اسرائیل کا ’ای ون منصوبہ‘ دو ریاستی حل کے لیے خطرہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟
اسرائیل کا ’ای ون منصوبہ‘ دو ریاستی حل کے لیے خطرہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟
اتوار 23 اگست 2026 18:40
یورپی یونین نے ابتدائی طور پر اسرائیل کے خلاف متعدد اقدامات کی فہرست تیار کی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
غزہ کے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری میں توسیع کے خلاف یورپی یونین اور عرب ممالک کی جانب سے مذمت اور ممکنہ پابندیوں کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم اسرائیلی حکومت کے مشرقی یروشلم میں متنازع ای ون سیٹلمنٹ منصوبے نے عالمی سطح پر تشویش میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
’عرب نیوز‘ کے مطابق ماہرین اور فلسطینیوں کے خیال میں ای ون منصوبہ محض ایک اور آبادکاری کا منصوبہ نہیں بلکہ مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
فلسطین سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن ایہاب حسن نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’ای ون منصوبے کی اہمیت اس کے محل وقوع کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ مشرقی یروشلم اور اسرائیلی بستی معالیہ ادومیم کے درمیان واقع ہے۔‘
ان کے مطابق ’اس منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں مغربی کنارے کا جنوبی حصہ شمالی حصے سے کٹ جائے گا اور دو ریاستی حل عملاً ختم ہوجائے گا۔‘
فلسطینی شہری اس وقت مغربی کنارے کے شمالی شہروں رام اللہ اور نابلس سے جنوبی شہروں بیت لحم اور الخلیل جانے کے لیے ابو جارج روڈ اور انتہائی محدود ہائی وے ون استعمال کرتے ہیں، جو معالی ادومیم بستی کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔
ای ون منصوبے کے تحت 3 ہزار 400 سے زائد رہائشی یونٹس تعمیر کیے جانے کی تجویز ہے، جس سے فلسطینیوں کے زیرِاستعمال مرکزی زمینی راستہ مزید محدود ہوجائے گا اور آمدورفت مشرقی یروشلم کے ایک تنگ، گنجان اور سخت نگرانی والے راستے تک محدود ہونے کا خدشہ ہے۔
منگل کو اسرائیلی وزارت تعمیرات و ہاؤسنگ نے مشرقی یروشلم کے علاقے ای ون میں ایک ہزار 200 سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر بھی جاری کیا ہے۔
ایہاب حسن کے مطابق ’یہ منصوبہ مشرقی یروشلم کو مغربی کنارے سے الگ کردے گا، حالانکہ یہی علاقہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے دو ریاستی حل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔‘
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) کی جانب سے دستیاب نقشوں میں بھی علاقے میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں اور متعدد فلسطینی آبادیوں کے ممکنہ انخلا کی صورت حال واضح کی گئی ہے۔
ای ون منصوبہ صرف مشرقی یروشلم کو الگ تھلگ کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس سے متعدد فلسطینی آبادیوں کی مستقل بے دخلی کا خدشہ بھی ہے۔
سعودی عرب سمیت متعدد عرب اور مسلم ممالک بھی ای ون منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کرچکے ہیں (فوٹو: او ایچ سی اے)
اوچا کے مطابق ’سنہ 2009 سے اب تک ای ون منصوبے کے لیے مختص علاقے میں موجود 18 بدوی آبادیوں میں اسرائیلی حکام پانچ سو سے زائد فلسطینی ملکیتی ڈھانچے مسمار کرچکے ہیں، جس کے نتیجے میں نو سو سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔‘
جمعے کو یہ بھی سامنے آیا کہ یورپی یونین نے ابتدائی طور پر متعدد اقدامات کی فہرست تیار کی ہے، جنہیں اسرائیل کی جانب سے ای ون منصوبے پر تعمیر شروع کیے جانے کی صورت میں نافذ کیا جاسکتا ہے۔
اس سے قبل سعودی عرب سمیت متعدد عرب اور مسلم ممالک بھی ای ون منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کرچکے ہیں۔
ایہاب حسن کے مطابق ’متعدد یورپی حکومتیں، امریکہ اور عرب ممالک ای ون منصوبے کو ناقابل قبول قرار دے رہے ہیں، کیونکہ دیگر اسرائیلی آبادکاری کے منصوبوں کے برعکس ای ون پر عمل درآمد کی صورت میں دو ریاستی حل کے لیے باقی رہ جانے والی گنجائش بھی ختم ہوجائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بعض اسرائیلی آبادکاری کے منصوبوں کو مذاکرات کے ذریعے کسی حد تک قابلِ بحث سمجھا جاسکتا ہے، لیکن ای ون منصوبے پر عمل درآمد ہوگیا تو معاملہ ختم ہوجائے گا۔‘