مشرقی لیبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی کو حادثہ، 50 افراد ہلاک یا لاپتا
گزشتہ ماہ بھی مشرقی لیبیا کے ساحل کے قریب ایک کشتی ڈوبنے سے 51 تارکینِ وطن ہلاک یا لاپتہ ہو گئے تھے (فوٹو: روئٹرز)
مشرقی لیبیا کے ساحل کے قریب یورپ جانے کے لیے روانہ ہونے والی ایک کشتی اُلٹ گئی، جس میں خواتین اور بچوں سمیت قریباً 60 تارکینِ وطن سوار تھے۔ یہ واقعہ شمالی افریقی ملک کے ساحل پر پیش آنے والے حالیہ سمندری سانحات میں سے ایک ہے۔ حکام کے مطابق کم از کم 50 افراد جان سے گئے ہیں یا لاپتہ ہیں۔
لیبیا کے مشرقی علاقے میں کوسٹ گارڈز کے مطابق یہ حادثہ منگل کے روز ساحلی شہر طبرق کے قریب بردعا جزیرے کے پاس پیش آیا۔ حکام نے کہا ہے کہ 10 افراد کسی نہ کسی طرح تیر کر جزیرے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور اپنی جان بچا لی، جبکہ دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔
یہ واقعہ لیبیا کے ساحل پر پیش آنے والا ایک اور المناک حادثہ ہے۔ لیبیا ان اہم مقامات میں شامل ہے جہاں سے تارکینِ وطن بحیرۂ روم عبور کر کے بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی مشرقی لیبیا کے ساحل کے قریب ایک کشتی ڈوبنے سے 51 تارکینِ وطن ہلاک یا لاپتا ہو گئے تھے۔
سال2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے کرنل معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے اور ہلاکت کے بعد لیبیا بدامنی کا شکار ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود وقت کے ساتھ یہ ملک افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے جنگ اور غربت کے باعث ہجرت کرنے والے افراد کے لیے ایک بڑا ٹرانزٹ مرکز بن گیا ہے۔
انسانی سمگلر عام طور پر یورپ جانے والے تارکینِ وطن کو چھوٹی اور غیر محفوظ کشتیوں میں سوار کروا دیتے ہیں، جس کے باعث اس خطرناک سمندری سفر کے دوران ہزاروں افراد اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق اس سال یکم جنوری سے 16 مئی کے درمیان وسطی بحیرۂ روم کے راستے میں 800 سے زائد تارکینِ وطن ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔ ادارے کے مطابق گزشتہ سال اس راستے پر 1,300 سے زیادہ افراد جان کی بازی سے گئے یا لاپتہ ہوئے تھے۔
