کہا کہ ’سیٹ پر مرد اور خواتین اداکاروں کے ساتھ بڑتائو میں بھی فرق آیا ہے۔ میں جب بالی وڈ میں نئی تھی تو میں نے خاص طور پر یہ چیز زیادہ دیکھی۔‘ یہ بات انہوں نے لِلی سنگھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ورسٹائل اداکارہ نے اعتراف کیا کہ جب کوئی خاتون اداکارہ زیادہ سوالات کرتی ہے تو اسے سیٹ پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کریتی سینن نے کہا کہ ’میں سیٹ پر ہدایت کار سے سوال پوچھنے کے لیے جانی جاتی ہوں۔ میں متجسس ہوں، اور ہمیشہ سے ایسی ہی رہی ہوں۔ میں نے اداکاری کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی، نہ ہی تھیٹر کیا ہے، چنانچہ میں خاموش رہنے کی بجائے سوال کرنا زیادہ بہتر سمجھتی ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جب کوئی مرد سوال کرتا ہے تو اسے بہت زیادہ ’دلچسپی لینے والا‘ سمجھا جاتا ہے، لیکن جب میں کوئی بات تجویز کرتی ہوں تو اکثر کہا جاتا ہے کہ ’تم زیادہ سوچ رہی ہو۔‘ لیکن یہی بات اگر کوئی مرد کرے تو اسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ ابتدا میں میَں نے یہ فرق محسوس کیا۔‘
سیٹ پر امتیازی سلوک
کریتی سینن نے یاد کیا کہ بعض فلموں میں انہیں کم ترجیح دی گئی، تاہم وہ اکثر اس قسم کے رویوں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوتیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘اکثر چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں، جیسے مرد اداکار کو دیا جانے والا کمرہ یا گاڑی اور خاتون اداکارہ کو دی جانے والی سہولتیں۔ مجھے گاڑی یا کمرے کی زیادہ پروا نہیں، لیکن مجھے کم تر محسوس نہ کرایا جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یقیناً جب بات سینئر اداکاروں کی ہو تو میں سمجھ سکتی ہوں، لیکن جب ایسا نہ ہو تو اس وقت بھی اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اکثر اداکارائوں کو پہلے سیٹ پر بلا لیتے ہیں۔ کیا مرد اداکار تیار ہے؟ اگر نہیں تو پھر مجھے کیوں بلایا جا رہا ہے؟ لگتا ہے لوگ خود بھی نہیں سمجھتے کہ وہ مرد اداکار کے وقت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ بعض اوقات خواتین اداکارائوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔‘
لِلی سنگھ نے بھی اپنا ایک واقعہ یاد کیا جب وہ ایک فلم کے سیٹ پر جونیئر آرٹسٹ تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر جب سونم کپور کو واش روم جانا تھا تو انہیں بار بار کہا گیا کہ وہ انتظار کریں کیونکہ اکشے کمار کو آنا تھا۔ تقریباً 20 منٹ انتظار کے بعد سونم نے لِلی کی طرف دیکھ کر کہا کہ ’دیکھو، یہ مردوں کی دنیا ہے۔‘

کریتی سینن نے کہا کہ ’وہ اب ضرورت کے مطابق فوراً واش روم چلی جاتی ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وقت کے ساتھ فلمی سیٹس پر کچھ تبدیلی آئی ہے اور خواتین اداکارائیں اب اپنے حق کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں اگر اپنے لیے آواز نہ اٹھاؤں تو صنفی امتیاز مجھے کئی دنوں تک پریشان کرتا ہے۔ کئی بار مجھے کم اہم محسوس کرایا گیا، لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں نے اپنے لیے کھڑا ہونا شروع کیا۔‘
فلمی تشہیر میں نظر انداز کرنا
کریتی سینن نے یہ بھی بتایا کہ ایک فلم کی تشہیری مہم کے دوران مرد اداکار یہ طے کرتا تھا کہ وہ کہاں اور کس طرح شامل ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ مجھے عجیب اور بے حد نامناسب محسوس ہوا۔ میں نے سوچا کہ اگر آپ کو تشہیر میں میری ضرورت نہیں تو آپ اکیلے ہی فلم کی تشہیر کریں، پھر میں پیچھے ہٹ گئی۔‘
تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ’ایک بار ہدایت کار کی درخواست پر میں نے ایک تشہیری تقریب میں شرکت کی کیونکہ میں اصولوں کی پابند ہیں اور یہ ہدایت کار کی غلطی نہیں تھی لیکن میں نے زیادہ تر مواقع پر خود کو تشہیری تقریبات سے الگ ہی رکھا۔‘
کریتی سینن نے اپنے کیریئر کا آغاز 2014 میں سوکمار کی تیلگو سائیکولوجیکل ایکشن تھرلر فلم ’ون: نینوکاڈین‘ سے کیا، جس میں وہ مہیش بابو کے مدمقابل نظر آئیں۔

انہوں نے اسی سال صابر خان کی ایکشن رومانوی فلم ’ہیروپنٹی‘کے ذریعے بالی وڈ میں قدم رکھا، جس میں ان کے مقابل اداکار ٹائیگر شروف تھے۔ اس کے بعد وہ کئی بڑی اور کامیاب فلموں میں دکھائی دیں، جن میں روہت شیٹی کی سنہ 2015 میں ریلیز ہونے والی ایکشن رومانی فلم ’دل والے‘(ورون دھون کے ساتھ) اور دنیش وجن کی 2017 کی رومانی فینٹسی فلم ’رابطہ‘ (سشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ) شامل ہیں۔
ان کی دیگر یادگار فلموں میں اشونی آئر تیواری کی سنہ 2017 کی رومانی کامیڈی ’بریلی کی برفی‘ (آیوشمان کھرانہ اور راجکمار راؤ کے ساتھ)، لکشمن اُتیکر کی سنہ 2019 کی رومانی کامیڈی فلم ’لُکا چھپی‘ (کارتک آریان کے ساتھ)، فرہاد سامجی کی سنہ 2019 کی فینٹسی کامیڈی فلم ’ہائوس فل 4‘ (اکشے کمار کے ساتھ)، آشوتوش گواریکر کی سنہ 2019 کی تاریخی وار ڈراما فلم ’پانی پت‘ (ارجن کپور کے ساتھ)، اور لکشمن اُتیکر کی 2021 کی ڈرامیڈی فلم ’ممی‘ شامل ہیں، جس کے لیے انہوں نے بہترین اداکارہ کا اپنا پہلا قومی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔












