پہاڑ کی چوٹی پر ابہا کا تاریخی ’قلعہ شمسان‘ جو آج ایک سیاحتی مقام ہے
فصیل پر جگہ جگہ نگرانی کے لیے واچ ٹاورز بنے ہوئے ہیں۔( فوٹو: ایس پی اے)
عسیر ریجن میں ابھا شہر کے شمالی سمت میں واقع پہاڑ کی چوٹی پر قائم ’قلعہ شمسان‘ عہدِ رفتہ میں شہر کی نگرانی اور دیکھ بھال کے لیے بنایا گیا تھاـ اب یہ ریجن کا اہم سیاحتی مقام بن گیا ہے۔
یہ قلعہ، علاقے کی گہری تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔ اس کی فصیل پر جگہ جگہ شہر کی نگرانی کے لیے واچ ٹاورز بنے ہوئے ہیں۔
ان واچ ٹاورز پر موجود اہلکار شہر کی نگرانی کیا کرتے تھے۔ فصیلوں پر موجود اہلکاروں کی نظروں سے شہر میں داخل ہونے یا نکلنے والا کوئی بھی شخص بچ نہیں سکتا تھا۔
کنگ خالد یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹرسعد عثمان نے بتایا ’ماضی میں اس قلعے کی بہت اہمیت تھی۔ اور یہ اہم فوجی چوکی کے طور پر بھی استعمال ہوا کرتا تھا۔ یہاں موجود اہلکار ابھا شہرکا دفاع اورحفاظت کےلیے تعینات رہتے تھے۔‘
شمسان قلعہ مستطیل شکل کا بنا ہوا ہے اور اس کی لمبائی 90 میٹر اور چوڑائی 30 میٹر کے قریب ہے جبکہ اس کا مجموعی رقبہ 2700 مربع میٹر کے قریب ہے۔

حال ہی میں قلعے کی ترمیم و تعمیر نو کی گئی ہے۔ ماضی میں یہ قلعہ اہم مقام ہوا کرتا تھا آج ایک جیتی جاگتی تاریخ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
ڈاکٹر سعد عثمان نے کہا ’ماضی کا ایک اہم قلعہ آج تاریخ کی یاد گاراورورثے کے طورپر ہمارے سامنے ہے۔ یہ قلعہ اب عسیر ریجن کا ایک اہم سیاحتی مقام بن گیا ہے۔‘

قلعے کا محل وقوع اور اس کی بلندی بپت اہم ہے۔ اسے پہاڑی پر بنانے کا مقصد شہر کی نگرانی اور دفاع تھا کیونکہ یہاں سے شہر کا پورا منظر نگرانوں کے سامنے رہتا تھا۔ اس کی سٹریٹیجک پوزیشن ہی اسے اہم بناتی ہے جو ابھا کی پہلی دفاعی لائن مانی جاتی تھی۔
ماضی میں ابھا کی نگرانی کرنے والا قلعہ آج نسلِ نو کو اپنے عظیم الشان ماضی کی یادگار سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
