جدہ تاریخیہ کی قدیم عمارتیں، آج بھی گرمی سے بچاؤ کا ذریعہ
جدہ تاریخیہ میں ایک دوسرے کے قریب بنی عمارتیں مقامی تعمیراتی مہارت کا ثبوت ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
جدۂ تاریخیہ، بحیرۂ احمر کے ایک کنارے پر واقع وہ مقام ہے جہاں انسانی اقدار، تعمیراتی مواد اور فنِ تعمیر کے شاہکار نظر آتے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق جدہ تاریخیہ کی تنگ گلیاں، سایہ دار محرابیں اور ایک دوسرے کے قریب بنی عمارتیں صدیوں پرانی مقامی تعمیراتی مہارت کا ثبوت ہیں۔ انہیں اس ساحلی شہر کی شدید گرمی اور حبس کو جدید ایئرکنڈیشنگ دور سے پہلے قدرتی طور پر کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
معماروں نے مقامی مرجان کے پتھروں اور لکڑی کا استعمال کرتے ہوئے ٹھنڈک کا ایک مربوط نظام تیار کیا۔ گنجان آباد کثیر المنزلہ عمارتوں کے اگلے حصوں اور گزرگاہوں نے پیدل چلنے کے راستوں پر باہمی سایہ فراہم کیا جس سے براہِ راست سورج کی تپش میں نمایاں کمی آئی جبکہ تنگ گلیوں کے ذریعے سمندری ہواؤں کی روانی کو بہتر بنایا گیا۔
اس شہری ڈھانچے کو مکمل کرنے کے لیے رواشین (روایتی لکڑی کی آرائشی جالیاں) استعمال کیے گئے جو گھروں میں روشنی اور ہوا کا گزر یقینی بنانے کے ساتھ پرائیویسی بھی بر قرار رکھتے ہیں۔
رواشین کا باہر کی طرف نکلا ہوا حصہ بیرونی دیواروں اور گلیوں میں سایہ فگن رہتا ہے جس سے درجہ حرارت کم رہتا ہے۔ یہ رواشین علاقے کی منفرد فن تعمیر کی شناخت بن گئے ہیں۔

2014 سے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ’جدہ تاریخیہ، باب مکہ‘ کے تحفظ اور جدید سیاحت میں توازن برقرار رکھتے ہوئے وزارت ثقافت، قومی ثقافتی حکمت عملی اور سعودی وژن 2030 کے تحت اس علاقے کی بحالی کے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزراتِ ثقافت، ثقافتی ورثے اور قومی شناخت کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے مسلسل کوششوں میں مصروف ہے۔
