Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اب برٹش ایئرویز سے ہی سفر کروں گی‘، انگلینڈ کی جیت پر ایئرلائنز کی شرط وائرل

برٹش ایئرویز نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا کہ ’ایسی شرط مت لگاؤ جو جیت نہ سکو‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ نے ناروے کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ تو بنا لی، لیکن میچ کے بعد سب سے زیادہ چرچا ایک منفرد سوشل میڈیا شرط کا ہوا، جو برطانیہ کی قومی ایئرلائن ’برٹش ایئرویز‘ اور ناروے کی کم لاگت ایئرلائن ’نارویجن‘ کے درمیان لگی تھی۔
میچ سے پہلے دونوں ایئرلائنز نے دوستانہ انداز میں طے کیا تھا کہ جو ٹیم ہارے گی، اس کے ملک کی ایئرلائن ایک دن کے لیے اپنی انسٹاگرام پروفائل تصویر حریف ایئرلائن کے لوگو سے بدل دے گی۔
انگلینڈ کی جیت کے بعد نورویجن نے اپنا وعدہ پورا کیا اور یہ دلچسپ شرط دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
یہ دلچسپ کہانی چند روز قبل اس وقت شروع ہوئی جب نارویجن نے انسٹاگرام پر برٹش ایئرویز کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک دوستانہ چیلنج پیش کیا۔
ایئرلائن نے لکھا کہ اگر ناروے جیت گیا تو برٹش ایئرویز ایک دن کے لیے اپنی انسٹاگرام پروفائل تصویر نورویجن کے لوگو سے بدل دے گی، اور اگر انگلینڈ کامیاب ہوا تو نورویجن یہی کام کرے گی۔
اس پر برٹش ایئرویز نے اعتماد سے بھرپور مگر مزاحیہ انداز میں جواب دیا، ’ایسی شرط مت لگاؤ جو جیت نہ سکو۔‘
دونوں ایئرلائنز کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔ صرف مسافر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی متعدد ایئرلائنز، ایئرپورٹس، ٹریول برینڈز اور معروف سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی اس دلچسپ مقابلے میں شامل ہوگئے اور تبصروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
کوارٹر فائنل میں انگلینڈ نے ناروے کو 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی، جس کے بعد نورویجن نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی شرط پوری کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے لیے اپنی انسٹاگرام پروفائل تصویر تبدیل کر کے برٹش ایئرویز کا لوگو لگا دیا۔
لوگو تبدیل کرنے کے ساتھ نورویجن نے انگلینڈ کو مبارک باد دیتے ہوئے لکھا کہ ’شاندار مقابلے پر مبارک ہو، اب یہ ورلڈ کپ بھی جیت کر دکھاؤ۔‘ 
’ہماری شرط قبول کرنے کا شکریہ۔ امید ہے یہ دوستی مزید مضبوط ہوگی، ہماری سوشل میڈیا ٹیم تو اب آپ کے دفتر آنا بھی پسند کرے گی۔‘

لوگو کی تبدیلی کے بعد نورویجن نے ایک اور مزاحیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ذرا رُکیے... کیا اب اگلے 24 گھنٹے میں ہم جو بھی لکھیں گے، لوگ سمجھیں گے کہ وہ برٹش ایئرویز نے لکھا ہے؟‘

اس ایک جملے نے بھی ہزاروں صارفین کو ہنسنے پر مجبور کر دیا اور اس پر بڑی تعداد میں دلچسپ تبصرے کیے گئے۔
دوسری جانب برٹش ایئرویز نے بھی کھیل کے جذبے کو سراہتے ہوئے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’90 منٹ تک حریف، ہمیشہ کے لیے دوست۔‘
اس پر نارویجن نے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’ایک شاندار میچ اور چند انتہائی یادگار دنوں کے لیے شکریہ۔ اب امید ہے کہ انگلینڈ ورلڈ کپ اپنے نام کرے گا۔‘
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Norwegian (@flynorwegian)

دونوں کمپنیوں کے درمیان ہونے والا یہ دوستانہ مکالمہ بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا اور صارفین نے اسے کھیل کے جذبے اور دوستانہ مقابلے کی بہترین مثال قرار دیا۔
شرط کے مطابق 24 گھنٹے مکمل ہونے کے بعد نورویجن نے اپنی اصل پروفائل تصویر اور لوگو دوبارہ بحال کر دیا، تاہم اس وقت تک یہ مختصر سی سوشل میڈیا مہم دنیا بھر میں لاکھوں افراد تک پہنچ چکی تھی۔
مارکیٹنگ ماہرین کے مطابق ایک سادہ سی شرط نے دونوں ایئرلائنز کو ایسی عالمی تشہیر دلائی جس کے لیے عام حالات میں کروڑوں روپے کے اشتہارات درکار ہوتے ہیں۔ 
ان کے مطابق یہ مہم اس بات کی مثال ہے کہ کھیلوں کے بڑے مقابلوں کو تخلیقی انداز میں برانڈنگ اور صارفین سے رابطے کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Norwegian (@flynorwegian)

انسٹاگرام صارف ڈیبی ڈکر نے لکھا کہ ’نورویجن اور برٹش ایئرویز کا شکریہ، یہ شاید سوشل میڈیا کی بہترین کہانی تھی جو میں نے کبھی دیکھی! ان تمام ایئرلائنز اور ایئرپورٹس کو بھی داد دینی چاہیے جنہوں نے اس مزاحیہ مقابلے میں حصہ لیا۔‘
ایک اور صارف کلِزی ینگ نے لکھا کہ ’میں چند ماہ بعد لندن جا رہی ہوں، اس مہم نے مجھے قائل کر دیا ہے کہ اب برٹش ایئرویز سے ہی سفر کروں گی۔‘

ادھر برٹش ایئرویز ہالیڈیز نے بھی مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ ’اب تک پورے ورلڈ کپ کا ہمارا پسندیدہ مقابلہ برٹش ایئرویز اور نارویجن کے درمیان رہا ہے، اب بے صبری سے انتظار ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘
 

شیئر: