Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ادھوری سہی مگر کہانی عظیم ہے‘، فٹبال نے رونالڈو کو سب کچھ دیا مگر ورلڈ کپ کیوں نہیں؟

سپین سے شکست کے بعد پرتگال کا فیفا ورلڈ کپ 2026 کا سفر اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
کرسٹیانو رونالڈو کی آنکھوں میں آنسو تھے، سٹیڈیم میں خاموشی تھی اور کروڑوں شائقین کی نظریں ایک ایسے کھلاڑی پر جمی تھیں جس نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک فٹبال کی دنیا پر حکمرانی کی، مگر وہ ایک خواب جس کا تعاقب وہ 2006 سے کر رہے تھے، ایک بار پھر ادھورا رہ گیا۔
پرتگال کی سپین کے ہاتھوں راؤنڈ آف 16 میں ایک صفر سے شکست کے ساتھ 41 سالہ رونالڈو کا چھٹا اور آخری فیفا ورلڈ کپ بھی اختتام کو پہنچ گیا۔ ورلڈ کپ سے ایک روز قبل ہی رونالڈو اعلان کر چکے تھے کہ یہ ان کے کیریئر کا آخری عالمی کپ ہوگا۔
رونالڈو کا ورلڈ کپ ریکارڈ 27 میچوں اور 11 گولز پر مشتمل ہے۔ 2006 میں پہلی بار عالمی کپ کھیلنے والے رونالڈو اسی ٹورنامنٹ میں پرتگال کو سیمی فائنل تک لے گئے تھے، مگر اس کے بعد ہر ورلڈ کپ کسی نہ کسی مرحلے پر ان کے لیے مایوسی کی داستان بن گیا۔ اس بار بھی کروڑوں مداحوں کی امید تھی کہ شاید تاریخ بدل جائے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رونالڈو کی کہانی صرف فٹبال کی نہیں بلکہ زندگی کی بھی ایک غیر معمولی داستان ہے۔ ان کی والدہ ڈولورس آویرو نے اپنی سوانح عمری میں انکشاف کیا تھا کہ رونالڈو کی پیدائش سے قبل شدید غربت اور گھریلو حالات کے باعث وہ حمل جاری نہیں رکھنا چاہتی تھیں، تاہم ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد یہ ممکن نہ ہو سکا۔
برسوں بعد یہی بچہ دنیا کے کامیاب ترین فٹبالرز میں شمار ہوا۔ کم عمری میں دل کی بیماری 'ٹیکی کارڈیا' کی تشخیص ہوئی، آپریشن ہوا، والد کا انتقال ہوا، ذاتی زندگی میں کئی صدمے آئے، لیکن رونالڈو ہر بار میدان میں واپس آئے اور نئے ریکارڈ قائم کرتے رہے۔
اسی لیے پرتگال کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر بحث صرف ایک میچ تک محدود نہیں رہی بلکہ سوال یہ اٹھنے لگا کہ 'کیا واقعی کسی کھلاڑی کی عظمت کا فیصلہ صرف ایک ورلڈ کپ کرتا ہے؟'
یہ بحث نئی نہیں۔ فٹبال میں برسوں سے یہ سوال موجود ہے کہ کیا ورلڈ کپ جیتے بغیر کسی کھلاڑی کو تاریخ کا عظیم ترین فٹبالر قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس حوالے سے آرا ہمیشہ منقسم رہی ہیں۔ بعض شائقین کے نزدیک ورلڈ کپ ہر عظیم کیریئر کا آخری امتحان ہے، جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ ایک کھلاڑی کی میراث کا فیصلہ صرف ایک ٹورنامنٹ نہیں کر سکتا۔
خود رونالڈو بھی ماضی میں متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ انہیں اپنے کیریئر پر کوئی افسوس نہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے قومی ٹیم کے ساتھ بڑی ٹرافیاں جیتیں اور انہیں اپنے کیریئر پر فخر ہے۔ پرتگال کے کوچ روبرٹو مارٹینیز نے بھی شکست کے بعد رونالڈو کو فٹبال کا ایک منفرد آئیکون قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری ٹیم ان کی قیادت اور عزم کی ہمیشہ قدر کرے گی۔

سوشل میڈیا پر جہاں رونالڈو کے فینز غمزدہ ہیں وہیں ایک ایک معروف فٹبال یوٹیوبر مارکارونی کی ویڈیو بھی تیزی سے وائرل ہوئی، جس کا عنوان تھا 'رونالڈ اور پرتگال کبھی ورلڈ کپ کیوں نہیں جیتے؟'
مارکارونی نے اپنی ویڈیو میں بہت سی باتیں کیں جو شاید حقائق سے زیادہ تجزیہ کے روپ میں سامنے آئیں۔ تو چلیے اس پر نظر دوڑاتے ہیں۔
مارکارونی کا کہنا تھا ’پرتگال اور کرسٹیانو رونالڈو شاید کبھی بھی ورلڈ کپ جیتنے کے لیے نہیں بنے تھے۔ شاید وہ ٹرافی کبھی ان کی قسمت میں تھی ہی نہیں۔ یہ بات سخت ضرور لگ سکتی ہے، مگر اگر پورے ٹورنامنٹ پر نظر ڈالی جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رونالڈو کی چھٹی اور آخری ورلڈ کپ مہم ایک ایسی ٹیم کے ساتھ گزری جس کے پاس دنیا کے بہترین کھلاڑی ہونے کے باوجود ایک مشترکہ مقصد نہیں تھا۔'
’مڈفیلڈ سے لے کر دفاع، گول کیپر سے لے کر اٹیک تک تقریباً ہر پوزیشن پر اعلیٰ معیار کے فٹبالرز موجود تھے، مگر میدان میں وہ ہم آہنگی، وہ جذبہ اور وہ یکجہتی دکھائی نہیں دی جس کی ایک ورلڈ چیمپئن ٹیم سے توقع کی جاتی ہے۔ گروپ مرحلے میں ڈی آر کانگو کے خلاف ڈرا، ازبکستان کے خلاف معمولی کامیابی، کولمبیا کے خلاف ایک اور ڈرا، پھر کروشیا کو شکست دینے کے باوجود آخرکار سپین کے ہاتھوں ناک آؤٹ مرحلے میں شکست، یہ پورا سفر ایک ایسی ٹیم کی عکاسی کرتا تھا جو اپنی اصل صلاحیت کے مطابق کھیل ہی نہ سکی۔‘

انہوں نے مزید کہا ’سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ یہ رونالڈو کا آخری ورلڈ کپ تھا، مگر پورے ٹورنامنٹ میں شاید ہی کبھی ایسا محسوس ہوا کہ ٹیم اپنے کپتان کے آخری خواب کو حقیقت بنانے کے لیے میدان میں اتری ہو۔ سپین کے خلاف شکست کے بعد تو یہ احساس اور بھی گہرا ہو گیا۔‘
’میچ بے جان تھا، دونوں ٹیموں نے محتاط اور دفاعی فٹبال کھیلی، لیکن اصل منظر میچ ختم ہونے کے بعد سامنے آیا۔ رونالڈو مایوسی کے عالم میں ڈریسنگ روم کی طرف جا رہے تھے، مگر ان کے کئی ساتھی کھلاڑی خاموشی سے ان کے قریب سے گزر گئے۔ نہ کسی نے انہیں گلے لگایا، نہ تسلی دی، نہ ہی وہ منظر دکھائی دیا جو ماضی میں ہم نیمار یا دیگر بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ دیکھ چکے ہیں، جب پوری ٹیم اپنے ساتھی کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔ یہی لمحہ شاید اس پوری کہانی کا سب سے بڑا اشارہ تھا کہ مسئلہ صرف شکست نہیں، بلکہ مقصد کا مختلف ہونا تھا۔‘
مارکارونی نے ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس پرتگالی ٹیم کے تمام کھلاڑی ایک ہی خواب کے لیے کھیل رہے تھے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ شاید ایسا نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ رونالڈو کے لیے ورلڈ کپ جیتنا ایک ذاتی خواب بھی تھا، قومی اعزاز بھی اور اپنے کیریئر کا آخری بڑا ہدف بھی۔ مگر کیا ٹیم کے باقی کھلاڑی بھی اسی شدت سے یہی محسوس کرتے تھے؟ اگر کسی کامیاب ورلڈ کپ چیمپئن کو دیکھا جائے تو تقریباً ہر ٹیم کے پاس ایک مشترکہ مقصد ہوتا ہے۔ کہیں پوری ٹیم اپنے ملک کے لیے لڑتی ہے، کہیں اپنے ساتھی کے لیے، اور کہیں ایک دوسرے کے لیے۔ کامیابی ہمیشہ اجتماعی سوچ سے جنم لیتی ہے، لیکن یہاں ہر شخص کی ترجیح شاید مختلف تھی، اور یہی فرق میدان میں بھی نظر آیا۔
’یہاں ایک اور پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد رونالڈو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے نزدیک یورو 2016 اور ورلڈ کپ کی اہمیت تقریباً ایک جیسی ہے، اور یہ بھی کہا کہ ان سے پہلے پرتگال نے کچھ خاص نہیں جیتا تھا۔ شاید یہی وہ جملے تھے جنہوں نے اس پوری کہانی کو ایک مختلف زاویہ دے دیا۔‘
مارکارونی کے مطابق ’اس میں کوئی شک نہیں کہ رونالڈو پرتگال کی تاریخ کے عظیم ترین فٹبالر ہیں اور انہوں نے اپنے ملک کو وہ کامیابیاں دلائیں جن سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ رونالڈو سے پہلے بھی پرتگال کی اپنی ایک شاندار فٹبال تاریخ موجود تھی۔ پرتگال  نے بیلن ڈور جیتنے والے عظیم کھلاڑی پیدا کیے، یورپ کے بڑے کلبوں میں اس کے نمائندے موجود رہے اور اس کا بہترین ورلڈ کپ سفر بھی رونالڈو سے پہلے دیکھا گیا تھا۔ ایسے میں اگر یہ تاثر دیا جائے کہ سب کچھ صرف ایک شخص کی وجہ سے ممکن ہوا، تو لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹیم کے باقی کھلاڑی بھی اسی بیانیے پر یقین رکھتے تھے؟‘
’شاید یہی وجہ تھی کہ برونو فرنینڈیز، وٹینیا اور کئی دوسرے کھلاڑی اپنے کلبوں میں جس اعتماد اور معیار کے ساتھ کھیلتے ہیں، وہ قومی ٹیم میں دکھائی نہ دے سکے۔ کلب فٹبال میں ان کا مقصد واضح ہوتا ہے، وہاں پورا نظام ایک ہی سمت میں چل رہا ہوتا ہے، لیکن قومی ٹیم میں وہ یکسانیت نظر نہیں آئی۔ میڈیا، شائقین اور دنیا بھر میں ایک ہی بات دہرائی جا رہی تھی کہ یہ ورلڈ کپ رونالڈو کے لیے جیتنا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا خود ٹیم بھی دل سے یہی چاہتی تھی؟‘
مارکارونی کے مطابق ’اس کے باوجود پوری ذمہ داری صرف رونالڈو پر ڈال دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ کوچ کے فیصلے بھی سوالات سے بھرے ہوئے تھے۔ جب واضح ہو چکا تھا کہ رونالڈو اپنی عمر اور جسمانی حالت کے باعث پہلے جیسا اثر نہیں ڈال پا رہے تو انہیں تبدیل کیوں نہیں کیا گیا؟ گونزالو راموس کو بروقت موقع کیوں نہیں ملا؟ مڈفیلڈ میں تبدیلیاں کیوں نہیں کی گئیں؟ وہ جرات مندانہ فیصلے کیوں نہیں ہوئے جن کی ایک ناک آؤٹ میچ میں ضرورت ہوتی ہے؟‘
’اب جب رونالڈو کا ورلڈ کپ کا سفر ختم ہو چکا ہے تو اگلا امتحان خود پرتگال کا ہوگا۔ اگر آنے والے برسوں میں بھی یہ ٹیم بڑی ٹرافیاں جیتنے میں ناکام رہتی ہے تو پھر الزام دینے کے لیے رونالڈو موجود نہیں ہوں گے۔ اب ہر کھلاڑی کو اپنے کھیل کا جواب خود دینا ہوگا، کیونکہ وہ ڈھال بھی ختم ہو چکی ہے جس کے پیچھے برسوں تک ہر کامیابی اور ہر ناکامی کو چھپایا جاتا رہا۔‘

آخر میں مارکارونی نے کہا ’اس سب کے باوجود ایک حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ چاہے کوئی ان سے اتفاق کرے یا اختلاف، کرسٹیانو رونالڈو فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں ہمیشہ شمار کیے جائیں گے۔ ان کے ریکارڈز، ان کی ٹرافیاں، ان کے کلب اور ان کی کامیابیاں ہمیشہ ان کی عظمت کی گواہی دیتے رہیں گے۔ شاید افسوس صرف اس بات کا رہے گا کہ ایک ایسا کیریئر، جس نے تقریباً ہر خواب کو حقیقت میں بدلا، وہ ورلڈ کپ کی ٹرافی کے بغیر ختم ہوا۔ اور شاید اس پوری کہانی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ صرف بہترین کھلاڑی کافی نہیں ہوتے، ورلڈ کپ جیتنے کے لیے پوری ٹیم کا ایک ہی خواب، ایک ہی مقصد اور ایک ہی سمت میں کھڑا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جب اجتماعی ارادہ ختم ہو جائے تو انفرادی عظمت بھی تاریخ کا رخ بدلنے میں ناکام رہ جاتی ہے۔‘
کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈ کپ سفر ختم ہونے کے بعد بھی بحث ختم نہیں ہوئی۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک ورلڈ کپ کے بغیر کسی کھلاڑی کی عظمت ادھوری رہتی ہے، جبکہ دوسری جانب وہ شائقین ہیں جو کہتے ہیں کہ پانچ بیلن ڈور، پانچ چیمپئنز لیگ ٹائٹلز، یورپی چیمپئن شپ، نیشنز لیگ، 900 سے زائد گول اور دو دہائیوں تک مسلسل اعلیٰ ترین سطح پر کھیلنے والے کھلاڑی کی میراث کو صرف ایک ٹرافی سے نہیں ناپا جا سکتا۔
شاید آنے والے برسوں میں یہ سوال بھی زندہ رہے گا کہ رونالڈو ورلڈ کپ کیوں نہ جیت سکے۔ لیکن اس سے بھی بڑا سوال شاید یہ ہے کہ کیا ایک ٹرافی واقعی کسی ایسے کیریئر کا آخری فیصلہ سنا سکتی ہے جس نے فٹبال کی تاریخ کے تقریباً ہر دوسرے باب پر اپنا نام ثبت کر دیا ہو۔

شیئر: