’غیر ملکی خواتین کا کیس سی سی ڈی کا نہیں بنتا‘، ڈی آئی جی فیصل کامران نے مزید کیا ’انکشافات‘ کیے؟
اتوار 5 جولائی 2026 15:26
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تاوان اور جنسی تشدد کے ہائی پروفائل کیس پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ کیس کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ(سی سی ڈی) کو نہیں دیا جا رہا بلکہ لاہور پولیس ہی اس کی تفتیش جاری رکھے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران سکرین پر ملزمان اور گاڑیوں کی تصویروں سمیت دیگر ثبوت بھی دکھائے جاتے رہے۔ فیصل کامران نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ایک انتہائی حساس نوعیت کا کیس تھا اس لیے تحقیقات کے دوران حقائق کو جان بوجھ کر عام نہیں کیا گیا تاکہ تفتیش متاثر نہ ہو۔ ان کے بقول ’اب چونکہ کیس کی بنیادی کارروائی مکمل ہو چکی ہے اس لیے حقائق سامنے لائے جا رہے ہیں۔‘
کیس کیسے سامنے آیا؟
ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق یکم جولائی کو دن 12 بج کر 40 منٹ پر پہلی کال موصول ہوئی جو سپین سے مغوی خاتون کے والد کارلوس نے کی تھی۔ کال کرنے والے نے بتایا کہ اس کی بیٹی اور اس کی ساتھی کو اغوا کر لیا گیا ہے اور انہیں جسم کاٹ کر ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق کال کرنے والے شخص نے پولیس کو کال کی ویڈیو بھی شیئر کی۔ فیصل کامران کے بقول ’اس وقت سپینش پولیس ان کے ساتھ موجود تھی اور انہوں نے پہلے اپنے ملک کی پولیس کو اطلاع دی تھی جو ان کے گھر پہنچی۔ ان کی موجودگی میں پاکستان میں 15 پر کال کی گئی۔ تاوان کے لیے کی گئی کال بھی ریکارڈ کی گئی تھی جو پولیس کو بھی فراہم کی گئی۔‘
فیصل کامران کے مطابق دونوں خواتین 29 جون کو لاہور پہنچی تھیں۔ ابتدائی طور پر پولیس کے پاس صرف اتنی معلومات تھیں کہ انہیں کس شخص نے مدعو کیا اور انہیں ایئرپورٹ سے وصول کرنے والی گاڑی کا نمبر کیا تھا۔
تحقیقات کا عمل
ڈی آئی جی فیچل کامران نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یکم جولائی کو ابتدائی معلومات اکٹھی کرنے پر تین مقامات کی نشاندہی ہوئی جہاں پولیس نے بیک وقت کارروائی کی۔ ان کے بقول ’گاڑی کے مالک کا موبائل نمبر سامنے آیا تاہم رابطہ کرنے پر وہ بند ملا۔ اس نمبر کی بنیاد پر مالک کے رشتہ داروں کے نمبرز اور مختلف پتے حاصل کیے گئے۔ متاثرہ خاتون کے والد کی جانب سے بھیجی گئی گاڑی کی تصویر سے بھی گاڑی کو ٹریس کیا گیا اور گاڑی کی لوکیشن کے ذریعے ملزم رضا ڈار تک رسائی ممکن ہوئی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’پہلا چھاپہ سرگودھا میں مارا گیا۔ اس کے بعد پولیس لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک گھر پر پہنچی۔‘
ڈی آئی جی کے مطابق اس گھر کے مکینوں نے بتایا کہ کچھ لوگ وہاں کرائے پر مختصر عرصہ رہ کر جا چکے ہیں اور انہوں نے بتایا کہ غالباً ان کا تعلق اہم حکومتی شخصیت کے خاندان سے ہے۔ اس کے بعد پولیس نے متعلقہ خاندان سے رابطہ کیا، ان سے نمبر حاصل کیا اور باقاعدہ تفتیش کا عمل شروع کیا۔
حکومتی سطح پر مداخلت
ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق جب یہ معاملہ وزیر اعلیٰ کے نوٹس میں آیا تو انہوں نے ملزم کو ٹریس کرنے کے لیے بہت کم وقت دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ سامنے آیا کہ اس میں ملک کی ایک بااثر شخصیت کا رشتہ دار ملوث ہے تو حکومت کی جانب سے واضح ہدایات دی گئیں کہ قانون کے مطابق جو بھی کارروائی مجرم کے خلاف بنتی ہے وہ کی جائے۔
ان کے بقول وزیر اعلیٰ کی جانب سے خود کال کی گئی جس میں انہیں سو فیصد میرٹ پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی اور کہا گیا کہ جو بھی ملوث ہو اس کے ساتھ میرٹ پر معاملہ کیا جائے۔
تاوان کا مطالبہ اور بازیابی
ڈی آئی جی کے مطابق ملزمان نے 15 لاکھ ڈالرز تاوان طلب کیا اور خواتین کو جسم کاٹ کر پھینکنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ ان کے مطابق اغواکاروں کی تفصیلات مغوی خاتون کے والد نے فراہم کیں تاہم تفتیش متاثر نہ ہونے کے پیش نظر ابتدا میں تمام تفصیلات میڈیا کے سامنے نہیں لائی گئیں۔
ڈی آئی جی فیصل کامران نے اپنی پریس کانفرنس میں اعتراف کرتے ہوئے کہا ’بازیابی کے عمل کے دوران جب ڈیوٹی مجسٹریٹ سے رابطہ نہ ہو سکا تو ایس ایچ او کو موقع پر بھیجا گیا۔‘ فیصل کامران نے اس مرحلے پر پیش آنے والے واقعے پر عدلیہ سے معذرت بھی کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’چونکہ وینزویلا کا سفارت خانہ پاکستان میں موجود نہیں اس لیے پولیس نے ڈچ سفارت خانے سے رابطہ رکھا۔ خواتین کی ٹکٹس کی تبدیلی کا خرچہ لاہور پولیس نے ادا کیا جبکہ بیان ریکارڈ کرائے جانے کے دوران ڈچ آنریری قونصل جنرل کو بھی عدالت بلایا گیا۔‘
ڈی آئی جی کے مطابق پولیس کے رویے پر دونوں خواتین نے اطمینان کا اظہار کیا اور روانگی کے وقت پاکستان کا جھنڈا بھی ساتھ لے کر گئیں۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ بازیابی کے آخری مرحلے میں جب خواتین ’فلٹر ہاؤس‘ نامی مقام پر پہنچیں تو اے ایس پی ڈیفنس موقع پر پہنچے جس کے بعد ایس پی کینٹ نے مرکزی ملزم رضا ڈار کو گرفتار کیا۔ یہ معاملہ سی سی پی او لاہور، آئی جی پنجاب اور حکومت کے نوٹس میں بھی لایا گیا تھا۔
گرفتاریاں
ڈی آئی جی کے مطابق کیس میں مرکزی ملزم کے علاوہ ’باس‘ کے نام سے پکارے جانے والے شخص کی شناخت وحید کے نام سے ہوئی اور اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ اس کے مسلح ساتھی بھی حراست میں ہیں۔ بعد ازاں چار مزید ملزمان کی گرفتاری کے بعد اس کیس میں مجموعی طور پر 8 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا ’جس شخص پر زیادتی کا الزام ہے وہ گرفتار ہے اور جس نے دھمکیاں دیں وہ بھی حراست میں ہے۔‘ ڈی آئی جی کے مطابق ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔
تفتیش کا دائرہ اختیار
ایک سوال کے جواب میں فیصل کامران نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ کیس کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو نہیں بھیجا جائے گا بلکہ جو دفعات مقدمے میں لگائے گئے ہیں ان کے تحت لاہور پولیس خود اس کی تفتیش کرے گی۔
عدالت میں درج بیانات کے مطابق واقعے کی تفصیل
دونوں متاثرہ غیر ملکی خواتین نے مجسٹریٹ کے سامنے 164 کا بیان بھی ریکارڈ کرایا ہے جس کی کاپی اردو نیوز کے پاس موجود ہے۔ 164 کے بیان کے تحت نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون نے بتایا ہے کہ ان کی ملزم محمد احمد رضا ڈار سے ملاقات اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ہوئی تھی جہاں دونوں کے درمیان کاروباری شراکت داری قائم ہوئی۔ ملزم نے خود کو صوبائی وزیر علی ڈار کا بیٹا ظاہر کیا اور دونوں خواتین کو سرمایہ کاروں سے ملاقات کے بہانے پاکستان آنے کی دعوت دی جس کے لیے ان کے ویزوں کا انتظام بھی خود کیا۔ متاثرہ خاتون کے مطابق ابتدائی تین چار روز اسلام آباد اور مری میں سیاحت، ہوٹل میں قیام اور نمائشی سرمایہ کاری کی ملاقاتوں پر مشتمل رہے جس کے بعد 29 جون کو ملزم انہیں لاہور کے علاقے ڈیفنس میں اپنے کزن کے گھر خالہ کی سالگرہ کے بہانے لے گیا جہاں چار مسلح افراد پہلے سے موجود تھے۔
بیان کے مطابق ان مسلح افراد نے دونوں خواتین کو باندھ کر تاوان کا مطالبہ شروع کیا جو دو لاکھ ڈالر سے بڑھتے بڑھتے بیس لاکھ ڈالر تک جا پہنچا۔ متاثرہ خاتون کے مطابق انہیں اور ان کی ساتھی کو الگ الگ کمروں میں رکھا گیا، مسلسل مارا پیٹا گیا اور خاندان سے رقم منگوانے کے لیے وائس نوٹس اور کالز پر مجبور کیا گیا۔ خاتون نے بتایا کہ خطرے کی صورت میں پہلے سے طے شدہ ایک کوڈ لفظ استعمال کر کے انہوں نے اپنے اہل خانہ کو خبردار کیا جس پر ان کے اہل خانہ نے فوری طور پر سپین میں پولیس سے رابطہ کیا۔ بیان کے مطابق دوران قید انہیں اور ان کی ساتھی کو جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
دوسری متاثرہ خاتوکا تعلق وینزویلا سے بتایا گیا ہے۔ ان کے بیان میں بھی اغواء کے دوران تشدد اور جنسی زیادتی کا سامنا کرنے کا ذکر موجود ہے۔ دونوں بیانات کے مطابق ملزمان نے ان کے موبائل فون کے ذریعے کرپٹو کرنسی والٹ سے بھی رقم اکاؤنٹس میں منتقل کروائی گئی۔
ایک جولائی کو بالآخر ملزم رضا ڈار انہیں گاڑی میں ایئرپورٹ چھوڑنے کے بہانے لے کر نکلا تاہم خواتین کو شبہ ہوا کہ وہ درست راستے پر نہیں جا رہا۔ گاڑی ایک حادثے کا شکار ہوئی تو دونوں خواتین موقع پا کر گاڑی سے کود گئیں اور ایک قریبی مکینک کی دکان میں پناہ لی جہاں سے مقامی افراد اور ایک ٹریفک اہلکار کی مدد سے پولیس کو بلایا گیا۔
صحافیوں کا احتجاج
پریس کانفرنس کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب ایک صحافی نے براہ راست ڈی آئی جی پر الزام عائد کیا کہ ان کی ٹیم انہیں نوکری سے نکلوانے کے لیے ان کے دفتر گئی تھی۔ اس پر فیصل کامران نے جواب دیا کہ وہ حلف اٹھا کر کہتے ہیں کہ وہ کسی کی نوکری نہیں کھا رہے۔ اسی دوران متعلقہ صحافی نے کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے اپنے الزام کو دہرایا۔ ڈی آئی جی نے جواب میں کہا کہ انہوں نے تو صحافیوں کو خود اس پریس کانفرنس کی دعوت دی تھی۔
معاملہ اس وقت مزید بگڑا جب ایک صحافی نے سوال اٹھایا کہ ایک جج کے گھر میں داخل ہونے سے متعلق درج ایف آئی آر میں ڈی آئی جی کا نام بھی شامل ہے اور پوچھا کہ کیا وہ خود بھی اس تحقیقات کا حصہ ہوں گے؟ اس سوال کے فوراً بعد فیصل کامران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیے بغیر پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔