حوثیوں کی سعودی عرب کو بحری ناکہ بندی کی دھمکی، اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش
سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے تناؤ میں کمی لانے پر زور دیا (فائل فوٹو: روئٹرز)
اقوام متحدہ نے سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے نئی دھمکیوں اور سمندری آمد و رفت کو لاحق ہونے والے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں فوری کمی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک بار پھر اس امر پر زور دیتے ہیں کہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2722 اور اس کے بعد حوثیوں کی جانب سے مال بردار جہازوں پر حملوں سے متعلق منظور ہونے والی قراردادوں کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہانس گرنڈبرگ مذاکرات کے لیے مسقط پہنچ گئے ہیں۔
اس سے قبل انہوں نے ریاض میں صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی، یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد ال جابر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
سٹیفن دوجارک کا یہ بھی کہنا تھا کہ بات چیت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کشیدگی میں کمی لانا ضروری ہے اور تمام فریقوں کو ایسے لائحہ عمل پر متفق ہونا چاہیے جو 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے ثمرات کو برقرار رکھ سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہانس گرنڈبرگ نے بھی اسی بات پر زور دیا ہے کہ یمن کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے اور یمنی قیادت میں چلنے والے ایک جامع سیاسی عمل کے لیے ماحول کو سازگار رکھا جائے تاکہ تنازع کا مکمل اور پائیدار حل سامنے آ سکے۔