Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

العلا: پہاڑوں اور نخلستانوں کا قدرتی سایہ جو موسمِ گرما میں سیر کو منفرد بناتا ہے

تاریخی مقام العلا کے سرسبز نخلستان اور پہاڑوں کے دلکش سایے موسمِ گرما میں بھی خوشگوار اور نسبتاً ٹھنڈا ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں تاریخی اور قدرتی مقامات کی سیر کے لیے آنے والے سیاح ایک منفرد اور یادگار تجربے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق العلا کے نخلستان اس قدرتی ہم آہنگی کی نمایاں مثال ہیں۔ لاکھوں کھجور کے درخت اور اطراف میں بلند چٹانیں کھیتوں اور تاریخی گزرگاہوں میں سایہ بکھیرتی ہیں، جس سے موسمِ گرما میں بھی ان مقامات کی سیر زیادہ آرام دہ ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ سیاحوں کو علاقے کے زرعی ورثے اور تاریخی ماحول کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔
جبلِ اثلب اس قدرتی ماحول اور منظر کی اہم مثال ہے۔ ہزاروں برس قبل اس کے عین مرکز میں ’دیوان‘ (مرکزی مجلس) بھی تعمیر کیا گیا تھا جو بلند چٹانی دیواروں کے درمیان واقع ایک قدرتی گزرگاہ میں ہے۔
یہی وجہ سے کہ یہ مقام طلوع آفتاب سے غروب تک دن کے بیشتر حصے میں سایہ دار رہتا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قدیم تہذیبوں نے اپنے مقامات کے انتخاب میں قدرتی ماحول سے بھرپور استفادہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ جبلِ عکمہ جہاں قدیم عربی نقوش کا دنیا کا سب سے بڑا کھلا ذخیرہ موجود ہے، دوپہر کے بعد اپنے بلند پہاڑی ڈھانچے کی وجہ سے سایہ دار ہو جاتا ہے۔ اس سے وزیٹرز کو تاریخی نقوش کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ یہ مقام ہزاروں برس پر میحط علاقائی تاریخ کی دستاویز بھی مانا جاتا ہے۔
العلا کے قدیم شہر کی چھوٹی گلیاں ایک دوسرے سے جڑی مٹی کی عمارتیں بھی روایتی تعمیراتی حکمت کا مظہر ہیں۔ یہ طرزِ تعمیر گزرگاہوں میں قدرتی سایہ فراہم کرتا ہے اور شدید گرمی کے باوجود تاریخی بازاروں اور عمارتوں کے درمیان سیاحوں اور وزٹرز کی آمدورفت کو زیادہ آرام دہ بناتا ہے۔

قدرتی تعمیراتی خصوصیات کا یہ امتزاج العلا میں انسان اور ماحول کے ہزاروں سال پرانے تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ پہاڑوں اور نخلستانوں نے جہاں ماضی میں انسانی آباد کاری اور طرز زندگی کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا، وہیں آج بھی یہ عناصر العلا کو ایک منفرد سیاحتی مقام بناتے ہیں، جہاں تاریخ، قدرتی حسن اور خوشگوار ماحول ایک ساتھ سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

 

شیئر: