Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش: نئی حکومت کے برسرِاقتدار آنے کے بعد بھی تشدد کا سلسلہ جاری

بنگلہ دیش کی نئی حکومت اس وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی کہ وہ سیاسی تشدد کا خاتمہ کرے گی (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش کی نئی حکومت اس وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی کہ وہ سیاسی تشدد کا خاتمہ کرے گی، لیکن وزیرِاعظم طارق رحمان کے عہدہ سنبھالنے کے چھ ماہ بعد بھی قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان نے فروری کے انتخابات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ اُس ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کا خاتمہ کریں گے جو سال 2024 کے انقلاب کے بعد اقتدار سے ہٹائی گئی شیخ حسینہ کی حکومت کے دور میں عام تھا۔
انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ’سیاسی مخالفت، قانون نافذ کرنے والے کمزور ادارے اور سزا سے بچ نکلنے کی روایت انتخابات کے بعد بھی جاری تشدد کی نمایاں وجوہات ہیں، حالانکہ انہی انتخابات کے نتیجے میں بغاوت کے بعد پہلی منتخب حکومت قائم ہوئی۔‘
انسانی حقوق کی نمایاں تنظیم عین و سالش کیندر (اے ایس کے)کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں کم از کم 66 سیاسی نوعیت کے قتل ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 61 افراد پولیس حراست میں ہلاک ہوئے، 11 ماورائے عدالت قتل ہوئے اور مبینہ انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیاں بھی سامنے آئیں۔
اے ایس کے کے سینئر عہدیدار ابو احمد فیضل کبیر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جیل اور پولیس حراست میں اموات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔‘
تاہم حکومت اس مؤقف سے اختلاف کرتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ’امن و امان کی صورتِ حال اب بہتر ہو رہی ہے اور رپورٹ ہونے والے قتل کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار دراصل پرانے واقعات کا تسلسل ہیں، کیونکہ متاثرہ خاندان اب خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے ان واقعات کی رپورٹ پولیس میں درج کروا رہے ہیں۔‘
وزیرِداخلہ صلاح الدین احمد نے جون کے آخر میں پارلیمنٹ کو بتایا کہ ’موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ہم زیادہ تر اشاریوں کے حوالے سے تاریخی طور پر بہتر پوزیشن میں ہیں۔‘
’سچ کو دفن کرو‘
تاہم دیگر تجزیہ کار اس سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
جون میں 17 سالہ محمد سمن نے شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کے ایک جلسے میں شرکت کی۔

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ اوسطاً کم از کم 10 قتل ہو رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

اس جلسے پر پابندی عائد کی گئی تھی کیوں کہ شیخ حسینہ ایک سزا یافتہ مفرور ہیں جنہوں نے پڑوسی ملک بھارت میں پناہ لی ہوئی ہے اور انہیں ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے، محمد سمن اس جلسے میں شرکت کے بعد لاپتہ ہو گئے۔
تین دن بعد پولیس نے ڈھاکہ کے دریائے توراگ سے اس نوجوان کی مسخ شدہ لاش برآمد کی، ساتھ ہی دو اور افراد کی لاشیں بھی ملیں۔
محمد سمن کے چچا جیول بابو نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سمن سیاست میں شامل تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’وہ ایک محنتی لڑکا تھا جو تعلیم کے ساتھ ساتھ رات کو ایک کچن مارکیٹ میں کام کرتا تھا۔‘
محمد سمن کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے دوستوں سے معلومات لے کر واقعے کی تفصیلات جوڑیں، جن کے مطابق پولیس اور ہجوم نے عوامی لیگ کے اچانک ہونے والے جلسے کو منتشر کیا، جس کے بعد لوگ دریا کے راستے کشتی میں فرار ہونے لگے۔
سپریم کورٹ کے وکیل عارف سرکار پاویل نے کہا کہ ’ہم نے سنا ہے کہ مقامی بی این پی رہنماؤں کے تعاقب کے بعد یہ لوگ دریا پار کر گئے، لیکن وہاں پولیس سے آمنا سامنا ہو گیا۔‘ عارف سرکار پاویل اسی واقعے میں گرفتار کیے گئے سات افراد کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’کچھ لوگوں نے دریا میں چھلانگ لگانے کے بعد انہیں بانس کے ڈنڈوں سے مارا پیٹا۔ پولیس سچ کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
پولیس نے تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’قتل کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔‘ اے ایف پی آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ محمد سمن کی موت کیسے ہوئی۔
پولیس کے ترجمان اے ایچ ایم شہادت حسین نے کہا کہ ’حکام تشدد کے رپورٹ ہونے والے تمام واقعات کی تفتیش کر رہے ہیں۔‘

6 جولائی کو ڈھاکہ کے قریب ساور میں ایک اپوزیشن جلسے پر حملہ آوروں نے پٹرول بم پھینکے (فوٹو:پی بی ایس نیوز)

انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ معاملات میں سیاسی جماعتوں کے ارکان ذاتی دشمنی یا زمین کے تنازعات پر قتل کیے گئے۔ تاہم چونکہ متاثرہ افراد سیاست سے وابستہ تھے، اس لیے ان واقعات کو سیاسی تشدد کا نام دیا جاتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حکام کو خدشہ ہے کہ رواں سال کے آخر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔‘
شہادت حسین نے کہا کہ ’ماضی کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے دوران ہمیں زیادہ تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
’قانون کی حکمرانی‘
بی این پی کے ترجمان شائر الحق کبیر خان نے کہا کہ طارق رحمان پہلے ہی سیاسی تشدد میں ملوث پارٹی ارکان کو نکال چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’انہوں نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ قانون دونوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر جانبدار رہیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کریں چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہی کیوں نہ ہو۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’برصغیر میں بدقسمتی سے تشدد سیاست کا حصہ بن چکا ہے، اور بنگلہ دیش اس ثقافت سے محفوظ نہیں۔‘
تشدد میں سیاسی جماعتوں میں مقامی طاقت کے تنازعات بھی شامل ہیں۔
9  جون کو بی این پی کے مقامی عہدیدار بلال حسین تالقدار کو ایک اجلاس کے دوران چاقو مار کر قتل کر دیا گیا۔
12  جون کو چٹوگرام میں بی این پی کے مقامی رہنما اور تاجر مسعود الحق کو موٹر رکشہ میں آنے والے مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
اور 6 جولائی کو ڈھاکہ کے قریب ساور میں ایک اپوزیشن جلسے پر حملہ آوروں نے پٹرول بم پھینکے، جس سے نیشنل سٹیزن پارٹی کے چار کارکن زخمی ہو گئے۔

بنگلہ دیش میں رواں سال ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے دوران بھی پرتشدد واقعات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)

یہ سیاسی تشدد ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مجموعی طور پر پُرتشدد جرائم بھی جاری ہیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ اوسطاً کم از کم 10 قتل ہو رہے ہیں، اور مارچ سے جون کے درمیان 1,238 قتل ہوئے۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ پیس اینڈ کنفلکٹ سٹڈیز کے پروفیسر محمد سجاد حسین صدیقی نے کہا کہ ’حکومت اگر مقبول رہنا چاہتی ہے تو اسے قانون کی حکمرانی یقینی بنانا ہوگی چاہے مجرم کوئی بھی ہو۔‘
محمد سجاد حسین صدیقی کے مطابق سیاسی تبدیلی کے ادوار میں عموماً دو طرح کے گروہ تشدد کو ہوا دیتے ہیں: ایک وہ جو غیر قانونی آمدنی کے منافع بخش ذرائع دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور دوسرے وہ جو مقامی سطح پر برتری حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ایسے تشدد کو روکا نہ جائے یا مجرم بغیر سزا کے بچ نکلیں تو خون ریزی کا سلسلہ خود بخود جاری رہتا ہے۔
انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس وقت بالکل یہی منظر دیکھ رہے ہیں۔‘

شیئر: