گرمی کی شدت میں نجران کے مصنوعی آبشار سیاحوں کے لیے پُرکشش مقام
آبشاروں کے لیے پہاڑوں کی اونچی نیچی بناوٹ سے فائدہ اُٹھایا گیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
نجران کے علاقے میں مصنوعی آبشاریں، رہائشیوں اور سیاحوں کے لیے دلچپسی کا باعث بنی ہوئی ہیں جنھیں دیکھنے کے لیے وہ بڑی تعداد میں یہاں کا رُخ کر رہے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ آبشاریں اپنے بہتے پانی اور اُن کی روانی میں جادُوئی خوبصورتی اور دل کو کھینچ لینے والے مناظر کی نقیب ہیں اور تفریح کے ایسے ماحول کی تصویر بن جاتی ہیں جو علاقے میں موجود سیاحوں کے لیے دلکش نظارے کا رُوپ دھار لیتی ہے۔
موسم اگر گرمیوں کا ہو تو پتھروں سے کبھی بچتے کبھی ٹکراتے ہُوئے پانی کو بھی سُر اور تال کی ضرورت نہیں رہتی اور بل کھاتے ہوئے اِس کے بلندی سے پستی کی طرف اُترنے میں ایک طرف دھند تو دوسری جانب غنائیت اِس کے ہم رکاب ہوتی ہے۔ گرمیوں میں یہ سرمائی احساس اور زیادہ خوشگوار ہو جاتا ہے اور یہ ماحول فیملیوں کو خوب بھاتا ہے۔
اِس علاقے میں تعمیر کے جدید ڈیزائن کو استعمال میں لا کر چھ مصنوعی آبشاریں بنائی گئی ہیں۔ اِن آبشاروں کے لیے، نجران کے علاقے اور یہاں کے پہاڑوں کی اونچی نیچی بناوٹ سے بھرپور فائدہ اُٹھایا گیا ہے۔ جدید ترین طرزِ تعمیر کی عکاسی کرنے والی اِن چھ آبشاروں میں شہزادہ جلوی بن عبدالعزیز پارک، الصفا پارک، العلم سکوائر، الحسین اور الفیصلیہ کے علاوہ العریسہ واٹرفال پارک کی آبشاریں شامل ہیں۔

یہ مقامات سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کی بھرپور توجہ حاصل کر رہے ہیں جہاں ’چٹانوں‘ سے گرتا پانی موسیقی کے ساتھ ساتھ ایسے دلپسند مناظر کو جنم دیتا ہے جہاں پانی میں پانی جانی والی حرکت، شام کی روشنیوں سے ہم آغوش ہو جاتی ہے۔ یہ ملاپ رفتہ رفتہ روشنی اور تاریکی کے سایوں میں حُسن و جمال کی اُس سطح کو چھونے لگتا ہے جو آبشاروں کے مسکن کو ایسی انفرادیت دیتا ہے جسے کہیں اور تلاش کرنا مشکل ہے۔

نجران کی بلدیہ اِس طرح کے سیاحتی مقامات کی تعمیر وترقی کے لیے مسلسل کوشاں ہے اور مربوط خدمات کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔ اِن میں خاندانوں کے لیے بیٹھنے کا انتظام، پیدل چلنے والوں کے لیے علیحدہ سے مختص راستے، وافر مقدار میں سبزے سے بھرے ہوئے مقامات، پارکنگ کی سہولتیں اور باقاعدہ صفائی اور نگہداشت کا عمل سب مِل کر علاقے میں زندگی کے معیار کو بڑھانے میں اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔
