Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سانس لینا بھی مشکل‘، جب جہاز کے اندر کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا

جہاز میں پھنسے مسافروں نے صورت حال کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دیا (فائل فوٹو: پکسابے)
سپین میں ویگو سے میڈرڈ جانے والی ایک پرواز کے مسافروں کو اس وقت شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا جب طیارہ ٹیک آف سے قبل فنی خرابی کا شکار ہوگیا اور درجنوں مسافر ایک گھنٹے سے زائد وقت تک شدید گرمی میں جہاز کے اندر پھنسے رہے۔
’یورو ویکلی‘ کے مطابق مسافر طیارے میں سوار ہو چکے تھے کہ اچانک ایئرکنڈیشننگ سسٹم میں خرابی پیدا ہوگئی۔
ایئرکنڈیشننگ سسٹم بند ہونے کے باعث طیارے کے اندر درجہ حرارت تیزی سے بڑھنے لگا اور بعض مسافروں کے مطابق کیبن کا درجہ حرارت قریباً 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
مسافروں نے صورت حال کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ’شدید گرمی اور حبس کے باعث سانس لینا دشوار ہو گیا تھا۔ والدین اپنے بچوں کو پُرسکون رکھنے کی کوشش کرتے رہے جبکہ متعدد مسافروں نے بار بار طیارے سے باہر نکلنے کی اجازت مانگی۔‘
مسافروں کا کہنا ہے کہ اس دوران حاملہ خواتین اور بچوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی جبکہ ایئرلائن کی جانب سے بھی صورتح ال سے متعلق واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہی تھیں، جس سے بے چینی اور غصے میں اضافہ ہوتا گیا۔
طیارہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک رن وے پر کھڑا رہا جبکہ انجینیئرز خرابی دُور کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ تاہم جب مسئلہ حل نہ ہو سکا تو پرواز منسوخ کر دی گئی اور مسافروں کو طیارے سے اُتار دیا گیا۔
طیارے سے اُترنے کے بعد بھی مسافروں کی مشکلات ختم نہ ہوئیں۔ ایئرپورٹ ٹرمینل میں مسافروں کو متبادل سفری انتظامات کے حوالے سے واضح معلومات نہ مل سکیں، جس پر کئی افراد نے خود ہی دوسرے ذرائع اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق بعض مسافروں نے قریباً 250 یورو خرچ کر کے گاڑیاں کرائے پر لیں اور چھ گھنٹے کا طویل سفر طے کر کے میڈرڈ پہنچے، جبکہ دیگر نے متبادل پروازوں کا رُخ کیا۔ متعدد مسافر قریباً چھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد رات گئے اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

طیارہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک رن وے پر کھڑا رہا جبکہ انجینیئرز خرابی دُور کرنے کی کوشش کرتے رہے (فائل فوٹو: پکسابے)

ماہرین کے مطابق گرمیوں کے موسم میں دھوپ میں کھڑے طیاروں کے اندر درجہ حرارت ایئرکنڈیشننگ یا کولنگ سسٹم بند ہونے کی صورت میں اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں بند دروازوں والے طیارے کے اندر چند ہی منٹوں میں شدید گرمی پیدا ہو سکتی ہے۔
یورپی فضائی قوانین کے تحت پرواز کی منسوخی یا طویل تاخیر کی صورت میں مسافروں کو بعض حالات میں کھانے پینے، رہائش اور متبادل سفری انتظامات کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے، جبکہ معاوضے کا انحصار تاخیر یا منسوخی کی اصل وجہ پر ہوتا ہے۔
اگرچہ اس نوعیت کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں، تاہم یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں معمولی فنی خرابی بھی مسافروں کے لیے ایک خوفناک تجربہ بن سکتی ہے۔

شیئر: