پیدائشی شہریت پر صدر ٹرمپ کا قانونی جنگ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جمعرات 9 جولائی 2026 9:21
اس فیصلے کو قدامت پسند چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا تھا اور صدر ٹرمپ نے اسے ’انصاف کا قتل‘ قرار دیا۔ (فائل فوٹو)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پیدائش کی بنیاد پر شہریت کو محدود کرنے سے متعلق اپنے صدارتی حکم نامے پر امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کریں گے۔ یہ ان کی اس اہم پالیسی کو بحال کرانے کی ایک مشکل کوشش سمجھی جا رہی ہے جسے عدالت مسترد کر چکی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ کی اس کوشش کو مسترد کر دیا تھا جس کے تحت وہ امریکہ میں پیدائش کی بنیاد پر شہریت دینے کے حق کو محدود کرنا چاہتے تھے۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ ان کا صدارتی حکم امریکی آئین کی چودھویں ترمیم سے متصادم ہے، جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے اور امریکی عملداری کے تابع افراد کو شہریت حاصل ہوتی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ شاذ و نادر ہی اپنے فیصلوں پر دوبارہ سماعت کی درخواستیں قبول کرتی ہے اور کئی دہائیوں سے کسی باقاعدہ سماعت کے بعد سنائے گئے فیصلے پر دوبارہ سماعت نہیں کی گئی۔
اس فیصلے کو قدامت پسند چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا تھا اور صدر ٹرمپ نے اسے ’انصاف کا قتل‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’امریکی شہریت فروخت کے لیے نہیں ہے۔ درحقیقت ایسا کرنا جرم ہے، اس لیے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں فوری طور پر امریکی سپریم کورٹ سے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کی درخواست کروں گا۔‘
صدر ٹرمپ، جو داخلی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں صدارتی اختیارات کی حدود کو بارہا آزما چکے ہیں، نے گزشتہ سال دوبارہ منصب سنبھالنے کے پہلے ہی روز ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا، جس کے تحت پیدائش کی بنیاد پر شہریت کے حق کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ اقدام قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح کی امیگریشن کے خلاف ان کی سخت پالیسیوں کا حصہ تھا۔
