ایران جنگ: اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 757 زخمی، اخراجات میں بھی اضافہ
ایران جنگ: اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 757 زخمی، اخراجات میں بھی اضافہ
جمعہ 21 اگست 2026 6:53
اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب لڑائی کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے (فوٹو: سینٹ کام)
فروری کے اواخر میں ایران کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ میں اب تک امریکہ کے ساڑھے سات سو سے زائد فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ میں پینٹاگون کے اعداد و شمار کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ اس تعداد سے جنگ پر بڑھتے اخراجات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق اب تک زخمی ہونے والے 757 اہلکاروں میں سب سے زیادہ تعداد بری فوج کے اہلکاروں کی ہے جو 580 ہے جبکہ بحریہ کے 86، فضائیہ کے 64 اور 19 مرینز بھی مجموعی تعداد میں شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں امریکہ کے 18 فوجی ہلاک بھی ہو چکے ہیں جو کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔
ہلاک اور زخمی ہونے والے بہت سے فوجیوں کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ میں شامل کیا گیا ہے جو کہ اس جنگ کا سرکاری نام ہے تاہم پینٹاگون نے جولائی کے اواخر سے ایک نئی کیٹگری ’اوورسیز آپریشنز‘ بھی ریکارڈ میں شامل کی ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی آپریشن ایپک فیوری کے خاتمے کے بعد کی گئی ہے اور اس کے بعد امریکی فوج کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کو اوورسیز آپریشنز میں شامل کیا گیا ہے۔
لڑائی 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
پینٹاگون اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس بارے میں بہت کم تفصیلات جاری کی ہیں کہ امریکی فوجی کب اور کس طرح زخمی ہوئے یا ایران کے حملوں کی وجہ سے امریکی اڈوں کو کتنا نقصان پہنچا۔
تاہم حکام کی جانب سے اتنا بتایا گیا ہے کہ زخمیوں میں سے زیادہ تر کو برین ٹرامیٹک انجریز کا سامنا ہے جو شدید دھماکوں سے پیدا ہونے والی لہروں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
ہلاکتوں اور زخمیوں کے یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اس لڑائی پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پچھلے مہینے کانگریس کے ارکان کو بتایا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ پر براہ راست اخراجات قریباً 87 اعشاریہ پانچ ارب ڈالر تک پہنچ کے ہیں۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پچھلے مہینے کانگریس کو بتایا تھا کہ جنگ کے اخراجات 87 اعشاریہ پانچ ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب پینٹاگون نے عوامی سطح پر جنگ کے اخراجات پیش کیے۔
امریکہ حکومت کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں جاری فوری کارروائیوں کے لیے مزید اربوں ڈالر کی اضافی رقم مانگی گئی ہے۔
ارکان کانگریس کو فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق قریباً 87 اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی ہنگامی فنڈنگ کی درخواست میں پینٹاگون کے لیے قریباً 67 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ یہ رقم ہتھیاروں اور گولہ بارود، فوجی کارروائیوں پر اٹھنے والے اخراجات اور دوسرے خفیہ پروگراموں پر خرچ کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔