عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل نہ ہونے کرنے پر پی ٹی آئی کا توہینِ عدالت کی درخواست اور احتجاجی تحریک تیز کرنے کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہ کرنے پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرنے اور ملک گیر احتجاجی تحریک تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جمعہ کو اسلام آباد میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی،عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گھنٹوں انتظار کے بعد علی الصبح انتظامیہ نے انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ عمران خان کا پمز میں معائنہ کرایا جا چکا ہے اور اب انہیں شفاء ہسپتال منتقل نہیں کیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ انہیں رات قریباً سوا آٹھ بجے اڈیالہ جیل پہنچنے کی اطلاع دی گئی تھی، جس کے بعد ساڑھے بارہ بجے ایک متبادل راستے سے پمز اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی عمران خان سے ملاقات کروائی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بتایا کہ ان کے ساتھ شدید ناانصافی کی جا رہی ہے انہیں دس ماہ سے ٹی وی دیکھنے کی اجازت نہیں ملی جبکہ مطالعے کا مواد بھی دستیاب نہیں ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق پمز اسپتال میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا معائنہ کیا گیا اور معالج نے ان کی آنکھ کا ایک خاص ٹیسٹ بھی تجویز کیا۔‘انہیں امید تھی کہ انتظامیہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل منتقل کرے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔‘
عظمی خان کے مطابق انتظامیہ سے جب سپریم کورٹ کے حکم کے بارے میں استفسار کیا گیا تو کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا اور فجر کے وقت واپس اڈیالہ جیل منتقل کر کے جانے کا کہہ دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اُنہیں بتایا کہ مجھے دس ماہ سے مسلسل ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ تنہائی کی وجہ سے وہ ہائپر ٹینشن کا شکار ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق وہ سپریم کورٹ کے احکامات سے اتنے پرامید تھے کہ باقاعدہ سوٹ کیس بھی ساتھ تیار رکھا ہوا تھا انہوں نے اطمینان ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی تندرست ہیں اور ان کی آنکھ کا مسئلہ بھی اب بہتر ہو رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ انہیں رات سوا بارہ سے ساڑھے بارہ بجے کے درمیان اڈیالہ طلب کیا گیا، جس کے بعد وہ قریباً پونے گھنٹے کی مسافت طے کر کے شفاء انٹرنیشنل پہنچے۔
ہسپتال میں ڈھائی تین گھنٹے انتظار کروانے کے بعد ساڑھے چار بجے مطلع کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو نہیں لایا جا رہا لہذا وہ چلے جائیں اور رابطہ نہ ہونے اور موبائل فون پاس نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال سمجھنا ممکن نہیں تھا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کا رویہ سراسر نامناسب تھا۔ اگر عدلیہ انصاف فراہم کرنے اور اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کروانے سے قاصر ہے تو عام پاکستانی انصاف کے لیے کہاں جائیں گے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کا رویہ سراسر نامناسب تھا اگر عدلیہ ہی انصاف کی فراہمی اور اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہے گی تو عام شہری انصاف کے لیے کہاں جائے گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سپریم کورٹ کے تین ججز بانی پی ٹی آئی کے علاج کا واضح حکم دے چکے ہیں، تو انتظامیہ اس قدر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیوں کر رہی ہے یہ طرزِ عمل آئین و قانون کو پامال کرنے اور کھلم کھلا توہینِ عدالت کے مترادف ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سٹریٹ موومنٹ میں شدت لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ کل سے پورے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی فورم پر عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کے لیے جدوجہد بھی جاری رکھی جائے گی۔