اسپانتک چوٹی سر کرنے والی کوہ پیما اسما مشتاق واپسی کے دوران چل بسیں
اسپانتک چوٹی سر کرنے والی کوہ پیما اسما مشتاق واپسی کے دوران چل بسیں
جمعہ 21 اگست 2026 12:54
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
اسپانتک چوٹی گلگت بلتستان میں سلسلۂ کوہ قراقرم میں واقع ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
لاہور سے تعلق رکھنے والی 36 سالہ اسما مشتاق گلگت بلتستان میں سلسلۂ قراقرم کی سرفلک اور دشوار گزار چوٹی اسپانتک کو تسخیر کرنے کا خواب دل میں بسائے مہم جوئی پر روانہ ہوئیں، مگر کسے معلوم تھا کہ زندگی کا یہ دشوار سفر ان کا آخری سفر ثابت ہوگا۔
خواتین کوہ پیماؤں کی پانچ رکنی ٹیم کے ہمراہ اس سرکش پہاڑ کا چیلنج قبول کرنے والی اسما مشتاق نے سات ہزار ستائیس میٹر بلند اسپانتک چوٹی پر کامیابی سے قدم تو جما لیے، لیکن کامرانی کی یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
چوٹی فتح کرنے کے بعد جب وہ نیچے واپسی آ رہی تھیں تو قریباً چھ ہزار چور سو میٹر کی بلندی پر ان کی طبیعت بگڑ گئی۔
برفانی ہوائیں اور آکسیجن کی انتہائی کمی ان کی راہ میں حائل ہو گئی اور انتہائی مشکل حالات میں ماؤنٹین گائیڈز کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسما مشتاق ہمیشہ کے لیے موت کی وادی میں چلی گئیں۔
اسما مشتاق کی موت پر رنجیدہ ہیں: الپائن کلب
ڈاکٹر اسما مشتاق کی موت پر الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ر) عرفان ارشد خان اور سیکرٹری جنرل ایاز احمد شگری سمیت کلب کی پوری ٹیم نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
الپائن کلب کے مطابق ’وہ پاکستان کی 5 رکنی خواتین ٹیم کا حصہ تھیں جنہوں نے اس مشکل مہم کو کامیابی سے انجام دیا۔ کلب نے سخت ترین حالات کے باوجود اسما مشتاق کو بچانے کی کوشش کرنے والے ماؤنٹین گائیڈز کی بہادری اور لگن کو بھی سراہا اور اس نقصان کو کوہ پیمائی برادری کے لیے عظیم خسارہ قرار دیتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔‘
ڈاکٹر اسما مشتاق کا تعلق لاہور سے تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایکسپیڈیشن انتظامیہ اور الپائن کلب کے باضابطہ بیان کے مطابق برطانیہ میں بطورِ معالج خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر اسما مشتاق نے مکمل عزم اور اچھی صحت کے ساتھ اسپانتک چوٹی کو کامیابی سے سر کیا تھا۔
تاہم کامیابی حاصل کرنے کے فوراً بعد نیچے واپسی کے سفر کے دوران انہیں اچانک شدید طبی ہنگامی صورتحال نے جکڑ لیا۔
ماؤنٹین گائیڈز کی امدادی کوششیں
ایکسپیڈیشن ٹیم کا کہنا ہے کہ شدید ترین برفانی حالات اور آکسیجن کی انتہائی کمی کے باوجود ان کے ساتھ موجود ماؤنٹین گائیڈز اکبر علی اور محمد امین نے انہیں بچانے اور طبی امداد فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
معروف پاکستانی کوہ پیما (الپنسٹ) شہروز کاشف نے بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے ان ماؤنٹین گائیڈز کی ہمت اور جرات کو سراہا جو اس المناک گھڑی میں آخر تک ان کے ساتھ ڈٹے رہے۔
اسما مشتاق اس سے قبل بھی کئی چوٹیوں پر مہم جوئی کر چکی تھیں (فوٹو: فیس بک، اسما مشتاق)
مہم جوئی کی منتظم کمپنی نے بتایا ہے کہ وہ انتظامی امور اور تدفین کے اگلے مراحل کے لیے متعلقہ حکام اور اسما مشتاق کے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
وی لاگر سے کے ٹو کے خواب تک
ڈاکٹر اسما مشتاق پیشے کے لحاظ سے ایک ماہرِ معالج تھیں جو برطانیہ میں زنانہ امراض و جراحت کے شعبے میں بطور ماہر اپنی خدمات انجام دے رہی تھیں۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ پرجوش سیاح، وی لاگر اور ایڈونچر پسند کوہ پیما تھیں، جو اپنی تمام مہمات کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتی تھیں۔
کوہ پیمائی کے شعبے میں ان کی سب سے بڑی اور نمایاں کامیابی گلگت بلتستان میں واقع دشوار گزار اسپانتک چوٹی (گولڈن پیک) کی کامیاب تسخیر تھی، جسے انہوں نے پاکستان کی 5 رکنی خواتین ٹیم کے ہمراہ سر کیا۔
اس کے علاوہ وہ خیبر پختونخوا میں واقع چار ہزار 76 میٹر بلند ’موسیٰ کا مصلیٰ‘ چوٹی کی سخت ترین سردیوں میں مہم جوئی مکمل کر چکی تھیں، جبکہ روپل اور اراندو کے برفانی و دشوار گزار راستوں پر مہمات کا حصہ بھی رہیں۔
وہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کا عزم رکھتی تھیں اور 2024 میں انہوں نے ایک مالی معاونت کی اپیل سے متعلق تحریر میں خود کو ’ایک ڈاکٹر اور کوہ پیما‘ کے طور پر متعارف کرایا تھا۔
اسما مشتاق اس سے قبل بھی مہمخیبر پختونخوا میں واقع چار ہزار 76 میٹر بلند ’موسیٰ کا مصلیٰ‘ چوٹی کی سخت ترین سردیوں میں مہم جوئی مکمل کر چکی تھیں
اسپانتک چوٹی کہاں واقع ہے؟
اسپانتک چوٹی جسے عالمی سطح پر ’گولڈن پیک‘ بھی کہا جاتا ہے پاکستان کے بالائی علاقے گلگت بلتستان میں وادیِ شگر اور وادیِ نگر کے درمیان سلسلۂ کوہ قراقرم میں واقع ہے۔
7,027 میٹر بلند یہ چوٹی کوہ پیمائی کی دنیا میں ایک خاص اور ممتاز مقام رکھتی ہے۔ اس پہاڑ کی سب سے بڑی منفرد خصوصیت اس کی جنوب مشرقی سمت میں موجود پیلے اور گلابی رنگ کے سنگِ مرمر کی ایک بہت بڑی عمودی چٹان ہے، جس پر سورج کی سونا اگلتی کرنیں پڑتے ہی پورا پہاڑ سونے کی طرح چمکنے لگتا ہے۔
کوہ پیماؤں کی برادری میں اسے آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی مہم جوئی سے قبل تیاری اور مشق کے لیے بہترین اور مقبول ترین چوٹی سمجھا جاتا ہے تاہم چھ ہزار میٹر سے اوپر آکسیجن کی شدید کمی اور اچانک بدلتا برفانی موسم اسے بے حد پرخطر بنا دیتا ہے۔