اٹلانٹا میں ہونے والے دوسرے ورلڈکپ سیمی فائنل سے پہلے میں سوچ رہا تھا کہ کیا آج میسی کچھ کر پائے گا؟ فٹ بال سے شغف رکھنے والا ہر شخص جانتا تھا کہ میسی بڑے میچ کا کھلاڑی ہے اور اگر ارجنٹائن نے فائنل میں پہنچنا ہے تو ان کے سب سے تجربہ کار اور کرشمہ ساز کھلاڑی لیونل میسی کو کچھ کر دکھانا ہوگا۔
سوال مگر یہ تھا کہ کیا انگلینڈ ایسا کرنے دے گا؟ انگلش ٹیم کے کوچ ٹوخل نے میچ سے پہلے کھل کر کہا تھا کہ اس نے مین ٹو مین مارکنگ کا سوچا۔ اس کے الفاظ یہ تھے، ’سب جانتے ہیں میسی کہاں نمودار ہونا چاہتا ہے، مگر آپ ایک راستہ بند کریں تو وہ دوسرا نکال لیتا ہے۔‘ ٹوخل نے مایوسی سے یہ بھی کہا کہ ’وہ سُپر ہیرو ہے اور یہ اس کی سپر طاقت ہے۔‘
پھر بالکل وہی ہوا جو ٹوخل نے خود بیان کیا تھا۔ انگلینڈ کے خلاف میسی نے کوئی گول نہیں کیا، یہ میچ مگر اسی کی وجہ سے جیتا گیا۔ میسی کا جادو اس بڑے اور انتہائی اہم میچ میں ایسا چلا کہ انگلش ٹیم، اس کا کوچ اور پورا دفاعی نظام ہکا بکا رہ گئے۔ انگلش ڈیفنڈروں نے میسی کو بار بار روکا، سخت ٹیکلز کیے، کئی مواقع پر بری طرح زمین پر گرایا اور حتیٰ الامکان کوشش کی کہ ارجنٹائنی کپتان میچ پر اثر انداز نہ ہو سکے۔
مزید پڑھیں
فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک لیونل میسی کو مگر یوں نہیں روکا جا سکتا اور اس کی عظمت کا اندازہ صرف گولز سے نہیں لگایا جاتا۔ بعض اوقات بڑے کھلاڑی دانستہ پیچھے ہٹ کر خود گول نہیں کرتے، گول بناتے ہیں، گول اسسٹ کرتے ہیں۔ میسی نے ایسا ہی کیا۔ میچ کا نچوڑ تو یہی ہے، مگر اتنے بڑے میچ میں صرف ایک یہی فیکٹر نہیں، بہت کچھ اور بھی ہوا۔ ان پر نظر ڈالتے ہیں۔
میچ کا پہلا ہاف خوف کی نذر ہوگیا
یہ اس سیمی فائنل کا سب سےافسوس ناک پہلو ہے۔ پہلا ہاف دیکھنے والے ابھی تک حیران ہیں کہ یہ ورلڈ کپ کا سیمی فائنل تھا یا محلے کی کوئی لڑائی۔ انیس فاؤل ہوئے اور گول پوسٹ کی طرف ایک شاٹ بھی نہیں لگا۔ کسی گول کیپر کو ایک گیند بچانی نہیں پڑی۔ ویب سائٹ اوپٹا کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں ٹیموں کا مشترکہ ایکسپیکٹڈ گول صفر اعشاریہ صفر آٹھ رہا۔ 1966 سے آج تک ورلڈ کپ کے کسی ناک آؤٹ میچ کے پہلے ہاف میں اس سے کم موقعے کبھی نہیں بنے۔
یہ ایک بہت برا اور منفی عالمی ریکارڈ ہے۔ وجہ صرف یہ تھی کہ دونوں ٹیمیں جیتنے نہیں، ہارنے سے بچنے آئی تھیں۔ پہلے دس منٹ میں چھ فاؤل ہو چکے تھے، اس ورلڈ کپ کے کسی بھی میچ کے برابر۔ پہلا ہاف نہایت بورنگ اور تکلیف دہ تھا۔
دونوں کوچز نے رسک لیا، ایک کامیاب، دوسرا ناکام
اس میچ میں دونوں کوچز نے خلاف توقع میچ الیون سلیکٹ کی۔ واضح طور پر دونوں نے اپنے اپنے انداز میں ایک جوا کھیلا، خوش قسمتی سے ارجنٹائنی کوچ کی سوچ کامیاب رہی جبکہ انگلش کوچ بدقسمت رہا۔ ٹیم شیٹس آئیں تو دونوں طرف حیرت تھی۔ انگلش کوچ ٹوخل نے بکایو ساکا کو باہر بٹھا دیا اور مورگن راجرز کو کھلایا۔ دائیں طرف نہ کوئی اصلی ونگر رکھا، نہ روایتی فل بیک۔ نیکو اوریلی اور کونسا کی جگہ ریس جیمز اور جیڈ سپینس آ گئے۔ مڈفیلڈر ڈیکلن رائس بیماری سے صحت یاب ہو کر کھیلا۔ سوچ یہ تھی کہ گراونڈ کا مڈ فیلڈ بھر دو اور مخالف فارورڈ میسی تک گیند پہنچنے ہی نہ دو۔
دوسری طرف ارجنٹائنی کوچ سکالونی نے اپنے سب سے وفادار سپاہی رودریگو دے پال کو بینچ پر بٹھا کر جولیانو سیمیونے کو اتار دیا، جو ناک آؤٹ راونڈ میں اس کا پہلا میچ تھا۔ سوچ اس کے بالکل الٹ تھی، دائیں طرف اصلی سپیس دو۔ ہاف ٹائم تک لگ رہا تھا کہ دونوں کوچز کی حکمت عملی ٹھیک رہی۔
اس کے بعد فرق پڑا جب انگلش کھلاڑی راجرز مسلسل اندر کی طرف سمٹتا گیا۔ اس سے مڈ فیلڈ میں تو انگلش ٹیم تگڑی ہوگئی مگر سائیڈ یعنی ونگز میں مسئلہ بنا۔ ارجنٹائن کو اس سے فائدہ پہنچا۔ انگلش کوچ میچ کے دوران مسلسل نوٹس بناتا رہا۔ اسے مسئلے کی سمجھ آ گئی ہوگی مگر کسی مصلحت کے تحت اس نے اسے تبدیل نہ کیا۔ تجزیہ کار اب اسے انگلش کوچ کی غلطی تصور کر رہے ہیں۔

ڈیفنسو ہوجانا انگلش ٹیم کا اصل بلنڈر تھا
میچ کے 55 ویں منٹ میں انتھونی گورڈن کے گول نے ارجنٹائن کو ہلا کر رکھ دیا۔ میسی کے چہرے پر شدید مایوسی کے آثار آئے۔ رائٹ ونگ سے مورگن راجرز کا کراس تھا جس پر گورڈن نے خوبصورت ہیڈر مار کر ورلڈ کپ کا اپنا پہلا گول کیا۔ کچھ دیر کےلیے تو ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ انگلینڈ ساٹھ برس بعد ایک اور ورلڈ کپ فائنل کی دہلیز پر پہنچ چکا ہے۔
ٹوخیل کی حکمت عملی کامیاب دکھائی دے رہی تھی۔ ارجنٹائن کو باکس کے اندر زیادہ جگہ نہیں مل رہی تھی، میسی نسبتاً خاموش تھے اور انگلینڈ دفاعی نظم و ضبط کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اسی مرحلے پر میچ کا رخ بدلنا شروع ہوا۔ اسی لمحے انگلینڈ نے وہ فیصلہ کیا جس پر برطانوی اخبارات میں اگلے کئی برس تک کالم اور تجزیے شائع ہوتے رہیں گے۔ انگلش ٹیم ضرورت سے زیادہ ڈیفنسو ہو کر اپنے خول میں گھس گئی ۔انگلینڈ اٹیک کرنا ہی بھول گیا۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیا کھلاڑی تھک چکے تھے؟ میں یہ مان لیتا ہوں کہ کچھ نہ کچھ تھکن ضرور ہوگی۔ انگلینڈ نےپچھلے دو بہت سخت میچز جیتے، میکسیکو اور ناروے کے خلاف۔ شدید گرمی بھی انہوں نے بھگتی۔ اصل وجہ مگر تھکن نہیں وہ خوف تھا جو ماہرین کے مطابق پچھلے 60 سال سے انگلش فٹبالروں کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ جب آپ کے پاس بچانے کے لیے کچھ آ جائے تو آپ کھیلنا بھول جاتے ہیں۔
ہم پاکستانی اس بات کو بہتر سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ہماری کرکٹ ٹیم بھی اکثر ایسا ہی کرتی ہے۔ اچھا بھلا جیتا ہوا میچ ، نہایت مضبوط پوزیشن میں ہونے کے باوجود غیر ضروری دفاعی سوچ اور خوف کے پیش نظر ہار دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی انگلینڈ نے بھی کیا۔
فٹ بال میں دفاع کرنا جرم نہیں۔ بعض اوقات بہترین ٹیمیں بھی برتری کے بعد دفاع کرتی ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک ٹیم دفاع تو کرتی ہے مگر گیند اپنے پاس رکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہے۔ یہی انگلینڈ کے ساتھ ہوا۔ ارجنٹائن نے چھ سو سے زیادہ پاسز کھیلے جبکہ انگلینڈ بمشکل اس سے آدھے پاسز کھیل سکا۔ کارنرز میں بھی واضح فرق تھا اور گول پر لگائے شاٹس میں بھی۔
اعداد و شمار کی سب سے اہم بات یہ نہیں کہ ارجنٹائن نے زیادہ حملے کیے، بلکہ یہ ہے کہ انگلینڈ مسلسل حملے ناکام بناتا رہا، گیند کلیئر کرنے کی کوشش کرتا مگر ہر بار گیند ارجنٹائن کو ملتی، یوں ایک نیا حملہ شروع ہو جاتا۔ ہر نیا حملہ دباؤ میں اضافہ کرتا گیا۔آخرکار یہ دباؤ گولز میں بدل گیا۔

گول کیپر اکیلا نہیں لڑ سکتا
انگلش گول کیپر پِکفورڈ کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ اس نے اچھی گول کیپنگ کی، کئی حملے روکے، کم از کم دو یقینی گول بچائے۔ 68 ویں منٹ میں میسی نے ایک بہترین کراس لگایا، متبادل کھلاڑی نیکو گونزالیز نے قریب سے ہیڈر مارا اور پکفورڈ نے دائیں طرف جھپٹ کر وہ گیند روک لی جسے روکا نہیں جا سکتا تھا۔ اس نے ارجنٹائنی کھلاڑی اینزو کی ایک اور کوشش بھی روکی جو کارنر بنی۔ گول کیپر مگر اکیلا میچ نہیں جتوا سکتا۔
اس میچ کی خاص بات جس پر میچ کے بعد انگلش سوشل میڈیا میں بحث چل رہی ہے۔ انگریز شائقین کے ساتھ تجزیہ کار بھی اس پر ناخوش ہیں۔ انگلینڈ کے ورلڈ کپ ٹاپ سکورر کپتان ہیری کین اور خطرناک اٹیکنگ مڈ فیلڈر جیوڈ بیلنگھم دونوں نے پورے میچ میں مل کر صرف ایک شاٹ مارا۔ ان دونوں نے اس ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے تیرہ میں سے بارہ گول کیے تھے۔
جیوڈ بیلنگھم وہ کھلاڑی ہے جس نے پچھلے دونوں ناک آوٹ میچز میں دو دو گول کئے۔ ورلڈ کپ سیمی فائنل میں دونوں بری طرح ناکام ہوئے۔ اگر ٹیم کے دو بہترین کھلاڑی پورے میچ میں گول پوسٹ پر صرف ایک کک لگا سکے تو پھر باقی سب بحث بے معنی ہو جاتی ہے۔
سوچ کا فرق فیصلہ کن رہا
دوسرے ہاف میں انگلینڈ اور ارجنٹائن دونوں کے کوچز نے تبدیلیاں کیں مگر دونوں نے مختلف سوچ کے تحت متبادل کھلاڑی بھیجے۔ یہی اہم فیکٹر رہا۔ ایک صفر پیچھے ہونے کے بعد ارجنٹائنی کوچ سکالونی نے مارٹینز، نیکو گونزالیز اور رودریگو دے پال کو اتارا۔
تینوں حملہ آور سوچ کے کھلاڑی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دے پال نے وہ کراس دیا جس پر گول ہوتے ہوتے بچا، گیند گول پوسٹ یعنی کھمبے سے ٹکرا گئی۔ جبکہ گونزالیز نے وہ ہیڈر مارا جسے انگلش گول کیپر پکفورڈ نے بمشکل روکا۔ جبکہ مارٹینز نے تو فیصلہ کن دوسرا گول کر کے میچ ہی ختم کر دیا۔ یاد رہے کہ یہی مارٹینز 2024 کی کوپا امریکہ کے فائنل میں بھی فیصلہ کن گول کر چکا ہے۔
اس کے مقابلےمیں انگلش کوچ ٹوخل نے کیا کیا؟ اس نے اپنے مین مڈ فیلڈر ڈیکلن رائس کی جگہ نیکو اوریلی، ریس جیمز کی جگہ چھ فٹ سات انچ کا ڈین برن۔ یعنی ایک صفر کی برتری کے بعد اس نے اپنے سب سے اہم مڈفیلڈر کو باہر نکال کر لمبے قد والے دفاعی کھلاڑی اندر بھیج دیے۔
دراصل ارجنٹائن نے جیتنے کے لیے کھلاڑی بدلے، انگلینڈ نے شکست سے بچنے کے لیے۔ انگلینڈ مگر بھول گیا کہ اٹیکنگ کھیل نہ کھیلنا آخر میں شکست سے دوچار کرتاہے۔ یہ صرف میری رائے نہیں، سابق انگلش فٹ بالرز بھی یہی کہہ رہے ہیں۔
ارجنٹائنی کوچ سکالیونی نے عمدہ کوچنگ کی۔ ایک گول کے خسارے میں جانے کے باوجود اس نے ٹیم کا حوصلہ بلند کیا۔ ہاف ٹائم کے بعد پلان بی شروع کیا، اٹیکنگ متبادل کھلاڑی بھیجے۔ میسی کو زیادہ آزادی اور سپیس دی کہ وہ اپنی مرضی سے پوزیشن بدلتا رہے۔ یہی اچھی کوچنگ ہوتی ہے۔

میسی کو روکا گیا، مگر ہرایا نہ جا سکا
اب اس شخص کی بات جس کے نام پر اس کالم کی سرخی ہے، جس نے پورے میچ میں ایک گول نہیں کیا۔ لیونل میسی 39 سال کا ہے۔ ارجنٹائن کے لیے یہ اس کا دو سو پانچواں میچ تھا اور حیرت انگیز طور پر انگلینڈ کے خلاف پہلا۔ یہ میسی کے ان میچوں میں سے نہیں تھا جن میں وہ پانچ ڈیفنڈروں کو چکمہ دے کر گول کر دیتا ۔ انگلینڈ نے انہیں باکس(ڈی) کے اندر باندھ کر رکھا۔مڈ فیلڈ میں اس کے لیے جگہ نہیں تھی۔ وہ ڈی میں گھستا تو دو تین کھلاڑی اسے گھیر لیتے، گیند ہی نہ پہنچنے دیتے۔
یہاں میسی نے اپنا کمال دکھایا۔ اس نے اپنا کردار ہی بدل لیا۔ وہ کبھی مڈفیلڈ میں آ گئے، کبھی رائیٹ ونگ پر چلے گئے۔ اس نے انگلش دفاع کو نئی مشکلات سے دوچار کیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب ارجنٹائن کے حملے زیادہ خطرناک دکھائی دینے لگے۔ 85 ویں منٹ میں میسی نے گیند اینزو فرنانڈس کو دی اور اینزو نے بیس گز سے وہ شاٹ مارا جس پر انگلش گول کیپر گیند تک ہاتھ نہ لے جا سکا۔؎
92ویں منٹ میں میسی کا کراس اتنا نپا تلا تھا کہ مارٹینز کو صرف سر ہلانا پڑا۔ ہیڈر پر فیصلہ کن گول ہوگیا۔ میسی نے خود گول نہیں کیا، مگر دونوں گول اسسٹ کیے۔
نوجوان میسی وہ تھا جو خود گول کرتا تھا۔ 39 سال کا میسی وہ ہے جسے اب گول کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ گولڈن بوٹ کی دوڑ میں وہ اب بھی آٹھ گول کے ساتھ امباپے کے برابر ہے، مگر سیمی فائنل میں اس نے خود نواں گول کرنے کے بجائے ٹیم فائنل تک پہنچانے کو ترجیح دی۔ میچ کے بعد میسی نے حریف کپتان کین کو تسلی دی اور مخالف گول کیپر پکفورڈ کو گلے لگایا۔ ایک مطمئن مگر باوقار فاتح کی طرح۔
انگلینڈ اور ہیری کین کا ادھورا خواب
فٹ بال بعض اوقات بے حد بے رحم کھیل ثابت ہوتا ہے۔ انگلینڈ کے کپتان ہیری کین گزشتہ چند برسوں میں کئی بار بڑے خوابوں کے قریب پہنچے ہیں۔ اس بار بھی گورڈن کے گول کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ انگلش کپتان آخرکار ورلڈ کپ فائنل تک پہنچ جائیں گے مگر کھیل کا رخ بدل گیا۔ آخری سیٹی کے بعد ایک بار پھر ان کے حصے میں حسرت آئی اور انگلینڈ کے حصے میں ایک اور ’قریب پہنچ کر رہ جانے‘ کی کہانی۔













