Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی فضائیہ کے افسر کو گولی مارنے والا نوجوان گرفتار، ملزم پولیس کو کیسے چکمہ دیتا رہا؟

اسلام آباد پولیس نے پاکستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کے مرکزی ملزم سعد عباسی کو گرفتار کر لیا ہے۔
اتوار کی رات اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران انسپیکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد علی ناصر رضوی نے بتایا کہ پولیس نے جدید تفتیشی تکنیک کی مدد سے واقعے کے 9 گھنٹوں کے اندر ملزم سعد عباسی کو گرفتار کیا۔
آئی جی علی ناصر رضوی کا مزید کہنا تھا کہ یہ واقعہ اسلام آباد پولیس کے لیے ایک غیر معمولی کیس تھا، جس کی تفتیش کے لیے 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر انہیں مختلف تحقیقاتی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
ان ٹیموں میں ڈیجیٹل سرویلنس، سیلولر ٹیکنالوجی، پرائیویٹ اور سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لینے اور مینوئل چھاپے مارنے والے دستے شامل تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’تفتیش کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی کے 275 سیف سٹی کیمروں کے علاوہ 100 سے زائد نجی کیمروں کی فوٹیج کا معائنہ کیا گیا، جبکہ 137 فون کالز کا ڈیٹا (سی ڈی آرز) بھی حاصل کیا گیا۔‘
علی ناصر رضوی نے بتایا کہ ملزم کی سُراغ رسانی میں اے آئی ٹیکنالوجی نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے تجزیے کی مدد سے ملزم کے لباس، اس کی موٹرسائیکل کی نقل و حرکت اور واردات کے بعد ملزم کی جانب سے شرٹ تبدیل کرنے کی تصدیق کی گئی۔
’لاہور،میانوالی اور ایبٹ آباد میں ٹیمز روانہ کی گئیں‘
آئی جی اسلام آباد کا مزید کہنا تھا کہ ’حاصل شواہد کی بنیاد پر ملزم کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کا سُراغ لگایا گیا، جس سے اس کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی سامنے آیا۔‘
’پولیس کو معلوم ہوا کہ ملزم ایک ماہ قبل ایک خاتون کو اغوا کر کے میانوالی لے گیا تھا، تاہم وہ معاملہ خاندانوں نے آپس میں ہی حل کر لیا تھا اور پولیس تک نہیں پہنچ پایا تھا۔‘
اُنہوں نے اپنی گفتگو کے دوران بتایا ’ملزم کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا جس کی وجہ سے ایک ٹیم وہاں روانہ کی گئی، جبکہ ایک اور ٹیم میانوالی بھیجی گئی۔
’تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے ’سکائی ویز‘ بس سروس کے ذریعے لاہور کا ٹکٹ بھی بُک کروا رکھا ہے، جس پر ایک ٹیم فوری طور پر لاہور بھی روانہ کی گئی۔‘
علی ناصر رضوی نے کہا کہ ’اس کے علاوہ جُڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں ملزم کی گرفتاری کے لیے 13 مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے۔‘
’ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنا موبائل فون بند کر کے سِم نکال دی تھی اور انٹرنیٹ پر اپنی لوکیشن چُھپانے کے لیے متبادل آئی پی ایڈریس کا استعمال کر رہا تھا، تاہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کا پیچھا جاری رکھا گیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ڈیجیٹل پیغام رسانی اور دیگر تکنیکی شواہد کا جائزہ لینے کے بعد پولیس نے اسلام آباد کے علاقے کھنہ میں چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کر لیا اور اس کامیاب آپریشن میں 100 سے زائد پولیس افسران اور اہلکاروں نے حصہ لیا۔‘
پولیس تفتیش کے مطابق ’ملزم واردات کے بعد لاہور کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم وہ راستے میں ہی بس سے اُتر کر واپس کھنہ پُل میں واقع اپنی رہائش گاہ پر پہنچ گیا تھا۔‘
یہ واقعہ کیسے پیش آیا؟
واضح رہے کہ اتوار کی دوپہر اسلام آباد میں ایک خاتون کو اغوا سے بچانے کی کوشش کے دوران پاکستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق ملزم سعد عباسی اور اُس کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوار لڑکی نمرہ جی 6 مرکز میلوڈی میں واقع ایک کیش اینڈ کیری میں اکٹھے کام کرتے تھے، جبکہ وہ کھنہ میں ایک دوسرے کے پڑوسی بھی تھے۔ 
’ملزم اس روز خاتون کو موٹرسائیکل پر اپنے ساتھ لایا تھا، تاہم وہ اسے کیش اینڈ کیری لے جانے کے بجائے زبردستی کسی دوسری جگہ لے جانا چاہتا تھا، جس پر ان کے درمیان تکرار ہوئی۔‘
پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ جب ملزم کی موٹرسائیکل شاہین چوک سے گزر کر جناح ایوینیو پہنچی، تو وہاں دونوں کے درمیان تکرار شروع ہو گئی کیونکہ لڑکی نے ملزم کی بتائی ہوئی نامعلوم جگہ پر جانے سے انکار کر دیا تھا۔
اسی دوران وہاں سے گروپ کیپٹن عاصم طارق اپنی گاڑی میں گزر رہے تھے۔ انہوں نے لڑکی کو پریشانی کی حالت میں غیر محفوظ پایا تو اپنی گاڑی روکی اور اُن کے قریب آئے۔
انہوں نے ملزم کو اپنا تعارف کرایا اور اسے لڑکی کے ساتھ بدتمیزی کرنے سے منع کیا۔
آئی جی پولیس اسلام آباد کے مطابق ’ملزم اُس وقت تو وہاں سے چلا گیا، لیکن کچھ ہی دیر بعد موٹرسائیکل موڑ کر واپس آیا اور گروپ کیپٹن عاصم پر اُن کی گاڑی کے اندر ہی فائرنگ کر دی۔‘
یاد رہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی اسلام آباد میں پیش آنے والے اس واقعے کی شدید مذمت کی تھی اور اسلام آباد پولیس کو ملزم کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے۔
 

شیئر: