Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب: 6 لاکھ سال پرانے فوسلز جو ماضی کی کہانی بیان کرتے ہیں

یہ فوسلز ’طعس الغضا‘ کی جھیل کی تہہ سے برآمد ہوئے ہیں۔( فوٹو: اخبار 24)
لینہ گاوں میں موجود کنگ عبدالعزیز تاریخی محل میں عظیم صحرائے نفوذ سے دریافت ہونے والے جانوروں کے فوسلز کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔
اخبار 24 کے مطابق یہ فوسلز ہاتھی سمیت 6 لاکھ برس قبل پائے جانے والے جانوروں کی باقیات ہیں جو ’طعس الغضا‘ کی جھیل کی تہہ سے برآمد ہوئے ہیں۔ صحرائے نفوذ کے قلب میں ریت، چٹان اور قدیم جھیل کی تلچھٹ کی تہوں نے زمین کی تاریخ کے ان شواہد کو محفوظ رکھا ہے۔
 یہ باقیات خطے میں قدرتی تاریخ اور ماضی میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ارضیات اور قدیم حیاتیاتی کے محققین کے لیے ایک قیمتی سائنسی ریکارڈ بھی فراہم کرتی ہیں، جبکہ صحرائے نفوذ الکبیر میں محفوظ عالمی اہمیت کے حامل ارضیاتی شواہد کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔

یہ نمائش مملکت کے قدرتی ورثے کو متعارف کرانے، سائنسی تحقیق اور دریافتوں کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے، جو جزیرہ نمائے عرب کی کروڑوں سال پر محیط ارضیاتی تاریخ اور حیاتیاتی تنوع کو نمایاں کرتی ہے۔
علاوہ ازیں یہ اقدام یہ جزیرہ نما عرب پر زندگی کی تاریخ اور ماحولیات کے قیمتی ریکارڈ کے طور پر فوسل سائٹس کو محفوظ رکھنے کی اہمیت کے بارے میں بھی آگاہی کو فروغ دیتا ہے۔

 

شیئر: