پاکستان کی فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے ’افغانستان سے صوبہ بلوچستان میں داخل ہونے والے چار ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے‘، جبکہ کابل میں افغان طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ’پاکستانی حدود میں فضائی حملے کیے ہیں۔‘
افغانستان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے ’پاکستان کے سرحدی صوبے بلوچستان کے علاقے سرانان میں داعش کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا، جبکہ خیبر پختونخوا کے دیگر مقامات پر بھی کارروائیاں کی گئیں۔‘
یہ تازہ پیش رفت چند روز قبل پاکستان کی جانب سے مشرقی افغانستان میں مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر سرحد پار حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
مزید پڑھیں
-
افغانستان سے آنے والے چار ڈرون مار گرائے: آئی ایس پی آرNode ID: 905940
پاکستان نے کہا تھا کہ ’کراچی میں پاکستان رینجرز کے ایک کیمپ پر حملے کے بعد یہ کارروائیاں کی گئیں، جن کا الزام جماعت الاحرار پر عائد کیا گیا تھا، جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ایک دھڑا ہے۔‘
پاکستان کا کہنا ہے کہ ’ان کارروائیوں میں 29 شدت پسند ہلاک ہوئے تھے، جبکہ بعد ازاں افغانستان کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے بتایا گیا تھا کہ کراچی حملے میں افغان شہری بھی ملوث تھے۔‘ افغان حکام نے پاکستان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حملوں میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور 36 شہری ہلاک ہوئے۔‘
پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک دیگر شدت پسند گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے تاکہ وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کر سکیں۔ کابل ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں کہا کہ ’30 جون کو افغان طالبان حکومت نے اپنی زیرِ کنٹرول سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور حمایت کے تحت چار سادہ نوعیت کے ڈرونز بلوچستان کی سرحد پار بھیجے۔‘
بیان کے مطابق ’ڈرونز کو سرحد عبور کرتے ہی فوری طور پر شناخت کر لیا گیا اور کسی بھی نقصان سے قبل انہیں تباہ کر دیا گیا۔‘
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے فضائی پلیٹ فارمز کا فوری سراغ لگا لیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی اقدامات کے ذریعے چاروں آنے والے ڈرونز کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا۔ فوری اور مؤثر ردعمل کی بدولت مذموم کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا۔‘
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات سنہ 2025 کے اواخر سے مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں، اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر سرحد پار دہشت گردی کی روک تھام میں ناکامی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
India strongly condemns air-strikes by Pakistan on Afghan territory
https://t.co/1mONzLsCU4 pic.twitter.com/IDqzhgwPP2
— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) June 29, 2026
بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات میں بھی شدید تناؤ پیدا ہوا ہے۔ اکتوبر 2025 اور فروری 2026 میں سرحدی جھڑپوں کے دوران دونوں جانب درجنوں اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔
پاکستان نے 2025 کے اواخر سے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدی گزرگاہوں کو زیادہ تر تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند کر رکھا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی متاثر ہوئی ہے۔
انڈیا کے بیان پر پاکستان کا ردعمل
ادھر انڈیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں پاکستان کے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انڈیا پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر کیے گئے فضائی حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے، جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان کی یہ کھلی جارحیت افغانستان کی خودمختاری پر حملہ اور علاقائی امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔‘
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بدھ کو افغانستان کی سرحد کے ساتھ دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف پاکستان کی حالیہ کارروائیوں سے متعلق انڈیا کے بیان کو ’لغو اور مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف اپنی ’جائز، ہدفی اور متناسب کارروائیوں‘ کے بارے میں انڈیا کے بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے۔‘
PR No. 158/2026
Statement by the Spokesperson
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) July 1, 2026












