موہاوی صحرا میں واقع ایک وسیع ہوائی جہاز کے ہینگر کے اندر کمپنی جیٹ زیرو ایک ایسے طیارے کا حقیقت کے قریب ماڈل تیار کر رہی ہے جو ممکنہ طور پر 200 سے زائد نشستوں کا حامل ہوگا۔
یہ مارکیٹ کا ایک نہایت منافع بخش حصہ ہے جسے خصوصاً ایئربس اور بوئنگ کی آئندہ ہوابازی کی حکمتِ عملیوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہونے کی توقع ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ آزمائشی طیارہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کی اس نئی کمپنی کی اس جرأت مندانہ کوشش میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد دنیا کا پہلا ’بلینڈڈ وِنگ‘ کمرشل جہاز تیار کرنا ہے، جس میں جہاز کا مرکزی ڈھانچہ اور پر ایک ہی سطح میں ضم ہو جاتے ہیں اور اس جہاز کی پرواز اگلے سال تک متوقع ہے۔
کمپنی کے مطابق مانتا رے مچھلی جیسا یہ ڈیزائن ایندھن کے استعمال میں پچاس فیصد تک کمی لا سکتا ہے، اور اسے پہلے ہی یونائیٹڈ ایئرلائنز اور الاسکا ایئرلائنز کی ابتدائی دلچسپی اور سرمایہ کاری حاصل ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں
اس ماڈل کے لیے امریکی فضائیہ جزوی فنڈنگ فراہم کر رہی ہے جب کہ سکیلڈ کمپوزٹس نامی کمپنی یہ جہاز تیار کر رہی ہے، جو نارتھروپ گرومن کی ملکیت ہے، اور اس میں وہی پراٹ اینڈ وِٹنی انجن استعمال ہو رہے ہیں جو بوئنگ 757 میں نصب ہوتے ہیں۔
اس جہاز کی پہلی پرواز اگر کامیاب رہی تو مزید سرمایہ کاری کے دروازے کھل سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جیٹ زیرو 2030 سے کمرشل طیاروں کی پیداوار شروع کر سکتی ہے، جو شمالی کیرولائنا کے شہر گرینزبورو میں قائم اس کے نئے مینوفیکچرنگ کیمپس میں ہو گی۔ تاہم اس کا انحصار اس نئے ڈیزائن کی منظوری کے عمل پر ہو گا۔
اس ڈیزائن کو فوجی مقاصد، جیسے کارگو ٹرانسپورٹ یا فضا میں ایندھن بھرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جیٹ زیرو کے سی ای او ٹام او لیری نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کا کام پہلے کبھی نہیں ہوا اور ہم موجودہ ٹیکنالوجی اور ناسا کی 30 سال سے زائد تحقیق کو استعمال کر رہے ہیں۔‘
اگرچہ اس ماڈل کی تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا ہے، لیکن بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا جہاز کا یہ ڈیزائن کم مزاحمت کے ساتھ اُڑان بھر سکتا ہے یا نہیں، تاکہ دورانِ پرواز کم قوت اور یوں کم ایندھن درکار ہو۔

اس طیارے میں صرف کاک پٹ کو پریشرائز کیا جائے گا جبکہ ایندھن کے ٹینک وہاں نصب ہوں گے جہاں عام طور پر مسافر بیٹھتے ہیں۔
’یہ سفر آسان نہیں‘
جیٹ زیرو کا زیڈ فور طیارہ اس مارکیٹ کو ہدف بنائے گا جسے پہلے بوئنگ 757 اور 767 جیسے طیارے بناتے تھے، جن میں درمیانے سے طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے 200 سے 270 نشستوں والے جہاز شامل ہیں۔
اس نئے ڈیزائن میں روایتی مرکزی ڈھانچے کی بجائے ایک چوڑا اور چپٹا کیبن دیا گیا ہے، جس سے نشستوں کی نئی ترتیب، بڑی کھڑکیاں اور اندرونی ڈھانچے میں زیادہ لچک پیدا ہو سکتی ہے۔ اس میں باورچی خانے اور بیت الخلا کو بھی نئے انداز میں ترتیب دیا جا سکے گا۔ پچھلے حصے کے اوپر لگے انجنوں کا مقصد زمین پر شور کم کرنا اور کارکردگی بہتر بنانا ہے۔
ایرو ڈائنامک ایڈوائزری کے منیجنگ ڈائریکٹر رچرڈ ابولافیا کے مطابق جیٹ زیرو کی ٹیم نے فضائی صنعت کو حیران ضرور کیا ہے، لیکن اسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے: سب سے پہلے تو اپنے ایندھن کی بچت کے دعوے کو پورا کرنا، اور پھر اس پروٹو ٹائپ کو مکمل طور پر منظور شدہ طیارے میں تبدیل کرنے کے لیے درکار سرمایہ حاصل کرنا، جس کے لیے کئی سال اور اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن غیر معقول نہیں کہ مسافر جلد اس طیارے میں سفر کریں۔ ہم اس تاثر کو مکمل طور پر رَد بھی نہیں کر سکتے۔‘
’یہ حقیقت ہے‘
2020 میں قائم ہونے والی کمپنی جیٹ زیرو کو ابتدا میں شدید نوعیت کے شکوک و شبہات کا سامنا تھا۔ تاہم اگست 2023 میں امریکی فضائیہ نے اسے 235 ملین ڈالر کے چار سالہ منصوبے کے لیے منتخب کر کے ایک بڑا سہارا فراہم کیا۔
لیہم نیوز کے تجزیہ کار اور ہوابازی کے انجینئر بیورن فیہرم کے مطابق اس ڈیزائن سے متوقع ایندھن کی بچت ابھی ثابت ہونا باقی ہے، اور ان کے خیال میں یہ طیارہ امریکی فضائیہ کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ ڈیزائن ایسے فوجی طیاروں کے لیے بہترین ہے جنہیں خفیہ رہنا ہو اور زیادہ کارگو یا ایندھن لے جانے کی گنجائش درکار ہو، لیکن مسافر بردار طیاروں کے لیے یہ لازمی طور پر اس قدر موزوں نہیں۔‘
دوسری جانب وہ ایئرلائنز کمپنیاں اس منصوبے میں سرمایہ کاری اور مشروط آرڈرز کے ذریعے دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں، جن کے اخراجات میں سب سے بڑا حصہ ایندھن کا ہوتا ہے۔

جنوری میں جیٹ زیرو نے بی کیپیٹل کی قیادت میں 175 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی، جس میں یونائیٹڈ ایئرلائنز وینچرز، نارتھروپ گرومن اور آر ٹی ایکس وینچرز نے بھی حصہ لیا۔ یونائیٹڈ ایئرلائنز کو اس سرمایہ کاری کے تحت 100 طیارے خریدنے کا اختیار حاصل ہوا، جبکہ مزید 100 کے لیے آپشن بھی موجود ہے۔
کمپنی رواں سال کے اختتام تک ایک اور فنڈنگ راؤنڈ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ 2028 تک سٹاک مارکیٹ میں آنے کا بھی امکان ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ خلائی اور فضائی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے جسے گزشتہ ماہ سپیس ایکس کی ریکارڈ ابتدائی عوامی پیشکش نے مزید تقویت دی، جس کے باعث ایلون مسک کی کمپنی کی مالیت دو کھرب ڈالر تک جا پہنچی۔
او لیری نے کہا کہ ’سپیس ایکس کے بعد دنیا کی کسی بھی ہوابازی کمپنی کا سربراہ ایسا نہیں جو اب عوامی مارکیٹ کے بارے میں نہ سوچ رہا ہو۔‘
انہوں نے تسلیم کیا کہ بہت کچھ اس آزمائشی پرواز پر منحصر ہے۔
او لیری نے مزید کہا کہ ’جب یہ ماڈل پرواز کرنے کے قابل ہو جائے گا تو طیاروں کے آرڈرز کے لیے راستہ کھل جائے گا، کیونکہ ایئرلائن انڈسٹری یہ کہے گی کہ ‘یہ واقعی ممکن ہے۔‘












