Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پابندی کے بعد ’ستلج‘ کی انڈین پنجاب کے دیہات میں عوامی نمائش، ’سچ دبایا نہیں جا سکتا‘

پنجاب کے مختلف دیہات میں بڑی سکرینز پر فلم ’ستلج‘ کی عوامی نمائش کی جا رہی ہے (فوٹو: ٹریبیون انڈیا)
انڈین گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’ستلج‘ سٹریمنگ پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد بھی انڈیا میں بڑی سکرینز پر چل رہی ہے۔
جب فلم کو دو روز بعد پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا تھا تو دلجیت دوسانجھ نے کہا تھا کہ کہ اب انہیں فلم کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں رہی۔ لوگ اسے ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں اور ایک بار فلم ریلیز ہوجائے تو اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘
ٹریبیون انڈٰیا کی رپورٹ بھی ان کے الفاظ درست ثابت کر رہی ہے جہاں بڑی سکرینز اور پروجیکٹرز کے ذریعے عوامی سطح پر فلم کی نمائش کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک بھی ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کے مختلف گروپ گوردواروں کے صحنوں میں رات کے وقت فلم کو بڑی سکرینز پر چلانے کا انتظام کر رہے ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ پہنچتے ہیں۔

منگل کی شام کو فلم کی نمائش ضلع امرتسر کے گاؤں پنڈوری میں کی گئی جبکہ دوسرے گروپ نے گورداسپور کے گاؤں شیخوپورہ اور پنجوار جبکہ ضلع ترن تارن کے مختلف دیہات میں بھی فلم دکھانے کا اہتمام کیا گیا جبکہ ماجھا کے دیہات میں بھی لوگوں نے اس کو شوق سے دیکھا۔

انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی اور جدوجہد پر بنی اس فلم کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد اس کی ڈاؤن لوڈ شدہ بے شمار کاپیز بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہیں۔
مقامی نوجوانوں کے علاوہ کئی مذہبی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں بھی اس مہم میں شامل ہو گئی ہیں۔
ضلع گورداسپور سے تعلق رکھنے والے اور سپورٹس کی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کام کرنے والے سلطان سنگھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے دوستوں سے مل کر گاؤں میں فلم کی نمائش کرنے کے انتظامات کیے۔

فلم ’ستلج‘ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی اور جدوجہد پر مبنی ہے (فوٹو: مووی ٹاکیز)

اسی طرح ’اکال دل وارث پنجاب دے‘ کے رہنما رشپال سنگھ سوسن کا کہنا ہے کہ منگل کی شب درولی بھائی اور گھال کلاں کے دیہات میں فلم کی نمائش کی گئی جس کو دیکھنے کے لیے لوگوں کی کثیر تعداد پہنچی۔
ان کا کہنا تھا کہ بدھ کو ضلع موگا کے چار دیہات میں فلم چلانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فلم کو روکنے کی کوششیں لوگوں کو جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی اور قربانی کے بارے میں آگاہی سے نہیں روک سکتیں۔
’انہوں نے سچ کو سامنے لانے کے لیے اپنی جان دی اور یہی سچ فلم میں دکھایا گیا ہے جس کو فلم کی راہ روک کر دبایا نہیں جا سکتا۔‘

شیئر: