الافلاج کا 'قصر الحائط'، مملکت میں سونا پگھلانے کا پہلا تاریخی مرکز
سعودی عرب کے علاقے الافلاج میں واقع تاریخی قصر الحائط صدیوں پہلے سونے کی کان کنی اور زیورات سازی کا اہم مرکز تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ مقام جزیرۂ عرب میں سونا پگھلانے کی قدیم ترین جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔ قصر الحائط میں سونا پگھلانے اور زیورات بنانے کے لیے متعدد بھٹیاں قائم تھیں۔ محل کی حفاظت کے لیے اس کی فصیل کے ساتھ ایک لمبی اور گہری خندق بنائی گئی تھی جس میں پانی بھرا رہتا تھا۔ اس خندق کے آثار آج بھی موجود ہیں۔
ماہر آثارِ قدیمہ ابوسعد کے مطابق فصیل کے اندر 22 سے زائد بھٹیوں کے آثار آج بھی محفوظ ہیں جہاں سونا پگھلا کر زیورات تیار کیے جاتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ محل کی دوسری منزل پر بھی بھٹیوں کے نشانات موجود ہیں جو اس دور کی ترقی یافتہ دھات سازی کی گواہی دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فصیل کے باقی ماندہ آثار سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی چوڑائی کم از کم تین میٹر تھی۔
قصر الحائط آج بھی سعودی عرب کے معدنی، صنعتی اور تاریخی ورثے کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے