’اوورسیز پاکستانی پریمیئر کسٹمر ہوں گے‘، پی آئی اے کی نئی پالیسی میں کیا ہے؟
’اوورسیز پاکستانی پریمیئر کسٹمر ہوں گے‘، پی آئی اے کی نئی پالیسی میں کیا ہے؟
منگل 13 جنوری 2026 5:57
زین علی -اردو نیوز، کراچی
پی آئی اے کی آئندہ پالیسی میں اوورسیز پاکستانیوں کو مرکزی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت قومی ایئر لائن سے سفر کرنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پریمیئر کسٹمرز کے طور پر دیکھا جائے گا۔
ایئر لائن پاکستان کے چھوٹے شہروں اور خلیجی ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں میں اضافہ، پی آئی اے کے بیڑے میں توسیع، سروسز کے معیار میں بہتری اور مرحلہ وار فضائی سفر کے کرایوں میں کمی جیسے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں پاکستان کی قومی ایئر لائن کے 75 فیصد شیئرز خریدنے والے عارف حبیب کنسورشیم کے سربراہ عارف حبیب نے کراچی میں اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مالی اور آپریشنل گنجائش پیدا ہونے پر ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی پر بھی غور کیا جائے گا۔
عارف حبیب کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ترسیلات زر کے ذریعے معیشت کو مسلسل سہارا دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی پالیسی میں اوورسیز پاکستانیوں کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے اور انہیں ایئر لائن کے اہم ترین مسافروں کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اسی تناظر میں ان کے لیے سفری سہولیات کو بہتر بنانے اور براہِ راست پروازوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پی آئی اے آئندہ دنوں میں اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے پریمیئر کسٹمرز کے طور پر دیکھے گی اور ان کے لیے سفری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جائے گی۔‘
عارف حبیب کے مطابق ’پی آئی اے کی توجہ اس وقت اپنی سروسز کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے تاکہ مسافروں کو محفوظ، آرام دہ اور خوشگوار سفری تجربہ فراہم کیا جا سکے۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ایئر لائن کے بیڑے میں نئے طیاروں کا اضافہ کیا جائے گا، جبکہ موجودہ جہازوں کی حالت کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔
حال ہی میں پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری ہوئی تھی (فائل فوتو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ ’جہازوں کے اندرونی ماحول، نشستوں کی حالت، صفائی اور مجموعی سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے قریب لانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ خلیجی ممالک اور دیگر روٹس پر سفر کرنے والے مسافروں کو بہتر ماحول میسر آ سکے۔‘
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے براہِ راست پروازوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ ’خلیجی ممالک اور پاکستان کے چھوٹے شہروں کے درمیان ڈائریکٹ فلائٹس میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔‘
ان کے مطابق ’سعودی عرب سے پاکستان کے مختلف شہروں کے لیے براہ راست پروازوں کا آغاز کیا جائے گا تاکہ مسافروں کو بار بار ٹرانزٹ کی مشکلات سے بچایا جا سکے۔‘
عارف حبیب کا کہنا تھا کہ خلیج میں مقیم بڑی تعداد میں پاکستانی محنت کش اور پیشہ ور افراد ہیں، جن کے لیے آسان اور براہ راست سفر ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔
پی آئی اے کے کرایوں کے حوالے سے سوال پر عارف حبیب نے وضاحت کی کہ ابتدائی مرحلے میں توجہ ٹکٹوں کی قیمتیں کم کرنے کے بجائے سروسز کی بہتری پر ہو گی۔
’جب ایئر لائن کی آپریشنل صلاحیت بہتر ہو جائے گی اور اخراجات میں توازن پیدا ہو جائے گا تو مسافروں کے لیے ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی کی گنجائش بھی نکل آئے گی۔‘
انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کو مارکیٹ میں موجود دیگر ایئر لائنز کے ساتھ مسابقت کرنا ہو گی اور اسی بنیاد پر کرایوں کا تعین کیا جائے گا۔
عارف حبیب کے مطابق ’پی آئی اے کی توجہ اس وقت سروسز کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
عارف حبیب نے اس بات پر زور دیا کہ قومی ایئر لائن کم سے کم مارجن پر کام کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکے۔
ان کے بقول ’مسافروں کا اعتماد بحال کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب سروسز کا معیار بہتر ہو، پروازیں وقت پر روانہ ہوں اور مسافروں کو عزت و احترام کے ساتھ سہولیات فراہم کی جائیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایئر لائن کے پاس تقریباً 16 سے 17 فعال جہاز ہیں تاہم منصوبہ یہ ہے کہ اس تعداد کو بڑھا کر 38 تک لے جایا جائے۔
’جہازوں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف پروازوں کی تعداد بڑھے گی بلکہ آپریشنز میں بھی بہتری آئے گی، جس سے مسافروں کو زیادہ آپشنز اور بہتر شیڈول میسر آ سکیں گے۔‘
اوورسیز پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ ’پی آئی اے کی بہتری کے لیے ان کی آرا اور تجاویز انتہائی اہم ہیں۔ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی دنیا کی مختلف ایئر لائنز کے تجربات رکھتے ہیں، اس لیے ان کی تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے قومی ایئر لائن میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے چاہتی ہے کہ اوورسیز پاکستانی خود کو اس ادارے کا حصہ سمجھیں اور اس کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں۔