Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو: صحرائی ٹیلوں سے وادیوں تک قدرتی تنوع کی ایک منفرد دنیا

امام ترکی بن عبداللہ ریزرو کی حدود پانچ انتظامی ریجنوں تک پھیلی ہوئی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے شمال مشرق میں واقع امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو 91 ہزار 500 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ مملکت کا دوسرا بڑا رائل ریزرو ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اِس ریزرو کی حدود پانچ انتظامی ریجنوں تک پھیلی ہوئی ہیں جن میں الجوف، حائل، حدودِ شمالیہ، قصیم اور مشرقی ریجن شامل ہیں۔ یہ ریزرو اپنے متنوع قدرتی مسکنوں کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔
یہ ایک وسیع جغرافیائی علاقے پر مشتمل ہے جس میں متنوع جغرافیہ اور قدرتی پناہ گاہیں شامل ہیں۔ ریتیلے ٹیلے، میدان، پہاڑ، گھاس کے میدان اور وادیاں ہیں جو یہاں کی نباتاتی اور جنگلی حیات کے تنوع کو مزید بھرپور بناتے ہیں۔
ریزرو میں ریتیلے ٹیلے سب سے بڑے حصے پر پھیلے ہوئے ہیں اور یہاں صحرائی پودوں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ وادیاں اور موسمی آبی راستے پودوں کی نشوونما کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں۔
اس ریزرو کی قدرتی دولت یہاں کی نباتاتی زندگی میں بھی نظر آتی ہے جس میں درجنوں پودوں کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں اقسام شامل ہیں۔

 مختلف ماحولیاتی نظام جنگلی حیات کے لیے متعدد قدرتی پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جن میں ممالیہ، پرندے، رینگنے والے جانور شامل ہیں۔ یہ ریزرو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اس تنوع کے تحفظ اور اسے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ جس میں قدرتی پناہ گاہوں کی بحالی، نباتات کی ترقی، پودوں اور جنگلی حیات کی انواع کی دوبارہ آباد کاری کے پروگرام شامل ہیں۔
ان پروگراموں میں انسانی سرگرمیوں کو منظم کرنا شامل ہے تاکہ ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم ، قدرتی وسائل کا تحفظ اور  پائیدار انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

علاوہ ازیں سعودی گرین انیشیٹو کے قومی اہداف کے مطابق ریزرو نے صحرائی جنگلات کے منصوبوں کے ذریعے چھ لاکھ سے زیادہ درخت لگائے ہیں جس کا مقصد 2030 تک کی شجرکاری مہم میں 60 کروڑ سے زیادہ درخت لگانا ہے۔
ریزرو میں 2018 میں ہریالی کی شرح 1.4 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جو بڑھ کر 8.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

 

شیئر: