Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مرجان کے پتھر اور کھجور کے تنے: قطیف کا فنِ تعمیر ساحلی اور زرعی ماحول کا امتزاج

قطیف کا روایتی طرز تعمیر آج بھی سیاحوں اور ریسرچرز کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ تاریخی عمارتیں اپنے منفرد اندازِ تعمیر اور آرائش کے باعث علاقے کی تہذیبی شناخت اور تعمیراتی ورثے کی عکاس ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق قطیف کمشنری کا روایتی فنِ تعمیر ساحلی اور زرعی ماحول کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ تاریخی طور پر یہ علاقہ تجارتی اور بحری سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا اور جزیرہ نمائے عرب میں قافلوں کے لیے ایک میٹنگ پوائنٹ کے طور پر کام کرتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہاں نئی تعمیرات ہوئیں تاہم پرانی عمارتیں آج بھی اس تاریخی دور کی یادگاریں سمیٹے روایتی گھروں سے جدید شہری ترقی میں تبدیلی کے درمیان موجود ہیں۔
ان عمارتوں کی تعمیر میں سمندری اور مرجان کے پتھر، مٹی اور چونا وغیرہ استعمال ہوا جبکہ چھت بنانے کے لیے کھجور کے تنے اور مقامی مواد استعمال کیا جاتا تھا۔
علاقے کے ایک تحقیق کار محمد المصلی کے مطابق ان عمارتوں کی مضبوط اور موٹی دیواریں خلیج عرب کے کم گہرے ساحلی علاقوں سے حاصل کردہ چونے اور مرجان کے پتھروں سے تیار کی جاتی تھیں۔ ان پتھروں کی مسام دار ساخت کی خصوصیت یہ ہے کہ دن کے وقت نمی کو جذب کرکے رات کے وقت گھر کو ٹھنڈا رکھنے میں معاون ہوتی ہیں۔

گارے والی مٹی قریبی آبی چشموں اور زرخیز زمین سے حاصل کی جاتی تھی جو پتھروں کو جوڑنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ موسم کی شدت یا معمولی زلزلوں کے جھٹکوں کے باوجود دیواروں کو محفوظ رکھتی تھی۔
دیواروں پر مقامی جپسم اور سفید چونے کی تہہ چڑھائی جاتی جو سورج کی شعاعوں کو منعکس کرنے کے ساتھ ساتھ کیڑوں مکوڑوں اور جراثیم سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
محمد المصلی نے کہا کہ ’ماضی میں چھتوں کے لیے عام طور پر کھجور کے تنوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ جزیرۂ تاروت میں اگنے والے ’الخطرہ‘ نامی درخت کی لکڑی بھی استعمال ہوتی تھی، جو چھوٹی کشتیوں کی تیاری کے ساتھ گھروں، دکانوں اور گزرگاہوں کی چھتوں میں بھی کام آتی تھی۔

قطیف کے تعمیراتی ورثے کے محقق انجینیئر مصطفیٰ النمر نے بتایا کہ ’قدیم گھروں کی چھتوں میں استعمال ہونے والی لکڑی سے عمارت کی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق کھجور کے مقامی تنے اس دور کی نشاندہی کرتے ہیں جو موتیوں کی تجارت کے عروج یعنی 19ویں صدی کے وسط سے پہلے کا دور تھا۔

بانس کی لمبی پٹیوں اور الجندل نامی لکڑی کا استعمال 19ویں صدی کے وسط سے 20ویں صدی کی دوسری دہائی تک کا ہے۔ اس زمانے میں مشرقی افریقہ، مشرقی ایشیا اور انڈیا سے لکڑی اور دیگر تعمیراتی سامان درآمد کیا جاتا تھا جس سے مقامی عمارتوں میں رنگوں اور آرائشی اشیا کا استعمال بھی بڑھ گیا۔
مقامی اور درآمدی تعمیراتی مواد کے امتزاج نے قطیف میں ایک منفرد تعمیراتی اور معاشی نظام تشکیل دیا۔ نفیس لکڑی اور جیومیٹریائی نقش ونگار سے مزین گھروں کے سامنے والا حصہ جمالیاتی ذوق کی عکاسی کے ساتھ  مالکان کی مالی حیثیت کو بھی ظاہر کرتا تھا۔

 

شیئر: