فٹ بال ورلڈ کپ کا اہم ترین راؤنڈ شروع ہوچکا ہے۔ 48 میں سے آٹھ ٹیمیں کوارٹر فائنل میں پہنچ گئی ہیں۔ آج سے ان کے میچز شروع ہوجائیں گے۔ چار خوش نصیب سیمی فائنل میں پہنچیں گے اور پھر ان میں سے دو فائنل میں اور دیکھیں اس بار ورلڈ کپ ٹرافی اٹھانا کس کے مقدر میں ہے۔
کوارٹر فائنل میں پہنچنے والی آٹھ ٹیمیں مراکش، فرانس، سپین، بیلجئم، ارجنٹائن، سوئٹزرلینڈ، انگلینڈ اور ناروے ہیں۔ چھ یورپی ٹیمیں، ایک افریقی اور صرف ایک لاطینی امریکی ٹیم۔
کوارٹر فائنل اور ان کے معرکوں پر بات کرتےہیں، دیکھتے ہیں فٹ بال ماہرین اور تجزیہ کار کسے فیورٹ قرار دے رہے ہیں، مگر پہلے ایک نظر راؤنڈ آف سولہ پر ڈال لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں
راؤنڈ آف 16 سے آوٹ ہونےوالی بدقسمت ٹیمیں
اس بار تین ملک (امریکہ، کینیڈا، میکسیکو) میزبان تھے، تینوں اتفاق سے 16 کے راؤنڈ میں پہنچ گئے، ایک وجہ تو فیفا کی ان پرمبینہ مہربانی تھی کہ ان کا راستہ کچھ آسان رکھا گیا، مگر بہرحال انہوں نے پرفارم بھی کیا۔ البتہ اس راؤنڈ میں تینوں آوٹ ہوگئیں۔ کینیڈا کو مراکش نے تین صفر سے ہرایا، امریکہ کو بیلجئم نے چار ایک سے آؤٹ کلاس کیا، اور میکسیکو انگلینڈ کے ہاتھوں تین دو کے کانٹے دار مقابلے میں ہارا۔ میکسیکو کی رخصتی میں البتہ ایک جذباتی منظر تھا، چالیس سالہ گول کیپر اوچووا نے میدان چھوڑنے سے پہلے گول پوسٹ کو چوما اور نم آنکھوں سے شائقین کو جھک کر سلام کیا۔
امریکہ کی رخصتی کی کہانی سب سے دلچسپ ہے۔ ہوا یوں کہ امریکی ٹیم کے سب سے بڑے سکورر بالوگن کو راؤنڈ آف بتیس میں بوسنیا کے خلاف ریڈ کارڈ ملا، جس کا مطلب اگلے میچ سے باہر ہونا تھا۔ یہاں صدر ٹرمپ میدان میں کود پڑے۔ انہوں نے فیفا کے سربراہ انفانتینو کو فون کھڑکایا اور معاملے پر نظرثانی کی فرمائش کر ڈالی۔ فیفا نے حیران کن طور پر پابندی معطل کر دی، اور یہ 1962 کے بعد پہلا موقع تھا کہ ورلڈ کپ میں کسی ریڈ کارڈ والی پابندی یوں اٹھا لی گئی ہو۔
امریکہ کا میچ بیلجئم سے تھا۔ فطری طور پر بیلجئم کی ٹیم مینجمنٹ، یورپی فٹ بال باڈی اور سابق فٹ بالرز سب سیخ پا ہوگئے۔ مزے کی بات یہ کہ خود ٹرمپ نے بعد میں تسلیم کیا کہ انہیں تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ریڈ کارڈ ہوتا کیا ہے۔ قدرت کا انصاف دیکھیے، بالوگن میدان میں تو اترا مگر ایک گول نہ کر سکا، اور بیلجئم نے امریکہ کو چار ایک سے دھو ڈالا۔

افسوس ناک اختتام
صرف تینوں میزبان ممالک ہی آؤٹ نہیں ہوئے بلکہ بعض اپ سیٹ بھی ہوئے۔ برازیل جیسی بڑی ٹیم ناروے کے ہاتھوں دو ایک سے ہار گئی۔ نارویجن سٹرائیکر ہالینڈ (اصل نارویجئن نام ہالاند) نے دو گول داغے۔ یہ 1990 کے بعد برازیل کا سب سے جلد ورلڈ کپ سے اخراج تھا۔ آخری لمحوں میں مشہور برازیلین فارورڈ نیمار نے پنالٹی پر ایک گول کر دیا مگر میچ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
فائنل وسل بجی تو نیمار وہیں نیو جرسی کے میدان میں گر کر رونے لگا، وہی میدان جہاں سے 2010 میں اس کا بین الاقوامی سفر شروع ہوا تھا۔ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، یہیں سے شروع ہوا تھا، یہیں ختم ہوا، بس اب سب ختم۔ 34 سالہ نیمار کو اس ٹورنامنٹ میں پنڈلی کی چوٹ نے آدھے سے زیادہ وقت باہر رکھا، مگر اس کی رخصتی ایک عہد کے خاتمے کا اعلان تھی۔
اگلا عہد پرتگال کے ساتھ تمام ہوا۔ سپین نے پرتگال کو ایک صفر سے ہرا کر باہر کیا اور یوں پچھلے پندرہ بیس برسوں کے ایک عظیم فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈ کپ کا سفر ہمیشہ کے لیے تمام ہوگیا۔ یہ اس کا چھٹا ورلڈ کپ تھا، ایک ایسا اعزاز جو صرف میسی کے ساتھ مشترک ہے۔ 41 سالہ رونالڈو میدان سے نم آنکھوں کے ساتھ رخصت ہوا۔ اوچووا، نیمار، رونالڈو اور جرمنی کا نوئیر، ایک ہی ہفتے میں کئی نسلوں کے ستارے اپنا آخری رقص مکمل کر کے پردے کے پیچھے چلے گئے۔
سب سے متنازع ارجنٹائن اور مصر کا میچ رہا۔ مصر دو گول سے آگے تھا، محمد صلاح کی ٹیم عالمی چیمپئن کو اس کے اپنے ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے دہانے پر کھڑی تھی۔ مصر کا ایک اور گول وی اے آر پر کالعدم قرار دیا گیا، وہ بھی ایسے فاؤل کی بنیاد پر جو میدان کے دوسرے سرے پر ہوا تھا۔ ماہرین اور سابق ریفری تک حیران تھے کہ یہ وی اے آر کے دائرہ کار میں آتا بھی ہے یا نہیں۔ اس سے پہلے میسی کی ایک پنالٹی بھی مصری گول کیپر نے روک دی تھی۔ پھر اچانک منظر بدلا، ارجنٹائن نے آخری پندرہ منٹ میں تین گول کر ڈالے، رومیرو، میسی اور 92ویں منٹ میں اینزو فرنانڈس کے فیصلہ کن ہیڈر نے میچ تین دو پر ارجنٹائن کے نام کر دیا۔

مصر تو ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا، مگر اس کے دلبرداشتہ اور برہم کوچ نے کھلے لفظوں میں اسے ناانصافی قرار دیا اور کہا کہ پورا ٹورنامنٹ چیمپئن ٹیم (ارجنٹائن) کے حق میں موڑا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ففٹی ففٹی نوعیت کے تقریباً تمام فیصلے ارجنٹائن کے حق میں گئے۔ مصر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچا تھا اور یہ غالباً صلاح کا آخری ورلڈ کپ تھا، اس لیے یہ رخصتی مصریوں کو مدتوں یاد رہے گی۔
فرانس نے پیراگوئے کو آؤٹ کر دیا جبکہ انگلینڈ نے میکسیکو کے خلاف ٹف میچ جیتا۔ جبکہ دوسری طرف سوئٹزرلینڈ نے اعصاب کا مقابلہ جیت لیا۔ کولمبیا کے ساتھ اس کا میچ 0-0 پر ختم ہوا اور فیصلہ پنالٹی ککس پر ہوا، جہاں سوئس کھلاڑیوں نے سکون اور اعتماد سے کھیل پیش کیا اور یوں کوارٹر فائنل کا ٹکٹ کٹا لیا۔
اب میدان میں صرف آٹھ ٹیمیں باقی رہ گئی ہیں۔ کوارٹر فائنل کا کڑا امتحان ان کے سامنے ہے، دیکھتے ہیں کہ ماہرین کی نظر میں کون کہاں کھڑا ہے۔
کوارٹر فائنل مقابلے
فرانس بمقابلہ مراکش
آج نو جولائی کو ہونے والا یہ میچ ایک طرح سے 2022 کے سیمی فائنل کا ری پلے ہے۔ چار سال پہلے سیمی فائنل میں فرانس نے مراکش کو ہرا دیا تھا۔ اس بار مراکشی بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ اپنے پچھلے میچ میں فرانس نے پیراگوئے کو ایک صفر سے ہرایا، واحد گول ایمباپے نے پنالٹی پر کیا، وہ ’گولڈن بوٹ‘ کے مضبوط امیدواروں میں ہیں۔

ادھر مراکش مسلسل دو ورلڈ کپ کوارٹر فائنل کھیلنے والی پہلی افریقی ٹیم بن چکا ہے۔ ویسے ماہرین فرانس کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں، مگر ہر ایک یہ بھی کہہ رہا ہے کہ مراکشی ٹیم کرشمہ دکھانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا دفاع اچھا ہے، گول کیپر بہترین اور گول کرنے والے فارورڈز بھی ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ ایمباپے کو کس قدر قابو رکھ پاتے ہیں؟
اکثر تجزیہ نگاروں کےخیال میں فرانس کا پلڑا ان کے سکواڈ کی ڈیپتھ، مضبوط بینچ سکواڈ اور ایمباپے کی فارم کی وجہ سے بھاری ہے، مگر مراکش کا منظم دفاع اور بدلے کی نفسیاتی آگ اسے خطرناک بناتی ہے۔
میں سمجھتا ہوں یہ میچ بہت ٹف اور جاندار ہوسکتا ہے۔ خاکسار کی ہمدردی مراکش کےساتھ ہے۔ اشرف حکیمی، رحیمی اور سائیبری کی ٹیم کو مزید آگے جانا چاہیے۔ تاہم یہ میدان ہے، جو پرفارم کرے گا، وہی فاتح بنے گا۔ پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات ایک بجے میچ ہوگا۔
سپین بمقابلہ بیلجئم
10 جولائی کو کھیلا جانے والا یہ میچ اس راؤنڈ کی سب سے بڑی کہانی، یعنی رونالڈو کو باہر کرنے والی سپین کا امتحان ہے۔ سپین کی ٹیم گیند پر کنٹرول اچھا رکھتی ہے، ان کی ٹیم میں لامین یمال جیسے نوجوان سٹرائیکر اور تجربہ کار پیدری وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یورپی چیمپیئن شپ میں عمدہ کارکردگی کا اعتماد بھی ہے۔ سپین کو ورلڈ کپ کے لیے فیورٹ ٹیموں میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری طرف بیلجئم نے امریکہ کو چار ایک سے روندا، مگر اس کی پرانی نسل اب ڈھلتی عمر میں ہے۔ ماہرین سپین کو ایڈوانٹیج دے رہے ہیں۔ تاہم بیلجئم اگر میچ کو کچھ اوپن رکھنے اور سپین کے دفاع میں شگاف کرنے میں کامیاب رہی تو پھر اس کا اٹیک کچھ بھی کر سکتا ہے۔ زیادہ تر ماہرین سپین کو فیورٹ کہہ رہے ہیں۔ یہ میچ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات بارہ بجے ہوگا۔

ناروے بمقابلہ انگلینڈ
یہ مقابلہ چاروں میں سب سے برابر کا ہے۔ ناروے نے برازیل کو ہرا کر سب کو حیران کیا اور نارویجئن سٹرائیکر ایرلنگ ہالاند اس وقت تباہ کن کھیل پیش کر رہا ہے۔ دوسری جانب انگلینڈ نے میکسیکو کو تین دو سے ہرایا، جو غیر ملکی سرزمین پر اس کی تاریخ کی بہترین جیت قرار دی گئی، بیلنگھم اور کپتان ہیری کین چھائے رہے۔ ماہرین انگلینڈ کو کسی قدر سبقت دے رہے ہیں۔ انگلینڈ کے سکواڈ میں خاصی ڈیپتھ ہے، اس کے بینچ پر بھی اچھے کھلاڑی موجود ہیں جنہیں تبدیل کر کے فرق ڈالا جا سکتا ہے۔ تاہم ماضی میں کئی بار انگلینڈ اہم میچز میں اپنے اعصاب کھو بیٹھتا ہے۔ اس بار ان کا کوچ جرمن ہے، دیکھیں جرمن کوچ کا جادو انگلش ٹیم کو کہاں لے جاتا ہے۔
ناروے کا تمام تر دارومدار ان کے وائیکنگ ٹائپ ہیرو ہالاند پر ہے۔ اسے ذرا برابر ڈھیل ملی تو انگلش ٹیم پچھتائے گی۔ ہالاند ہی ناروے کو سیمی فائنل میں لے جا سکتا ہے، ورنہ کاغذ پر انگلینڈ زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ انگلینڈ اور ناروے کا میچ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات دو بجے ہوگا۔
ارجنٹائن بمقابلہ سوئٹزرلینڈ
11 جولائی یعنی اتوار کی رات ہی دفاعی چیمپئن ارجنٹائن میدان میں ہوگا۔ فیفا رینکنگ میں وہ تیسرے اور سوئٹزرلینڈ 15ویں نمبر پر ہے۔ ماہرین ارجنٹائن کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں۔ میسی فارم میں ہے، مصر کے خلاف ٹیم نے آخری 15 منٹ میں تین گول کر کے جو کم بیک کیا تھا، اس سے ان کا مورال بہت ہائی ہوچکا۔ ارجنٹائن تجربہ کار ٹیم ہے اور لگتا ہے وہ ورلڈ کپ جیتنے کا پختہ عزم کر کے آئی ہے۔
سوئس ٹیم کی اصل طاقت ان کا ٹھوس دفاع ہے اور میچ کو گھسیٹ کر پنالٹی تک لے جانے کی صلاحیت ہے، جو ابھی کولمبیا کے خلاف کارگر ثابت ہوئی۔ ایڈوانٹیج ارجنٹینا کو، مگر سوئٹزرلینڈ اسے شوٹ آؤٹ تک لے جا سکتا ہے، اور وہاں سب کچھ ممکن ہے۔ پاکستانی وقت کے مطابق یہ میچ اتوار کی صبح چھ بجے ہوگا۔

سیمی فائنل کا نقشہ
ڈراز یوں طے ہوئے ہیں کہ پہلا سیمی فائنل 14 جولائی کو فرانس اور مراکش کے میچ کے فاتح اور سپین یا بیلجئم کے فاتح کے درمیان ہوگا۔ بیشتر مغربی ماہرین کے خیال میں امکان یہی ہے کہ یہ فرانس بمقابلہ سپین کا ٹکراؤ بنے، فائنل سے پہلے کا فائنل۔ تاہم اگر مراکش نے فرانس کو ہرا دیا تو پھر اسےروکنا سپین کے لیے بھی آسان نہیں ہوگا۔
دوسرا سیمی فائنل 15 جولائی کو ناروے یا انگلینڈ کے فاتح اور ارجنٹائن یا سوئٹزرلینڈ کے فاتح کے بیچ ہوگا۔ سپورٹس کمنٹیٹرز اور سابق فٹ بال سٹارز کی اکثریت کے مطابق سب سے متوقع منظر انگلینڈ بمقابلہ ارجنٹائن کا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر وہی پرانی رقابت، میراڈونا کا ہینڈ آف گاڈ، بیکہم کا ریڈ کارڈ، سب کہانیاں تازہ ہو جائیں گی۔ تاہم اگر انگلینڈ کو ہرا کر ناروے اوپر آیا تو پھر نارویجئن فارورڈ ایرلینگ ہالاند بمقابلہ میسی کا معرکہ ہوگا۔ دونوں گولڈن بوٹ کے مضبوط امیدوار ہیں۔
ورلڈ کپ کا فائنل 19 جولائی کو نیوجرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم میں ہوگا۔ دیکھیں، کون سی دو خوش نصیب ٹیمیں وہاں پہنچتی ہیں۔












