Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاک افغان سرحدی کشیدگی: انڈیا کا بیان ’مضحکہ خیز‘، وہ خود دہشت گردوں کا سرپرست ہے: پاکستان

پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان نے افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی کارروائیوں کی مذمت کرنے پر انڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے بیان کو ’لغو اور مضحکہ خیز‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
بدھ کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف اپنی ’جائز، ہدفی اور متناسب کارروائیوں‘ کے بارے میں انڈیا کے بے بنیاد بیانات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ مضحکہ خیز بیان ایک ایسے ملک کی جانب سے سامنے آیا ہے جو تاریخی طور پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری میں مداخلت کرتا رہا ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو دبا رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ انڈیا خود افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی معاونت اور سرپرستی کر کے خطے میں تخریب کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان کے افغان حدود میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے افغانستان کی خودمختاری پر حملہ اور علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
یہ سفارتی نوک جھونک ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر فوجی کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
پاکستان کی فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے افغانستان سے صوبہ بلوچستان میں داخل ہونے والے چار افغان ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے جبکہ کابل میں افغان طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی حدود میں فضائی حملے کیے ہیں۔
افغانستان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کی فورسز نے پاکستان کے سرحدی صوبے بلوچستان کے علاقے سرانان میں داعش کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا، جبکہ خیبر پختونخوا کے دیگر مقامات پر بھی کارروائیاں کی گئیں۔
دوسری طرف پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں کہا کہ 30 جون کو افغان طالبان حکومت نے اپنی زیرِ کنٹرول سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں چار سادہ نوعیت کے ڈرونز بلوچستان بھیجے جنہیں سرحد عبور کرتے ہی مضبوط فضائی دفاعی نظام کے ذریعے فوری طور پر شناخت کر کے تباہ کر دیا گیا۔
یہ تازہ ترین فضائی جھڑپیں چند روز قبل پاکستان کی جانب سے مشرقی افغانستان میں مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر سرحد پار حملوں کے بعد سامنے آئی ہیں۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائیاں کراچی میں پاکستان رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد کی گئیں جس کا الزام کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دھڑے جماعت الاحرار پر عائد کیا گیا تھا۔
پاکستان کے مطابق ان حملوں میں 29 شدت پسند ہلاک ہوئے اور کراچی حملے میں افغان شہری ملوث تھے تاہم افغان حکام نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں 36 شہری ہلاک ہوئے۔
سنہ 2025 کے اواخر سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مسلسل بگاڑ دیکھا جا رہا ہے۔ اکتوبر 2025 اور فروری 2026 میں ہونے والی شدید سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب درجنوں اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور سرحد کو زیادہ تر تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند کر رکھا ہے جس سے دوطرفہ تعلقات شدید بحران کا شکار ہیں۔

شیئر: