ایران نے جمعرات کی صبح بحرین، کویت اور اردن پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ امریکہ نے ایران کے اندر مزید گہرائی تک فوجی کارروائیاں کیں اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف بحری ناکہ بندی سخت کر دی۔ یہ تنازعہ آبنائے ہرمز کے گرد ایک اور بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز اور فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایرانی فوج نے کہا کہ اس نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ’ایران کی فوج نے اعلان کیا کہ دشمن کی جارحیت کے جواب میں اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کے مواصلاتی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی جگہوں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔‘
ایرانی میڈیا نے مزید کہا کہ پاسدارانِ انقلاب نے کویت میں علی السالم ایئر بیس پر امریکی ریڈار سسٹم اور امریکی فوجیوں اجتماع کو ہدف بنایا۔
مزید پڑھیں
کویت نے کہا کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائل اور ڈرونز کو روک لیا، جبکہ بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بجے اور عوام کو پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔ یہ حملے امریکہ کے ایران بھر میں فوجی اہداف پر رات بھر کے فضائی حملوں کے بعد ہوئے، جن میں تہران کے گرد علاقے بھی شامل تھے۔
جانی نقصان
ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمانپور کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں 35 سے زائد افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی حکام نے مجموعی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد جاری کی ہے۔
امریکی فوجی کارروائیاں
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ایران نے درجنوں میزائل اور ڈرونز خلیجی ممالک پر داغے۔
امریکی حملے اس بار ایران کے شمالی حصوں تک پہنچے جن میں تہران اور صوبہ سمنان شامل ہیں، جہاں بیلسٹک میزائل اور خلائی پروگرام کی تنصیبات ہیں۔ امریکہ نے گریٹر تنب جزیرے پر بھی حملے کیے، جن میں ساحلی دفاعی نظام اور کروز میزائل لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔
Kuwait's Air Defense Forces intercept four cruise missiles, 21 hostile drones https://t.co/tGwzlzBIre#KUNA #KUWAIT pic.twitter.com/JvGj0Sf9b1
— Kuwait News Agency - English Feed (@kuna_en) July 15, 2026
ایرانی میڈیا نے مزید کہا کہ حملے اہواز، بندر عباس، کنارک، سیریک اور قشم کے قریب بھی ہوئے۔ اہواز میں ایک ہسپتال کے قریب حملے کے بعد بچوں کے کینسر وارڈ کو عارضی طور پر خالی کرایا گیا۔
بحری ناکہ بندی
امریکہ نے ایران کے بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔ امریکی فوج نے ایک تیل بردار جہاز کو ناکارہ بنا دیا جو ایران کے خرم جزیرے کی طرف جا رہا تھا۔ دو دیگر جہازوں کو بھی روک دیا گیا۔
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جس سے دنیا کی توانائی کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی۔
ایرانی ردعمل
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ایک ’ بقا کی جنگ‘ میں ہے اور آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مذاکراتی معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا اور طاقت کے ذریعے ایرانی انتظامات کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ جب تک ناکہ بندی جاری رہے گی، خطے سے توانائی کی برآمدات خطرے میں رہیں گی، ’تیل اور گیس کی برآمد یا تو سب کے لیے ہوگی یا کسی کے لیے نہیں۔‘
امریکی موقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب بھی مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے، ’انہیں ہمارے اقدامات پسند نہیں، لیکن وہ سمجھوتہ چاہتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ ہم ان سے معاہدہ کرتے ہیں یا معاملہ ختم کر دیتے ہیں۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے ایک امریکی شہری کو رہا کیا ہے جو 2024 سے قید میں تھا اور اسے نیک نیتی کا اشارہ قرار دیا۔












