Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عسیر ریجن میں قدرتی ’چٹانی آبی ذخائر‘ ہزاروں برس پر محیط ارضیاتی تاریخ

قدرتی ذخائر کی اہمیت محض ماحولیاتی نہیں بلکہ سائنسی بھی ہے۔( فوٹو: ایس پی اے)
عسیر ریجن کے بلند و بالا پہاڑوں اور گرینائٹ چٹانوں کے درمیان بنے قدرتی ’چٹانی آبی ذخائر‘ علاقے کی ہزاروں برس پر محیط ارضیاتی تاریخ کا واضح مظہر ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق مسلسل قدرتی عوامل سے بننے والے یہ چٹانی آبی ذخائر بارش کے پانی کو محفوظ رکھتے ہیں۔ جنگلی حیات اور نباتات کی بقا کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
قدرتی عوامل کے تسلسل کا آغاز چٹانوں میں معمولی دراڑوں سے ہوا جو موسمی تبدیلیوں اور وقت کے ساتھ ساتھ وسیع اور مختلف اشکال اختیار کرتے ہوئے قدرتی آبی ذخائر میں تبدیل ہوگئے۔
موسمِ برسات میں یہ قدرتی ذخائر پانی سے بھر جاتے ہیں۔ اپنی گہرائی اور چٹانی ساخت کی بدولت طویل عرصے تک پانی کو اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔
قدرتی ذخائر کی اہمیت محض ماحولیاتی نہیں بلکہ سائنسی بھی ہے۔ یہ علاقے کی جغرافیائی ساخت کی تشکیل کا قدرتی ریکارڈ مانا جاتا ہے۔

موسمی اثرات اور کٹاو کے فطری عمل نے صدیوں کے دوران عسیر ریجن کے پہاڑوں کی موجودہ شکل تشکیل دی۔ اس کے ساتھ یہ خطے کے ارضیاتی تنوع کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔
قدرتی حسن کے باعث یہ مقامات سیاحوں اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد کی بھی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ بارش کے بعد صاف و شفاف پانی اور سرسبز نباتات مل کر ایسے دلکش مناظر پیش کرتے ہیں جو عسیر کے پہاڑی ماحول کی خوبصورتی کو اجاگر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ چٹانی آبی ذخائر اور ارضیاتی تبدیلیاں عسیر ریجن کی قدرتی، سائنسی اور سیاحتی اہمیت کو مزید نمایاں کرتے ہیں اور اس بات کی مثال ہیں کہ قدرت نے پہاڑی ماحول میں بارش کے پانی کو محفوظ رکھنے کا ایک پائیدار نظام تشکیل دیا ہے، جس سے خطے کی حیاتیاتی اور قدرتی تنوع کو تقویت ملتی ہے۔

 

شیئر: