سری لنکا کی جیل میں ہنگامہ آرائی، جھڑپوں میں 25 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
سری لنکا کی ایک جیل میں پیر کے روز قیدیوں کے دو گروہوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 100 زخمی ہو گئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولیس کے دو اور ایک ہسپتال ذریعے سے اس واقعے کی تصدیق کی۔
اے ایف پی کے مطابق قیدیوں کے دو گروہوں کے درمیان خونریز جھڑپوں میں چار جیل اہلکار بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ گزشتہ پانچ برس سے زائد عرصے میں ملک کا سب سے ہلاکت خیز جیل فساد ہے۔
پولیس کے مطابق دارالحکومت کولمبو کے شمال میں واقع نیگومبو کی مرکزی جیل میں اتوار کی شب منشیات فروش گروہوں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے درمیان تصادم شروع ہوا، جس کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر نیگومبو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ہسپتال کی ڈائریکٹر پشپا گملاتھ نے اے ایف پی کو بتایا کہ سرکاری ہسپتال میں 23 لاشیں لائی گئی ہیں، جبکہ 100 سے زائد زخمی قیدیوں اور جیل اہلکاروں کو بھی داخل کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا، ’کچھ زخمیوں کو گولیاں لگی ہیں، جبکہ بعض کے جسم پر گہرے زخم اور شدید چوٹوں کے نشانات ہیں۔‘
حکام کے مطابق جھڑپیں اتوار کی شام نیگومبو جیل میں شروع ہوئیں، جہاں کئی ہزار قیدی قید ہیں۔
ہنگامہ پھیلنے کے بعد جیل کے خواتین وارڈ میں موجود قیدی چھت پر چڑھ گئے اور اپنی رہائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ پولیس کے مطابق چھت کا ایک حصہ گرنے سے کئی خواتین قیدی بھی زخمی ہوئیں۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے پیر کو پولیس کمانڈوز کو طلب کیا گیا، تاہم انہیں جیل کے اندر تعینات نہیں کیا گیا۔
اس دوران قیدیوں کے اہلِ خانہ کی بڑی تعداد جیل کے باہر جمع ہو گئی، جبکہ فضائیہ نے علاقے کی نگرانی کے لیے ڈرونز اور ایک ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیا۔ مقامی رہائشیوں نے فائرنگ کی آوازیں سننے کی بھی اطلاع دی۔
ایک پولیس اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا،’چار جیل اہلکار ہنگامہ روکنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہوئے۔ آج صبح صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو گئی تھی۔‘
دسمبر 2020 میں بھی سری لنکا کی ایک اور جیل میں ہونے والے ہنگامے کے دوران 11 قیدی ہلاک اور 117 زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ کورونا وبا کے دوران پیش آیا تھا، جس کے بعد حکومت نے جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے سیکڑوں قیدیوں کو رہا کیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتوار تک سری لنکا کی مختلف جیلوں میں مجموعی طور پر 41 ہزار 250 قیدی موجود تھے، جو ان جیلوں کی مجموعی گنجائش سے تقریباً چار گنا زیادہ ہیں۔