Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ میں مسلمان شخص پر چاقو سے حملہ،’پہلے اس کا نام اور مذہب پوچھا‘

امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد سے اسلاموفوبیا میں اضافہ دیکھا گیا ہے: فائل فوٹو روئٹرز
 امریکی ریاست یوٹا میں ایک شخص کو مسلمان فرد پر متعدد بار چاقو کے وار کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے متاثرہ شخص کو صرف اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا تھا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق عدالتی دستاویزات میں پولیس نے بتایا کہ ملزم نے دورانِ تفتیش کہا کہ وہ ’مسلمانوں کو قتل کرنا چاہتا ہے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے نظریات، پرتشدد رویے اور پہلے سے منصوبہ بندی کے شواہد کو دیکھتے ہوئے اگر اسے رہا کیا گیا تو وہ عوام کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ واقعہ پیر کو یوٹا کے شہر ویسٹ ویلی سٹی کے ویلی فیئر مال میں پیش آیا، جہاں متاثرہ شخص ایک سٹال پر کام کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ شخص کے جسم پر چاقو کے متعدد زخم تھے اور اس کا بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ موقع پر موجود افراد نے حملہ آور کو قابو میں کر لیا، جس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔
48 سالہ ملزم پیٹر مائیکل لارسن کو اقدامِ قتل اور خطرناک ہتھیار کے غیر قانونی استعمال کے الزامات کے تحت سالٹ لیک کاؤنٹی جیل منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا کہ ’اس نے متاثرہ شخص سے پہلے اس کا نام اور مذہب پوچھا اور پھر پانی کی بوتل مانگی۔ جب متاثرہ شخص پانی لینے کے لیے مڑا تو ملزم نے اس پر چاقو سے حملہ کر دیا۔‘
یوٹا اسلامک سینٹر کے امام شعیب دین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’متاثرہ شخص کے اہلِ خانہ کے مطابق حملہ اچانک کیا گیا اور متاثرہ شخص کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا۔‘
زخمی شخص کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی متعدد سرجریاں کی گئیں۔
متاثرہ شخص کے ایک دوست نے علاج کے اخراجات کے لیے آن لائن فنڈ ریزنگ مہم بھی شروع کی، جس میں بتایا گیا کہ اسے 15 مرتبہ چاقو مارا گیا۔
دوسری جانب حملہ آور بھی راہ گیروں کی جانب سے قابو کیے جانے کے دوران زخمی ہوا اور علاج کے بعد جیل منتقل کیا گیا۔
امریکی مسلم حقوق کی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز سمیت متعدد تنظیموں نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
امریکہ میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد سے اسلاموفوبیا میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں امیگریشن مخالف سیاست، سفید فام بالادستی کے نظریات اور غزہ جنگ کے تناظر میں بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
حالیہ برسوں میں امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف کئی مہلک حملے ہو چکے ہیں، جن میں 2023 میں ریاست الینوائے میں چھ سالہ مسلمان بچے کا قتل اور 2026 میں سان ڈیاگو کی ایک مسجد پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شیئر: