باب البنط: کل یہاں قافلوں کا شور ہوتا تھا، آج اُن کی داستانوں کی سرگوشیاں ہیں
باب البنط جدہ کی قدیم عمارت ہے جو کبھی بحری ذریعے سے سعودی عرب آنے والے تجارتی قافلوں، عمرہ زائرین اور عازمین حج کی پہلی منزل ہوا کرتی تھی۔ یہ عمارت آج بھی ایک تاریخی علامت کے طور پر موجود ہے۔
باب البنط، آج اپنے شاندار ماضی کو سمیٹے ہوئے ’ریڈ سی میوزیم‘ کی صورت میں مجسم ہے۔ یہ عمارت مرجانی پتھروں سے بنائی گئی ہے اور اس کا طرز تعمیر ہی اس کی انفرادیت ہے۔ عمارت کو اُسی قدیم انداز میں تعمیر کیا گیا ہے جس سے اِس کا ماضی واضح ہوتا ہے۔ عمارت کے درو دیوار اور بلند و بالا چوبی کھڑکیاں عہدِ رفتہ کی کہانی بہ زبانِ خاموشی بیان کرتی ہیں۔
میوزیم کے اندر داخل ہوتے ہی محض ماہی گیری کے آلات سے ہی سامنا نہیں ہوتا بلکہ ماضی کی وہ داستانیں بھی مجسم شکل میں سامنے آتی ہیں جن سے اس دور کے ملاح گزرا کرتے تھے۔ یہاں عہدِ قدیم میں استعمال ہونے والے سمتوں کا تعین کرنے کے لیے ’قطب نما‘ اور قدیم آلات بھی رکھے گئے ہیں جن کے ذریعے ملاح سمندر کی بلند و بالا لہروں کو چیرتے ہوئے اپنے مسافروں، حجاج و تاجروں کو ان کی منزل پر لے جایا کرتے تھے۔

ماضی کی داستانوں کو دور حاضر میں بیان کرنے کے لیے میوزیم میں اس بات کا خصوصی اہتمام کیا ہے کہ ماضی کے ملاحوں اور مچھیروں کی زندگی کے شب و روز کو بھی نمایاں کیا جائے۔
کس طرح شکار کے دوران اپنے لمحات بسر کیا کرتے تھے جن میں خوشی کے ان لمحات کی عکاسی بھی ہوتی ہے جب وہ بڑا شکار ملنے پر مسرت کے گیت گاتے اور نہ ملنے پر اپنے ساتھیوں کے حوصلوں کو بلند کیا کرتے تھے۔
میوزیم میں ’غرق شدہ خزانوں‘ کے عنوان سے خصوصی کارنر ہے جہاں ماضی میں سمندر میں غرق ہونے والے ان بحری جہازوں میں موجود اشیا کو نکال کر رکھا گیا ہے۔ ان میں سے بعض جہاز جزیرہ فرسان اور املج کے پانیوں میں بھی پائے گئے تھے جنہیں ماہر غوطہ خوروں نے سمندر کی گہرائی سے نکالا ہے۔

میوزیم میں قدیم کتب اور دستاویزات کے علاوہ مخطوطات بھی رکھے ہیں جو جدہ شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ میوزیم میں وہ تاریخ محفوظ ہے جسے درج کرنے میں محض خشکی کا ہی حصہ نہیں بلکہ یہاں سمندر کی موجوں کا بھی اہم کردار ہے۔