Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نجران کے سمر فیسٹیول میں سرگرمیاں سرِ آسماں: سیاحوں کا ہجوم، روایتی ملبوسات کی دُھوم

راویتی دستکاری، سعودی ورثے کے شان بڑھاتے ملبوسات، مقامی طور پر تیار کیا گیا شہد اور کئی زرعی پروڈکٹس نجران میں اچانک بھر پور توجہ کا مرکز بن گئی ہیں جہاں سمر فیسٹیول کا آغاز ہوا ہے۔
یہ فیسٹیول دو ماہ تک جاری رہے گا لیکن اس دیکھنے کے لیے نہ صرف مقامی رہائشی جوق در جوق آنا شروع ہوگئے ہیں بلکہ علاقے کے باہر سے آنے والے سیاحوں کی تعداد بھی بتدریج بڑھ رہی ہے اور طرح طرح کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
اس فیسٹیول کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بڑی تعداد میں ریٹیل پویلینزقائم کیے گئے ہیں جہاں دیکھنے والوں کے سامنے متنوع پروڈکٹس کو پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ریستوران، کیفے اور خصوصی تفریحی زون بھی بنائے گئے ہیں جہاں بچوں کے لیے کھیل کُود کا انتظام اور فیملیوں کے لیے تفریحی سرگرمیوں کا بندوبست کیا گیا ہے۔
راویتی دستکاری، ورثے کے ملبوسات، مقامی شہد اور زرعی پروڈکٹس اس فیسٹیول میں مرکزِ نگاہ بنی ہوئی ہیں جو لوگوں کو خطے کی مقامی معیشت اور ثقافتی شناخت سے روشناش کرا رہی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس فیسٹیول میں لوگوں کی سب سے زیادہ دلچپسی دستکاری کے پویلین میں ہے جس کا انتظام وزارتِ ماحولیات، آب اور زراعت کی مقامی برانچ نے کیا ہے۔ یہاں نجران کے دستکاری کے نمونے، بُنی ہوئی چٹائیاں، ٹوکریاں، پنکھے، جھاڑو اور روایتی تیل ہے۔ فیسٹیول میں مقامی کھجوریں، سٹرس فروٹ، شہد اور گھر کی بنی ہوئی زرعی پروڈکٹس بھی نمائش پر رکھی گئی ہیں۔

چیمبر کے مطابق لوگ اِس ایونٹ میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں آر رہے ہیں اور توقع ہے کہ نہ صرف قریبی علاقوں بلکہ دور دراز سے بھی اس فیسٹیول کو دیکھنے کے لیے لوگ آئیں گے۔
یہ فیسٹیول چیمبر کے سمر سیزن کے اہم ترین ایونٹس میں سے ایک ہے جس کا مقصد تجارتی سرگرمیوں کے لیے تحریک کا کام کرنا، مقامی کاروبار اور اداروں کو سہارا دینا اور علاقے میں معیشت اور سیاحت کے شعبوں میں نشو و نما کا فروغ ہے۔
اِس فیسٹیول سے نجران میں نمائشوں اور تقریبات کی صعنت کو بھی مزید تقویت ملے گی۔

دریں اثنا نجران کے سمر سیزن 2026 میں ہیریٹج ٹینٹ میں روایتی ملبوسات کے پویلن میں بھی رہائشی اور سیاح کثیر تعداد آ رہے ہے جہاں علاقے کی ثقافتی شناخت کو دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے۔ یہ مقام تاریخی اماراتی محل کے قریب واقع ہے۔
یہاں کی اہم ترین بات ایک خصوصی نمائش ہے جسے علی بن محمد عبداللہ نے ڈیزائن کیا ہے جو نجران کے سب سے پرانے روایتی خیاط (درزی) ہیں ان کا تجربہ پینسٹھ سال پر پھیلا ہوا ہے۔ اُن کی نمائش میں مقبولِ عام ثقافتی لباس شامل ہوتے ہیں جنھیں قومی تقاریب میں زیبِ تن کیا جاتا ہے۔
علی عبداللہ زور دے کر کہتے ہیں کہ اِن ملبوسات کا تحفظ اور سماجی تقاریب اور مواقع پر بچوں کو اِنھیں پہننے کی ترغیب دینا، نوجوان نسل کے اپنی ثقافت اور قومی شناخت سے بندھن کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

شیئر: