Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گوادر: جیوانی میں کوسٹ گارڈ کی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ

ایس ایس پی کے مطابق حملے میں 15 اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
 بلوچستان کے ضلع گوادر میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی ایک چیک پوسٹ پر خودکش گاڑی کے ذریعے کیے گئے حملے میں کم از کم تین سکیورٹی اہلکاروں کی جان چلی گئی جبکہ 15 دیگر زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام نے سنیچر کو ہونے والے اس حملے کی تصدیق کی۔
پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے بارودی مواد سے بھرا ٹرک گوادر کے ساحلی شہر جیوانی سے تقریباً 10 کلومیٹر دور واقع پنوان چیک پوسٹ سے ٹکرا دیا۔ یہ علاقہ 60 ارب ڈالر مالیت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مجید بریگیڈ نے چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔
گوادر کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عطا الرحمٰن خان ترین نے عرب نیوز کو بتایا کہ حملے کے وقت چیک پوسٹ پر پاکستان آرمی اور پاکستان کوسٹ گارڈز کے مجموعی طور پر 18 اہلکار تعینات تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ’حملے میں پاکستان آرمی کے دو جبکہ پاکستان کوسٹ گارڈز کا ایک اہلکار جان کی بازی ہار گیا۔‘
ایس ایس پی کے مطابق حملے میں 15 اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان طویل عرصے سے علیحدگی پسند شورش کا مرکز رہا ہے جس میں حالیہ برسوں کے دوران شدت آئی ہے۔ اس صورتحال نے حکومت کی جانب سے گوادر بندرگاہ اور معدنی وسائل سے مالا مال بلوچستان کو سرمایہ کاری کے اہم مرکز کے طور پر متعارف کرانے کی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔
عطا الرحمٰن ترین کے مطابق دھماکے کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور حملے میں سہولت کاری کرنے والوں کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
جمعے کی شب ہونے والا یہ حملہ گزشتہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں بلوچستان میں بی ایل اے کی جانب سے کیا جانے والا دوسرا خودکش حملہ ہے۔ مئی میں بھی کوئٹہ میں ایک شٹل ٹرین پر بارودی مواد سے بھری گاڑی (وی بی آئی ای ڈی) کے ذریعے کیے گئے اسی نوعیت کے حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شیئر: