Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مٹی اور گارے سے بنی صدیوں پرانی بستی العلا سیاحوں کی پہلی منزل کیوں؟

مملکت میں العلا کا اولڈ ٹاؤن نمایاں سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے جو اپنی بھر پور تاریخ اور پر کشش مقامات کو یکجا کرتا ہے۔ 
اولڈ ٹاؤن یہاں آنے والوں کو العلا کی شناخت اور ورثے سے متعارف کراتا ہے جہاں صدیوں پر میحط تاریخ اور متنوع ثقافتی سرگرمیاں ایک ہی پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق العلا کی یہ قدیم بستی سیاحوں اور وزٹرز کو عہدِ رفتہ کی تہذیبی شناخت اور تاریخی ورثے سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ ایک منفرد و مثالی ثقافتی و سیاحتی تجربہ بھی فراہم کرتی ہے۔
العلا کے قدیم تاریخی شہر کی بنیاد 12ویں صدی عیسوی میں رکھی گئی تھی جب مقامی آبادی العلا کے نخلستانوں کے قریب آباد تھی۔ یہ بستی ان تجارتی قافلوں کے اہم راستے پر واقع تھی جو جزیرہ نمائے عرب کے جنوب کو شام سے ملاتا تھا۔
قیم شہر میں مٹی اور گارے کی اینٹوں سے بنے ہوئے 900 سے زائد مکان موجود ہیں، جن کی تاریخ تقریباً سات صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ بستی شام سے آنے والے حجاج کے لیے بھی اہم پڑاو تھی، جس کے باعث اسے نمایاں معاشی اور سماجی حیثیت حاصل ہوئی اور یہ تجارت، مسافروں اور حجاج کے استقبال کا مرکز بھی بن گئی۔
ماضی میں متعدد سیاحوں اور مورخین نے العلا کے حوالے سے اپنے سفرناموں میں اس کی تاریخی اہمیت کا ذکر کیا ہے۔ تجارتی اور حج راستوں پر واقع ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہی تھی۔ آج بھی یہ العلا آنے والے سیاحوں کے لیے پہلی منزل مانی جاتی ہے جہاں سے سیاحتی و تفریحی سفر کا آغاز ہوتا ہے۔

قدیم العلا صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ ایسی تجربہ گاہ ہے جہاں تاریخ اور داستانیں ایک دوسرے سے گھل مل جاتی ہیں۔ اس پرانی بستی کی گلیوں، بازاروں اور مکانوں کے کشادہ صحنوں میں کی جانے والی چہل قدمی محض ایک تفریح ہی نہیں بلکہ صدیوں پرانی العلا شہر کی تاریخ کو قریب سے محسوس کرنے کا موقع بھی ہے۔
آج العلا کی یہ صدیوں پرانی بستی ایک بار پھر روایتی بازاروں، دستکاری کی مصنوعات، آرٹ کے نمونوں اور ثقافتی تقریبات کے شب و روز سے آباد ہے۔
علاوہ ازیں یہاں موجود کیفے اور ریستوران سیاحوں کو تاریخی ماحول میں مقامی ثقافت سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں جہاں ماضی کی روح کو جدید انداز میں اجاگر کیا جاتا ہے۔

العلا کے بارے میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مٹی اور گارے سے بنی صدیوں پرانی یہ بستی اب محض ایک تاریخی ورثہ نہیں بلکہ ایک مکمل سیاحتی مرکز بن چکی ہے جہاں ہر عمر اور مختلف طبقہ فکر کے افراد کے لیے ثقافتی، تاریخی اور تفریحی سرگرمیاں موجود ہیں۔
یہاں آنے والے سیاح العلا کی تاریخ کو اس کے اصل ماحول میں محسوس کرتے ہیں۔ یہاں صدیوں پر پھیلا ورثہ اور جدید سیاحتی تجربات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ مقام عہدِ رفتہ اور حاضر کا حسین امتزاج بھی ہے جہاں تاریخ صرف محفوظ نہیں بلکہ زندہ محسوس ہوتی ہے۔

 

شیئر: