پاکستان نے افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی کارروائیوں کی مذمت کرنے پر انڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے بیان کو ’لغو اور مضحکہ خیز‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
بدھ کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف اپنی ’جائز، ہدفی اور متناسب کارروائیوں‘ کے بارے میں انڈیا کے بے بنیاد بیانات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ مضحکہ خیز بیان ایک ایسے ملک کی جانب سے سامنے آیا ہے جو تاریخی طور پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری میں مداخلت کرتا رہا ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو دبا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
-
افغانستان سے آنے والے چار ڈرون مار گرائے: آئی ایس پی آرNode ID: 905940
-
نورستان کی خواتین کسان، برف پوش پہاڑوں کے درمیان زندگی کا سہاراNode ID: 905942
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ انڈیا خود افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی معاونت اور سرپرستی کر کے خطے میں تخریب کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان کے افغان حدود میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے افغانستان کی خودمختاری پر حملہ اور علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
یہ سفارتی نوک جھونک ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر فوجی کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
پاکستان کی فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے افغانستان سے صوبہ بلوچستان میں داخل ہونے والے چار افغان ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے جبکہ کابل میں افغان طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی حدود میں فضائی حملے کیے ہیں۔
PR No. 158/2026
Statement by the Spokesperson
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) July 1, 2026
افغانستان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے پاکستان کے سرحدی صوبے بلوچستان کے علاقے سرانان میں داعش کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا، جبکہ خیبر پختونخوا کے دیگر مقامات پر بھی کارروائیاں کی گئیں۔
دوسری طرف پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں کہا کہ 30 جون کو افغان طالبان حکومت نے اپنی زیرِ کنٹرول سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں چار سادہ نوعیت کے ڈرونز بلوچستان بھیجے جنہیں سرحد عبور کرتے ہی مضبوط فضائی دفاعی نظام کے ذریعے فوری طور پر شناخت کر کے تباہ کر دیا گیا۔
یہ تازہ ترین فضائی جھڑپیں چند روز قبل پاکستان کی جانب سے مشرقی افغانستان میں مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر سرحد پار حملوں کے بعد سامنے آئی ہیں۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائیاں کراچی میں پاکستان رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد کی گئیں جس کا الزام کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دھڑے جماعت الاحرار پر عائد کیا گیا تھا۔
India strongly condemns air-strikes by Pakistan on Afghan territory
https://t.co/1mONzLsCU4 pic.twitter.com/IDqzhgwPP2
— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) June 29, 2026












